
شئیما بلال
حصہ اوّل
ہم آزاد ہونا چاہتے ہیں۔ یہ کیسا ملک ہے جہاں گیس اور بجلی نہیں ہے۔ دل تو چاہتا ہےاس وطن کو چھوڑ کر باہر چلے جائیں۔ ہر روز کا کوئی نہ کوئی نیا
مسئلہ اب تو معمول بن گیا ہے۔
صدیوں سے ہیں جو چمن کے مالی وہ پوچھتے ہیں
ہماری محنت کا یہ صلہ ہے ؟؟ کہوں میں کیسے کہ بہار آئی
ملک چھوڑنے کی باتیں کرنے والوں کو احساس ہی نہیں کہ آزاد ملک کتنی بڑی نعمت ہے۔ آزادی کی قیمت ہم اس دارلحرب سے سمجھتے ہیں۔ شام ارض مقدس کا حصہ ہے۔ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب ارض مقدس سے خیر اٹھ جائے گی تو دنیا سےخیر اٹھ جائے گی۔
50 برس قبل 1971 شام کی فوج کے ایک سپاہی نے نہایت چالاکی اور مکاری سے شام پر قبضہ کر لیا ۔ایک سنی اکثریت ملک کے اوپر شیعہ حکمران مسلط کر دیے گئے۔ عوام ناجانے کب سے ظلم و ستم برداشت کر رہے تھے۔ جب حق کی بلند ہوتی آواز کو بند کر دیا جائے۔ تواس قوم کو اپنے انجام سے خبردار ہو جانا چاہیے ۔صرف پیسے اور اقتدار کی حوس انسان کو اتنا اندھا کر دیتی ہے کہ وہ آخرت کے بدلے دنیا کا سودا کر لیتا ہے۔ یہی بات قرآن نے کچھ ان الفاظ میں بیان کی ہے۔
اُولِئكَ الَّذِيُنَ اشْتَرَوا الضَّلْلَةَ بِالْهُدْى وَالعَذَاب بِالْمَغْفِرَةِ
ترجمہ
یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نےگمراہی کے بدلے ہدایت کو خریداراورعذاب کے بدلے بخشش کو۔ (البقرہ ۱۷۵)
آمریت نے اگلہ مرحلہ پکڑا جہاں باپ کی 30 سال کی حکومت،وقت اجل نےپوری کی اورظلم کی نئی شاخ نکلی 2000 میں بشارالاسد لندن میں آنکھ کا ڈاکٹر بن رہا تھا اور باپ کی موت کی خبر ملتے ہی فوراً شام پر قبضہ کرنے کے لیےآگیا۔ ادھراُس کےآس پاس کےتمام ممالک لبنان، عراق وغیرہ کےنظام درہم برہم ہو رہے تھے۔ ادھر بشار کو اپنے اقتدار کی فکرلاحق ہونے لگی۔ 11 برس یونہی گزرگئے اور بالاخر 2011 میں جنگ کا آغاز ہوا۔ مارچ میں نویں جماعت کا طالب علم معاویہ نامی لڑکے نے دیوار پر صرف ایک جملہ لکھا۔۔۔
اب تمہاری باری ہے ڈاکٹر۔۔۔ فیصلہ ہوا کہ ایسی عبرت ناک سزا دی جائےکہ دوبارہ کسی کی جرات نہ ہو یہ کرنے کی۔ لیکن جب قسمت تختہ الٹنے کو آئے تو کس کی چل سکتی ہے۔ اب ملک میں ہر طرف معاویہ اور اس کے ہم جماعتوں کے لیے جلوس نکلنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے شام کی عوام کی مزاحمت بڑھ گئی اور بڑے شہروں میں سڑکوں پر نکل آئی۔ ملک میں شدید مزاحمت کو دیکھتے ہوئے پولیس نے معاویہ کو رہا کر دیا ۔لیکن ان کی جو حالت ہوئی ذہنی اور جسمانی تشدد سے اس نے عوام کو آپے سے باہر کر دیا۔ اور یہاں سے یہ جنگ آزادی شروع ہوئی اور ملک میں بیرونی طاقتوں نے بھی دخل اندازی شروع کر دی۔بیرونی نے دخل دینا شروع کر دیا۔ اور یہ محکوم ملک دیکھتے ہی دیکھتے میدان جنگ بن گیا۔ ایک طرف حزب الشیطان بھرپور طاقت جنگی سامان ،زیادہ نفری ، جدید اسلحہ، ٹیکنالوجی، تمام اسباب کے ساتھ اور دوسری طرف حزب الله صرف اپنے ایمان کے ساتھ اپنی قربانیوں کے ساتھ الله کی سرزمین کے محافظ۔
اِنَّ اللَهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ انْفُسَهُمْ وَامْوَالَهُمْ بِانَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُوْنَ فِىْ سَبِيْلِ اللهِ فَيَقْتُلُوْنَ وَیقْتَلُوْنَ
ترجمہ: بلاشبہ اللہ تعالی نے مسلمانوں سے ان کی جانوں کو اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں جس میں قتل کرتے ہیں اور قتل کئے جاتے ہیں۔
(التوبہ۱۱۱)
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
تقریباً 2 لاکھ کے قریب اپنے پیاروں کو خاک کی چادر تلے بسیرا کروایا ۔ کوئی یتیم ہوا تو کوئی بیوہ کسی نے لخت جگر کے چہرے پر ہاتھوں سے مٹی ڈالی۔ تو کوئی بے آسرا ہوا۔ 14 ملین لوگ اس جنگ کا شکار ہوئے اور دربدر ہو گئے۔ قحط نے زندہ لوگوں کی زندگی اجیرن کر دی اور بالآخر 8 دسمبر 2024 کو الله نے ان کی قربانیوں اور مسلسل جدو جہد کے بدلے وطن کو آمریت سے آزاد کرا دیا۔ ایک نظام حکومت انجام کو پہنچا اور ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔
یہ تھی اصل غلامی جب حکومت ایک ہی خاندان میں گردش کرنے لگی اس نےاپنے مفادات کے لیے اقتدار کے لئے کروڑوں لوگ اجاڑ دئے۔ ہمارا وطن پاکستان بھی کتنی بڑی نعمت ہے پھر کیا ہوا اگر تھوڑی سے آسائش کم ہے۔ ہمیں اندازہ بھی نہیں ہم کتنے خوش قسمت ہے۔
نہ کسی کا خوف، نہ کوئی غم
آزاد ہیں ہم، آزاد ہیں ہم




































