
لبنی ثاقب / کراچی
"تانیہ جلدی کروکھانا بنالو۔۔۔۔ گیس چلی جائے گی"تانیہ کی ساس ریحانہ بیگم نے کہا۔
ارے امی ابھی تو 8:00 ہی بجے ہیں، ابھی تو ناشتہ کریں گے۔ آپ کھانا کھانے کی بات کر رہی ہیں" ۔
جی بیٹا جی گیس نے کھانا بنانےکے وقت ختم ہوجاتی ہےپھرکیا کروگی،عاقب کو تو باہرکاکھانا بھی نہیں پسند۔"ریحانہ بولیں۔
جی یہ تو ہے، بہت مشکل ہورہی ہے،کیا کریں پکانا مشکل،کھانا گرم کرنا مشکل یہی تو مسئلہ ہے،میں تو پریشان ہو گئی ہوں۔ کیا کروں کچھ پہلے سے پکا بھی ہوتو گرم کرنے کا مسئلہ بھی توہے، گیس جو نہ ہو اور ہمارے گھر مائیکروویو مشین بھی نہیں۔ میں آج ہی عاقب سے مائیکرو ویو کی فرمائش کروں گی۔
تانیہ نے کہا۔
بہوشرم کرو۔۔ مشکل سےکماتا ہےمیرا بیٹا، تم اتنا خرچ کروارہی ہو"ریحانہ بیگم برامناتے ہوئے بولیں۔
ہا ہا امی آپ بھی نہ۔۔۔۔ بہو ہوں تو ایسا کہہ رہی ہیں آپ ۔۔۔۔ بیٹی ہوتی تو کہتیں ہائے میری بیٹی اتنی پریشان ہے، بیٹی تم اپنےشوہر سے بولو سیلنڈریا مائیکرو ویو خرید کے لےآؤ" تانیہ ریحانہ بیگم سے ہنس کربولی۔
"ارے میرا مذاق اڑا رہی ہو بہو۔ تم تو بہت تیزہو یسا نہیں سمجھتی تھی میں تمہیں ۔۔۔ریحانہ بیگم بولیں۔
"ارے نہیں امی میں تو مذاق کررہی تھی ۔اصل میں گیس نہیں ہوتی بہت مشکل ہوتی ہے تو تنگ آکریہ فرمائش کردی ، ورنہ میں بھی فضول خرچی کی قائل نہیں "۔
"اچھا اچھا چلو چھوڑو اس بات کو یہ بتاؤ گیس کی بندش کیوں ہوتی ہے،عوام کواتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،کچھ اندازہ ہے تم کو ریحانہ بولیں ۔
جی دیکھیں امی گیس گیس لوڈ شیڈنگ متعددوجوہات کی بناء پر ہوسکتی ہے۔
جیسے جیسے سردیوں کا موسم قریب آتا ہے، گیس کا دباؤ کم ہوتا جاتا ہے ، جس کی وجہ سے بہت سے علاقوں میں گیس کی بندش ہوسکتی ہے۔
سردیوں میں گیس کی بندش کی جاتی ہے، اسی وجہ سے کھانا اور ناشتہ تیار کرنا اتنا مشکل ہوجاتا ہےکہ سب پریشان ہو کہ رہ گئے کوئی متبادل ڈھونڈتا ہے کہ کسی طریقہ سے کھانا بنے یا گرم ہو ؟ تانیہ بولی۔
اچھا میں توسمجھی جان بوجھ کر حکومت تنگ کرتی ہے اورگیس کی لوڈشیڈنگ کردیتے ہیں ہم کوپریشان کرنے کے لیے۔ یہ لوگ کوئی حل کیوں نہیں نکالتے کوئی آسانی کیوں نہیں کرتے۔ جیسے رمضان میں اوقات کار مقرر کرتے ہیں۔ گیس سحری افطاری کےدوران نہیں جاۓ گی۔ ریحانہ بیگم نے کہا ؟ "کیا پتا اس کا حل کیوں نہیں نکالتےعوام کو چاہیے متحد ہو حکومت پر دباؤ ڈالے کہ گیس کی بندش کے اوقات کار ایسے بنائیں کہ کھانا پکا سکیں۔ اب تو مسائل ہی مسائل ہیں ہر طرف۔ کس کس کو روئیں۔ "۔ تانیہ نے آہ بھر کے بولی۔۔ چلو تم پریشان نہ ہو ناشتہ کر کے کھانا جلد ہی بنا لینا کہ گیس نہ چلی جائےمیں جاتی ہوں "
ہمارے عہد کا یہ المیہ ہے
اجالے تیرگی سے ڈر گئے ہیں




































