
بقلم نگہت سلطانہ
لندن کی اولڈ بیلی عدالت میں یہ مقدمہ تو سات آٹھ ہفتے سے چل رہا تھا۔ لیکن 13 نومبر 24ء کی صبح عدالت میں سماعت کے دوران ایک ایسا لمحہ آیا کہ
جیوری میں بیٹھے تمام ارکان کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا وہ خوفزدہ ہوگئے۔ کٹہرے میں کھڑے عرفان شریف نے وہ کہا جس کا وہ اس سے پہلے انکار کرتا آیا تھا ۔۔۔'اس کی موت میری وجہ سے ہوئی ۔' اس مقدمے کے دوران جیوری نے سارہ کی چھوٹی سی زندگی کے آخری ایام کے دل دہلا دینے والے مناظر الفاظ کی صورت میں عرفان شریف کی زبان سے سنے تھے 'اسے پیٹا گیا، گرم استری کے ذریعے اذیت دی گئی، بیٹ اور راڈ کے ساتھ جسم پر ضربیں لگائی گئیں۔۔۔اور ۔۔۔اور دانتوں سے کاٹا گیا۔۔۔' ۔۔۔۔۔یہ سب کس نے کیا؟ سگے باپ اور سوتیلی ماں بینش بتول نے ۔۔۔اور چچا فیصل ملک اس گھناؤنے ظلم کی سچی فلم کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا رہا اور چپ رہا۔
باپ اور چچا یہ دو لفظ تحفظ اورمحبت کا استعارہ ہیں۔ یہی اپنے آنگن میں کھلے ایک نازک پھول کو اپنے ہاتھوں سے مسل ڈالیں گے تو پھر کون سنے گا اس خوف زدہ بچی کی کہانی کہ ظالم اس اسرائیلی نے رات کے وقت امریکی میزائلوں سے اس کے گھر پر حملہ کیا ۔ بچی خوف کی حالت میں بستر سے اٹھتی ہے، اسے سہارا دینے کو باپ ہے نہ ماں ۔۔۔بھائی بہن سبھی کا خون اس_رائیل کی پیاس بجھانے کے کام آیا۔
یہاں تو اپنے ہی قاتل ہیں۔
کس کو دکھائیں وسطی غزہ میں نصیرات پناہ گزین کیمپ میں ہوئے تازہ قتلِ عام کے مناظرجس میں غیروں کے ہاتھوں سارہ شریف جیسے بہت سے بچے خون میں لت پت ہوگئے۔۔۔
لہو میں تیرتی، آگ میں جھلستی، علاج معالجے کو ترستی، شدید سردی میں گرم کپڑوں سے محروم غزہ کی ہزاروں سارہ شریف ہیں کہ جن کے درد کا فسانہ دنیا کو سنانا باقی تھا
آہ۔۔۔۔۔۔ تو نے عرفان شریف! تو نے تو اس فسانے کا عنوان ہی بدل ڈالا۔۔۔
میرے قارئین کہ رہے ہیں ' قلم اٹھاو خدارا اس درندگی پہ اس المیے پہ کچھ لکھتی کیوں نہیں۔۔۔'
پیارے پڑھنے والو! ایک المیہ تو تمھارے ساتھ بھی ہے۔
پتا ہے کیا ؟ ۔۔
۔۔۔۔ تم قتل و غارتگری کے واقعات دیکھنے سننے کے عادی یوں ہوتے جارہے ہو کہ مظلوم کا درد محسوس کرنا شاید بھول چکے ہو۔
یہ دنیا ایک خوفناک جنگل کیوں بنتی جا رہی ہے ؟ تم اس پہ بھی سوچتے نہیں۔۔
اس المیے کی تخلیق میں بڑا کردار ادا کیا ہے میڈیا نے، خبررساں اداروں نے۔۔یہ لوگ ریٹنگ بنانے کے لیے قتل و غارت کے واقعات میں سنسنی پیدا کرتے ہیں۔ بچیوں اور خواتین کی وہ تصویریں ڈھونڈتے ہیں جن میں ان کا جسم زیادہ سے زیادہ نمایاں ہو۔ عوام کا مزاج بھی ایسا بنا دیا ہے کہ لوگ لپکتے ہیں ایسی خبروں کی طرف ۔۔۔
ہر واقعے پہ کچھ دن تک میڈیا جگالی کرتا ہے۔۔۔لوگ بھی میڈیا ہاؤسز کی ریٹنگ بڑھانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ چند دن یہ خبر سوشل میڈیا پہ خوب دھکے کھاتی ہے اور پھر کوئی نئی خبر نئی سنسنی۔۔۔
دنیا انسانیت سے عاری ہوتی جارہی ہے۔ میڈیا کا تو سر کڑاہی میں اور بیس کی بیس گھی میں ۔۔۔آپ کہیں گے کہ پانچوں گھی میں تو سمجھ آتا ہے یہ بیس کی بیس گھی میں کیسے چلی گئیں۔ تو عرض یہ ہے کہ جب آپ ہر خبر کو بنا سوچے سمجھے سرچ کریں گے، فارورڈ کریں گے۔۔۔ان کی خبریں راتوں رات وائرل ہوں گی۔۔۔تو میڈیا آپ کے حصے کا گھی بھی لے اڑے گا۔ یوں اس کی ساری انگلیاں گھی میں تر بتر ہیں۔
سارہ شریف قتل کیس کی جزیات میں جائے بغیر آئیے آج اس المیے کی جڑ تک پہنچتے ہیں۔۔
آپ کو معلوم ہوگا کہ چھٹی ساتویں صدی عیسوی میں بھی دنیا کے یہی حالات تھے۔ روم اور ایران چونکہ بڑے تھے، لہٰذا چھوٹوں کو نگلنا ان کا شیوہ تھا۔ بالکل ایسے جیسے ہم جنگِ عظیم اول کے بعد سے دیکھ رہے ہیں کہ جو بڑا ہے اس کا پورا حق ہے کہ چھوٹے ممالک خصوصاً تیسری دنیا کے ممالک کو جہاں تک ممکن ہو ،نگل لے، پنپنے نہ دے، پھلنے پھولنے نہ دے۔ہم جس دور کی بات کررہے ہیں،اس دور میں تہذیب کے نام پر بد تہذیبی، ادائے شاہی کے نام پر بہیمیت اور غیرت کے نام پر قتل و غارت کا بازار گرم تھا ۔ عورت یا تو سامانِ تعیش تھی یا پاؤں کی جوتی۔ تاجداروں کے رکیک جذبات کی تسکین کی خاطر ان کے محلوں میں پاؤں کی اس جوتی کو گھنگھروؤں میں قید کر کے اس کے تھرکنے سے جو ماحول پیدا ہوتا تھا، اس میں وہ ہر روز زندہ درگور ہوتی تھی۔ منوں مٹی تلے زندہ داب دینا بھی عام تھا۔ اس سب پر شاہوں کے قہقہے، سرداروں کا غرور، دل والوں کا سرور سب تاریخ میں محفوظ ہے۔
ایسے میں چشمِ فلک نے ایک عجیب منظر دیکھا۔۔ ۔
سنانے والا سنا رہا تھا ، اپنے ہاتھوں سے کئے ایک ظلم کی کہانی سنا رہا تھا۔۔۔
"۔۔۔۔۔۔۔۔وہ پوچھتی جاتی ہے "بابا کدھر چلے گئے تھے؟ کبھی میرا منہ چومتی ہے کبھی بازو گردن کے گرد لے لیتی ہے لیکن میں کچھ نہیں بولتا۔ ایک جگہ جا کر اسے بٹھا دیا اور خود اس کی قبر کھودنے لگا۔۔۔'
محفل میں نمایاں، روشن چہرے والے کی بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں نم ہورہی تھیں۔
'۔۔۔۔۔۔۔۔میری بیٹی نے جب دیکھا کہ باپ دھوپ میں کام کررہا ہے تو اٹھ کے میرے پاس آئی۔ اپنے دوپٹے سے میرے چہرے سے ریت صاف کرنے لگی اور بار بار کہنے لگی بابا چھاؤں میں آجائیں نا، بابا چھاؤں میں آجائیں، گرمی ہے بہت۔ بابا یہ کیوں کھود رہے ہیں؟ ۔۔ساتھ میرا پسینہ اور مٹی بھی صاف کرتی گئی۔ لیکن مجھے ترس نہ آیا۔ آخر جب قبر کھود لی۔ میں نے اسے اس میں دھکا دے دیا ۔اور اوپر مٹی ڈالنے لگا۔ بچی مٹی میں سے روتے ہوئے چھوٹے چھوٹے ہاتھ جوڑ کر فریاد کرنے لگی۔۔۔ بابا نہیں مانگوں گی کھلونے، بابا نانی کے گھر جانے کی ضد نہیں کروں گی۔۔بابا ۔۔۔بابا ۔۔۔۔" محفل میں بیٹھے سبھی وہ لوگ تھے جو روشنی کے ظہور سے پہلے تاریک راستوں کے مسافر تھے۔ مگر اب ہر کوئی ایک ستارے کی مانند تھا۔یہ ستارے بھی دکھی ہوگئے تھے۔ خوبصورت آنکھوں والے کے آنسو تھمنے میں نہیں آرہے تھے۔ داڑھی تر ہوگئی تھی۔
اس کے بعد کیا ہوا؟؟ بات آئی گئی ہوگئی ؟؟ بس اسی واقعے کو لے کر ہر کوئی نکل کھڑا ہوا کہ خوب مرچ مصالحہ لگا کر لوگوں کے لئے کچھ دنوں کے لئے لذتِ سماعت کا سامان مہیا کردیں؟ روشن چہرے والا اور اس کے ساتھی اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے ہوں گے؟ کمیٹیاں بنا دی گئی ہوں گی؟
قارئین ! ان سب سوالوں کا ایک جواب ہے۔۔۔نہیں۔ ۔۔بلکہ انسانیت کے نجات دہندہ نے ایک نظام وضع کیا۔ افراد کی تربیت کی۔ عورت کو فرشِ خاک سے اٹھا کے ماں بیٹی بہن کا تاجِ وقار پہنادیا۔ نسلوں کی تربیت کا اعلیٰ تاج اس کے سر پہ سجادیا کہ ایسے افراد تیار کرو جو کٹھوردل نہ ہوں۔ جو گھر اور قبر میں فرق کرنا جانتے ہوں۔ جینا جانتے ہوں اور جینے دینے کا ہنر آزماتے ہوں اور خاص طور پہ بیٹی کی تربیت پہ تو اتنی بڑی خوشخبری دے دی کہ بیٹیوں کی تربیت و پرورش کرنے والا حشر کے دن میرا ساتھی ہوگا۔۔۔
انسانی جان کو اس قدر محترم ٹھہرایا کہ ایک قتل کرنے والے کو پوری انسانیت کا قاتل قرار دے دیا اور ایک زندگی بچانے والا یوں جیسے سارے انسانوں کو اس نے بچالیا قصاص اور دیت کا قانون نافذ ہوگیا ۔آج مہذب معاشروں میں جو کچھ بھی احترام آدمیت باقی ہے یہ اسی روشن آنکھوں والے کے دیے نظام اور قوانین کی بازگشت ہے۔۔۔
چشمِ فلک نے دیکھا کہ جب تک یہ نظام چلتا رہا، جب تک یہ قوانین نافذ العمل رہے، معاشروں میں بےمثال امن و امان ، ترقی اور خوشحالی کا چلن رہا۔ قاتلوں اور مفسدوں کو کھلی چھوٹ نہیں دی گئی۔
لیکن جب اس نظام کے امین سست ہوگئے۔ ابلیس کے دامِ ہم رنگِ زمیں میں گرفتار ہوگئے تو سمندر پار سے سفید ریچھ اور خوفناک اژدہے چنگھاڑتے ہوئے آئے، انسانی آبادیوں کی بندربانٹ کی ، لہلہاتے کھیتوں کو نذرِ آتش کردیا۔ اور علم کے خزانوں کو بھی جلانے لگے،۔
کروڑوں لوگوں کو قتل کردیا۔ قتل و غارت کا جدید سلسلہ وہیں سے شروع ہوا اور اب تک جاری ہے۔ یہ ریچھ اور اژدہے قوموں پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ کوئی روکنے والا نہیں۔ بچوں کو ذبح کرتے ہیں کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔ یہ خطرناک وبا ایک جگہ کیسے رکتی۔تمام معاشروں میں قتل و غارت کے واقعات رونما ہونا شروع ہوگئے۔
سو آج ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا ایک خوفناک جنگل بنتی جا رہی ہے۔۔۔
پس چہ باید کرد
۔۔۔ہمیں یہ یقین کرنا ہو گا کہ جس ذات نے پیدا کیا ہے اس نے زندگی کا قانون بھی عطا فرمایا ہے۔ اس قانون کو متبرک جان کے اوپر کے طاقچے میں رکھ چھوڑنے کا رویہ غلط ہے۔ بلکہ اسی کی روشنی میں اپنا گھر اپنا معاشرہ تعمیر کرنا ہو گا۔۔
سارہ شریف دنیا سے چلی گئ۔ عرفان شریف اور بتول کیا سزا پاتے ہیں یہ ان کی قسمت۔۔
لیکن۔۔۔
ہمیں کیا کرنا ہے۔۔۔؟
دھیان رکھنا ہے میرے گھر میں میرے معاشرے میں میرے ملک میں کوئ بینش بتول پیدا نہ ہونے پائے کوئ عرفان شریف پنپ نہ سکے کہیں کوئ سارہ شریف سی نازک سی کلی اپنے ہی صیاد کے ہاتھوں مسلی نہ جائے ۔۔#




































