
ہاجرہ عبدالمجید
جوشخص غصےکی کیمسٹری کوسمجھتاہو وہ بڑی آسانی سےغصہ کنٹرول کرسکتا ہے۔
”ہمارے اندرسولہ کیمیکلز ہیں، یہ کیمیکلز ہمارےجذبات، ہمارے ایموشن بناتے ہیں۔ ہمارے ایموشن ہمارے موڈز طے کرتے ہیں اور یہ موڈز ہماری شخصیت بناتے ہیں“
ہمارے ہرایموشن کا دورانیہ 12 منٹ ہوتا ہے۔ مثلاً غصہ ایک جذبہ ہے،یہ جذبہ کیمیکل ری ایکشن سے پیدا ہوتا ہےمثلاًہمارے جسم نے انسولین نہیں بنائی یا یہ ضرورت سے کم تھی۔ ہم نے ضرورت سے زیادہ نمک کھا لیا۔ ہماری نیند پوری نہیں ہوئی یا پھر ہم خالی پیٹ گھرسے باہر آ گئے۔ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا ؟ ہمارے اندر کیمیکل ری ایکشن ہوگا۔ یہ ری ایکشن ہمارا بلڈ پریشر بڑھا دے گا اور یہ بلڈ پریشر ہمارے اندرغصے کا جذبہ پیدا کر دے گا۔
ہم بھڑک اٹھیں گے لیکن ہماری یہ بھڑکن صرف 12 منٹ طویل ہو گی۔ ہمارا جسم 12 منٹ بعد غصے کو بجھانے والےکیمیکل پیدا کر دے گا اوریوں ہم اگلے 15منٹ میں کول ڈاؤن ہوجائیں گے، چنانچہ ہم اگرغصے کے بارہ منٹوں کومینیج کرنا سیکھ لیں تو پھر ہم غصے کی تباہ کاریوں سے بچ جائیں گے۔
ہمارے چھ بنیادی ایموشن ہیں، غصہ ،خوف، نفرت،حیرت‘ لطف(انجوائے)اوراداسی ان تمام ایموشنز کی عمرصرف بارہ منٹ ہو تی ہے۔ ہمیں صرف بارہ منٹ کیلئے خوف آتا ہے۔ ہم صرف 12 منٹ قہقہے لگاتے ہیں۔ ہم صرف بارہ منٹ اداس ہوتے ہیں۔ ہمیں نفرت بھی صرف بارہ منٹ کیلئے ہوتی ہے۔ ہمیں بارہ منٹ غصہ آتا ہے اورہم پر حیرت کا غلبہ بھی صرف 12 منٹ رہتا ہے۔
ہمارا جسم بارہ منٹ بعد ہمارے ہرجذبے کو نارمل کر دیتا ہے، آپ ان جذبوں کو آگ کی طرح دیکھیں۔ آپ کے سامنے آگ پڑی ہے۔ آپ اگر اس آگ پر تھوڑا تھوڑا تیل ڈالتےرہیں گے۔ آپ اگراس پر خشک لکڑیاں رکھتےرہیں گے تو کیا ہو گا ؟ یہ آگ پھیلتی چلی جائے گی، یہ بھڑکتی رہے گی۔
ہم میں سےزیادہ ترلوگ اپنے جذبات کو بجھانے کی بجائے،ان پر تیل اور لکڑیاں ڈالنے لگتے ہیں چنانچہ وہ جذبہ جس نے 12 منٹ میں نارمل ہوجانا تھا وہ دو دو تین تین دن تک وسیع ہوجاتا ہے۔ ہم اگردو تین دن میں بھی نہ سنبھلیں تووہ جذبہ ہمارا طویل موڈبن جاتا ہے اوریہ موڈ ہماری شخصیت، ہماری پرسنیلٹی بن جاتا ہےیوں لوگ ہمیں غصیل خان، اللہ دتہ اداس، ملک خوفزدہ، نفرت شاہ، میاں قہقہہ صاحب اورحیرت شاہ کہنا شروع کر دیتے ہیں۔
وجہ صاف ظاہر ہے۔ جذبے نے بارہ منٹ کیلئے ان کے چہرے پر دستک دی لیکن انہوں نےاسے واپس نہیں جانے دیا اوریوں وہ جذبہ حیرت ہو، قہقہہ ہو، نفرت ہو، خوف ہو، اداسی ہو یا پھرغصہ ہو وہ ان کی شخصیت بن گیا۔ وہ ان کے چہرے پر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے درج ہو گیا۔یہ لوگ اگر وہ بارہ منٹ مینیج کرلیتے تو یہ عمر بھر کی خرابی سے بچ جاتے۔ یہ کسی ایک جذبے کے غلام نہ بنتے۔ یہ اس کے ہاتھوں بلیک میل نہ ہوتے لیکن ہم سب بارہ منٹ کے قیدی ہیں، ہم اگر کسی نہ کسی طرح یہ قید گزارلیں تو ہم لمبی قید سے بچ جاتے ہیں ،ورنہ یہ 12 منٹ ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتے۔
جب بھی کسی جذبےکےغلبےمیں آئیں تو میں سب سے پہلے اپنا منہ بند کر لیں، زبان سے ایک لفظ نہیں بولیں ، قہقہہ لگانے کی بجائے صرف ہنسیں اور ہنستے ہنستے کوئی دوسرا کام شروع کر دیں۔ خوف، غصے، اداسی اور لطف کے حملے میں واک کیلئے چلے جائیں ۔ غسل کرلیں ، فون کرلیں، اپنے کمرے اپنی میز کی صفائی شروع کر دیں ۔ اپنا بیگ کھول کربیٹھ جائیں اپنےکان اورآنکھیں بند کرکےلیٹ جائیں ، یوں بارہ منٹ گزرجاتے ہیں، طوفان ٹل جاتا ہے،عقل ٹھکانے پرآجائے اورفیصلے کے قابل ہوجائیں ،آسمان گرجائے یا پھر زمین پھٹ جائے، منہ نہ کھولیں خاموش رہیں اورسونامی خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہووہ خاموشی کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ وہ بہرحال پسپا ہوجاتاہے۔ آپ بھی خاموش رہ کر زندگی کےتمام طوفانوں کو شکست دے سکتے ہیں۔




































