
رملہ کامران / کراچی
بالآخر تربیت گاہ کا وہ دن آہی گیا جس کی میں شدت سے منتظر تھی۔ ہم سب نے خوب تیاریاں کر رکھیں تھیں، سب سامان رات کو ہی تیار کر رکھا تھا۔ آج
موسم بھی خوش گوار معلوم ہے، رات میں بمشکل ہی نیند آئی تھی اور صبح سویرے ہی آنکھ کھل گئی۔ جلدی جلدی سارے کاموں کو ختم کیا۔ بیک کا ایک اور بار اچھی طرح جائزہ لیا، جلد از جلد ناشتہ ختم کیا اور تیار ہوکہ انتظار میں بیٹھ گئی۔ پتا چلا ابھی گاڑی کو آنے میں پندرہ منٹ ہیں۔ بس پھر کیا تھا سوچا مزید اشیاء رکھ لی جائیں ، ابھی اسی کام میں مصروف تھی کہ ہارن کی آواز سنائی دی۔ جتنی چیزیں رکھی تھیں انہیں وہیں چھوڑ کے تیزی سے زپ بند کی، بھاگی بھاگی گاڑی میں بیٹھی گئی۔
تقریباً آدھے گھنٹے میں ہی ہم وہاں پہنچ گئے تھے، دیکھا تو سب پورے زور و شور کے ساتھ تیاریوں میں مصروف ہیں، کوئی کرسی پہ چڑھا چارٹ پیپر کو ٹیپ سے لگانے کی کوششوں میں لگا ہے تو کوئی اسٹالز کو سیٹ کررہا ہے غرض ہر کوئی کاموں میں مشغول تھا۔ ہم سب بھی کچھ دیر بعد ان ہی میں نظر آنے لگے۔اللہ اللہ کرکے ہم سب کو گروپس میں بٹھایا گیا اور ہدایات دی گئیں جو کہ ہم سب نے پوری توجہ سے سنیں تھیں البتہ تربیت گاہ کے آخر تک سوائے ایک دو کے باقی ساری ہمارے ذہن سے محو ہوچکیں تھیں۔ اس کے فوراََ بعد ہی سب نے مل کر پریزنٹیشن کی ڈسکشن کی۔ بہت اچھا لگا جب میں نئے افراد سے متعارف ہوئی اور تھوڑے بہت اپنے آئیڈیاز بھی شئیر کیے جس سے سب نے مل کے کچھ پریزنٹیشن کی تیاری کرلی تاہم فوراََ ہی اعلان ہوگیا کہ پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہورہا ہے ۔
ورنہ ہم اتنے پرجوش تھے کہ پوری تیاری کر کے ہی اٹھیں لیکن خیر ہم بھی اٹھ گئے۔ تلاوت ہوئی اور پھر زون جنوبی کی ناظمہ کا خطاب ہوا جو ہم نے بہت پرجوش انداز میں سنا۔ انہوں نے واقعی بہت اچھا خطاب کیا ۔ کھانے و نماز کے وقفے کے بعد اگلا سیشن تو بہت ہی زیادہ غور سے سننے والا تھا اور جب میں اپنی دوستوں کے ہمراہ بیٹھی تو ارادے تو نہ تھے اتنا غور سے سننے کے لیکن جب وہ بولنا شروع ہوئیں تو خود بخود دلچسپی بڑھ گئی اور پوری طرح ان کی باتوں میں ڈوب ہوگئی ۔ارے ارے آپ کو عنوان تو بتایا ہی نہیں، یہ ورک شاپ فکر آخرت پر تھی اور اس کی ہر ہر بات سن کے رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے، دل میں خوف بڑھ رہا تھا کہ وہ دن جب مواقع ختم ہو جائیں گے اور صرف حساب لیا جائے گا۔ ہر ہر عمل کی جواب دہی ہوگی۔ اس میں تو اگر وہ جزاک اللہ کہہ کہ نہ اٹھتیں تو میں تو اتنی محو ہوچکی تھی کہ اردگرد کا ہوش ہی نہیں تھا۔ اس کے بعد حیا پر سیشن ہوا جس میں بہت سی نئی معلومات کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے خلاف بہت بڑی سازش کی جارہی ہے اور جس میں ہم باآسانی گرتے چلے جارہے ہیں۔ یہ بھی ختم ہوا، نماز و اذکار کا وقفہ ہوا۔ اپنی بیٹھک میں تو مزہ ہی آگیا، جب اپنی ناظمہ کے ساتھ بیٹھ کے تعارف کے ساتھ ساتھ چائے کا بھی خوب لطف اٹھایا۔ اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی پھر ایک اور سیشن ہوا آرگنائزیشن مینجمنٹ پر جس میں جمیعت کے نظام کے بارے کچھ ایسی باتیں سمجھ میں آگئیں جو شاید اگر یہ ورک شاپ نہ ہوتی تو مجھے کبھی سمجھ ہی نہ آتیں۔
محاسبہ کیسے کرنا ہے؟؟ جمیعت کیسے کام کرتی ہے؟؟ اور اسی طرح کی بہت ساری باتیں۔ اس کےبعد بہت دھواں دار سکیٹ پیش کی گئی۔ وہی جس کا پورے دن سے شدت سے انتظار تھا اور جو آنے کا نام ہی نہ لے رہی تھی، بالآخر آہی گئی۔۔۔۔
پورے جوش و خروش کے ساتھ وہ دیکھنے بیٹھے، ہر جگہ روشنیاں مدھم کردی گئیں،بس دل چاہا کہ یہ دیکھتے ہی رہیں،ختم نہ ہو جس طرح انہوں نے کامیاب ایکٹنگ کی تھی البتہ افسوس کہ زیادہ دیر کی نہ تھی اور فوراً ہی ختم ہوگئی۔ پھرنماز و کھانے کا وقفہ ہوا اور چھت پر بیعت بازی کا تو اپنا ہی مزا تھا۔ ایسے ایسے مزاحیہ شعر سننے کو ملے کہ ہنس ہنس کہ برا حال ہوگیا۔ بالآخر دن کا اختتام ہوا۔بہت جلد ہی دن ختم ہوگیا جس کے بعد اگلا دن بھی کچھ زیادہ دیر کا نہ تھا۔ تلاوت کے بعد ورزش کروائی گئی جو صبح کے وقت کی وجہ سےکسی کو بھی اچھی نہیں لگ رہی تھی لیکن اس کے علاؤہ کوئی چارہ بھی نہ تھا۔
ناشتے کے بجائے ورک شاپ رکھ دی گئی جس میں لگ تو رہا تھا کہ سبھی سورہےہوں گےکیونکہ رات دیر تک کھیلنےاورخوب محفلیں جمانے کے بعد اب سب کو نیند ہی آرہی ہوگی لیکن ہوا کچھ یوں کہ انہوں نے اتنی مختصر اور اچھے انداز میں بات کی اور اس طرح بولیں کہ پھر تو نیند کا دور دور تک اتا پتا نہ تھا بلکہ مجھے تو اس سیشن سے بہت سی اہم باتیں بھی معلوم ہوئیں۔
ناشتے کے وقفے کے بعد دو تین اور سیشن بھی ہوئے جن میں کچھ اور الجھنیں ختم ہوئیں۔ فلیگ ایکٹویٹی میں تو جس طرح سے ہم نے جھنڈا بنا کر دیا اس کا تو جواب ہی نہ تھا لیکن نہ جانے کیوں جج کو وہ پسند نہ آیا خیر پھر پریزنٹیشن کے بعد تربیت گاہ کا اختتام ہوا۔معلوم نہ تھا یہ قیمتی اور خوبصورت لمحات پلک جھپکتے ہی گزر جائیں گے اور پھر صرف یادیں ہی یادیں رہ جائیں گی۔۔۔۔البتہ یہ ضرور معلوم تھا کہ یہ خوبصورت لمحات پھر کبھی ہماری زندگی میں نہ آئیں گے۔
کچھ یادیں ہیں ان لمحوں کی
جن لمحوں میں ہم ساتھ رہے
خوشیوں سے بھرے جذبات رہے
اک عمر گزاری ہے ہم نے
جہاں روتے ہوئے بھی ہنستے تھے
کچھ کہتے تھے کچھ سنتے تھے
ہم روز صبح جب ملتے تھے
تو سب کے چہرے کھلتے تھے
پرلطف وہ منظر ہوتا تھا
سب مل کر باتیں کرتے تھے
ہم سوچ کر کتنا ہنستے تھے
وہ گونج ہمارے ہنسنے کی
اب اک پرانی یاد بنی
یہ باتیں ہیں ان لمحوں کی
جن لمحوں میں ہم ساتھ رہے




































