
گل صنوبر
شوہر کی وفات کے بعد تو جیسےعالیہ بیگم کا دل زندگی سےاچاٹ ہو گیا تھا۔زندگی سےشناسائی تھی توصرف اپنے بچوں کی وجہ سےان ہی کو دیکھ
کر جیتی تھیں ۔ بچوں کی خوشی ہی ان کی خوشی تھی۔ بڑھاپے کی کمزوریوں نے قدموں میں شدید لڑکھڑاہٹ پیدا کر دی تھی ۔ ہائے بڑھاپا برا ۔۔۔ آپا کہتے ہوئے وہ اٹھیں راہداری سے گزرتے ہوئے دیکھا کہ ان کے چاروں بچے بڑے ہال میں کسی بحث و مباحثے میں مشغول ہیں۔ چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ ایک دوسرے پر برہم ہیں۔
اچانک آوازآئی:امی کوتم کیوں نہیں رکھ لیتے؟عالیہ بیگم کےقدم وہی ٹھٹک کررہ گئے۔ یہ عالیہ بیگم کےبڑے بیٹے کی آواز تھی جو چھوٹے بیٹے کو ماں کو اپنے ساتھ رکھنے کی ہدایت کر رہا تھا تو اس پر جواب آتا ہے کہ میری بیوی کا مزاج تو آپ کو معلوم ہے کہاں گزارا ہو سکتا ہے ؟بھائی آپ خودکیوں نہیں رکھ سکتے ؟ آپ بڑے ہیں ،زیادہ حق آپ کابنتا ہے۔۔جواب آتا ہے۔۔ تمہاری بھابھی کی نوکری کا مسئلہ ہے ۔
امی کی دیکھ بھال صحیح طریقےسےنہیں ہوسکے گی۔اب رہ گیا درمیان والا بیٹا ان کی معذرت کی وجہ ان کاچھوٹا سا گھر تھا۔بیٹی نےبھی معاشرے کا رونا رو کے دو ٹوک جواب دے دیا کہ بیٹوں کے ہوتے ہوئے ماں بیٹی داماد کے گھر کیسے رہ سکتی ہے؟ ویسے بھی شادی کے بعد ماں بیٹیوں کی نہیں بیٹوں کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ ان کے الفاظ عالیہ بیگم کے اوپر جیسے بجلی سی گرا رہے تھے ۔ایک ایک قدم من من کا ہو گیا،وہ اپنی جگہ ساکت ہو گئیں کیونکہ ان کی شناسائی دھوکاکھا چکی تھی۔گھر بیچنے کا فیصلہ پکا تھا۔
عالیہ بیگم نے اپنا عالی مقام شاید اسی دن کھو دیا تھا جب انہوں نے اپنی ساری جائیداد اپنےبچوں میں تقسیم کرکے خود کو ہلکا پھلکا کر دیا تھا۔ ادھر بچوں نے بھی مسئلے کا حل نکال کر خود کو ہلکا پھلکا کر دیا۔ فیصلہ یہ ہوا کہ ماں کو اولڈ ایج ہوم منتقل کر دیا جائے ہر ہفتے باقاعدگی سے ان سے ملنے آیا جائے اور ان کی ہر ضرورت کا خیال بھی رکھا جائے لیکن یہ سلسلہ کچھ عرصے ہی چلا ۔اس کے بعد شناسائی کی یہ ڈور ٹوٹ گئی ۔
عالیہ بیگم ہر روز بچوں کا انتظار کرتے کرتے تھک گئیں اور سخت بیمار ہو گئیں۔ اسی بیماری کی حالت میں بچوں کو اطلاع دی گئی کہ اپنی ماں سے آ کر مل لیں۔ بچے جیسے ہی قریب المرگ ماں کے پاس پہنچے تو عالیہ بیگم کی بے نور آنکھوں میں روشنی سی آگئی ۔ چہرے پر شناسائی کی ایک لہر دوڑ گئی انہوں نے کچھ بولنا چاہا مگر آواز حلق میں ہی اٹک گئی اور آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کیونکہ روح قفس عنصری سے پرواز کر چکی تھی۔




































