
مریم فاروقی
تم اپنے آپ کو کیوں تھکا رہے ہو ؟؟؟
لوگوں کو راضی کرنے کی خاطر ،لوگوں کے مطابق بننے کی خاطر ؟؟
کیوں اپنی زندگی کے بے ہنگم سے پلانر بنا بنا کر تھک رہے ہو؟
رک جاؤ نا
سنو تم اپنے آپ کو اس کےمطابق کیوں نہیں کرلیتے،جس نےتمہیں پیدا کیا جس نے تمہارےاعضاء بنائےجس نے تمہیں زندگی دی ۔عقل دی، شعور دیا ،علم دیا ،قرآن دیا ،سنت دی ،حکمت و دانائی دے کر اشرف المخلوقات بنایا۔ اپنا نائب بنایا۔
کیوں تمہیں لگتا ہے کہ تم اللّہ کو چھوڑ کر بہترین زندگی گزارسکتے ہو؟
لوٹ آؤ اسی رب کی طرف جس نے تمہیں تمہاری اس زندگی سےنوازاجس کے مالک تم خود کوسمجھتےہو؟
جب ہم کسی بھی انسٹیٹیوٹ میں ہوتے ہیں اور ہم مالک کی بات مان کر اس کی مرضی کے مطابق رہتے ہیں تو بڑے خوش و خرم رہتے ہیں۔ ہمارا تعلق بہت اچھا ہوتا ہے، ہم بات کہنے میں ہچکچاتے نہیں ۔ ہم اس کا ہر کہا خوش دلی سے مانتے ہیں اور پھر جب ہمارا مالک ہماری تابعداری کو دیکھا ہے تو ہمیں مزید انعامات و اکرام سے نوازتا ہے۔ ہمارا دل مزید باغ باغ ہوجاتا ہے ۔
تو دیکھو یہ حال تو دنیاکے کسی بھی ادارے کی اتھارٹی میں ملتا ہے ہمیں۔
لیکن جب ہم" اللہ "اس پوری دنیا کےمالک کی تابعداری کی بات کریں تو سوچیں وہ رب ہماری زندگی کو کتنا خوبصورت بنادیں گے۔
ناجانے کون کون سے انعامات سے نوازیں گے جن کا ہم تصورکرکے حیران ہوجائیں گے۔




































