
عریشہ اقبال
زندگی کی کتاب میں شامل ہرایک سطراوران سطروں کی صورت تحریرہرگزکوئی عام شے نہیں اگر تو کوئی شخص اسے عام شے کے طور پر لیتا ہےتو
وہ اس احساس کی منفرد دنیا اور محبت کے رنگوں سے مزین جہاں سےقطعاً ناواقف ہےاوریہی ناواقفیت اس شخص کی زندگی پرغور کرنے کی راہ میں حائل ایک اونچی دیوار بن جاتی ہے اور میں جب کتاب زندگی سے متعلق مزید گہرائی سےسوچنے لگتی ہوں تو گزر جانے والا ہر دور مجھے ایک ایسےسبق آموز کہانی کی صورت محسوس ہوتا ہے جس کے نقوش نہ صرف میرے ذہن پر بلکہ میرے دل کی دنیا پر حکومت کرتے محسوس ہوتے ہیں اور آئندہ آنے والا ہر دور مجھے شر سے خیر اور خیر کو شر سے تبدیل کرنے پرمتوجہ کرتانظر آنے لگتا ہے لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ ایک جانب نگاہوں کا طلسم ٹوٹنے کا عمل ہوتا ہے اور ایک جانب نگاہوں میں حقیقت کی جستجو کا چراغ روشن ہوکر چمکنے لگتا ہےلیکن جانتے ہیں۔
اس چراغ کے روشن ہونے اورطلسم کےٹوٹ جانےکا جوسفر ہے،اس میں بنیادی کردارمسافرکی نگاہوں کا وہ زاویہ ہےجس سےوہ اپنےراستےکا تعین کرتا اور منزل کا انتخاب کرتا ہے، جی ہاں کیونکہ دو لوگ اگر ایک راستے پر چل پڑتے ہیں تو بہت ممکن ہے کہ ایک شخص کو زمین پر صرف کیچڑ نظر آرہی ہو اور دوسرے شخص کی نگاہیں اسی زمین پر موجود کیچڑ کو چھوڑ کر درخت کے اس ساۓ پر آ ٹھہریں کیونکہ ان دونوں مسافروں کی سوچ کا زاویہ مختلف ہے یہی وجہ ہے کہ جوفرد جس زاویے سےسوچتا ہے،اس کی کتاب زندگی میں موجود سطروں میں لکھی ہر تحریرپروہ غور کرتا چلا جاتا ہےاور یوں ہی غورو خوض کرتے ہوئےوہ طالب حق بن جاتا ہے،جہاں اس کو طالب حق بن جانے کی خواہش اپنی گرفت میں لے لیتی ہے،وہی اصلاً اس فرد کا نقطہ آغاز ہوتا ہے ۔ نوجوانی کا دور بھی کسی قیمتی متاع سے کم نہیں کیونکہ اس دور شباب میں جہاں ہر خواہش آپ کے دل میں اپنی جڑوں کو گہرا کردیتی ہے،وہیں انا اور ضد کا وہ بت تعمیر کردیتی ہےجس بت کو غیر محسوس انداز میں آپ پوجنے لگتے ہیں اورپھر یہ خدا کا گھر کوئی بت خانہ بن جاتا ہے۔ اسی بت خانے سے وابستگی جس حد تک گہری ہوتی چلی جاتی ہے، آپ کی نگاہوں کا طلسم ٹوٹنے میں اسی قدر دیر ہوتی چلی جاتی ہے مگر جہاں ایثار ، قربانی ، محبت ، صداقت ، ایمان اور یقین جیسی کیاریاں آپ کے دل کی دنیا میں اپنی جگہ بناتی جاتی ہیں ،وہ دل اتنا ہی پاکیزہ ہوتا چلا جاتا ہے اور پھر وہ خدا کے اس گھر میں کسی خواہش نفس کی مداخلت برداشت نہیں کرتا جہاں وہ مداخلت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
باطن کا انعکاس اور اس سے پھوٹتی نور کی کرن آپ کے اندر وہ قوت پیدا کردیتی ہے کہ آپ ہر شرسے پناہ اورخیرکی طلب میں خود کو سچا پاتے ہیں اور دعاؤں کا وہ ہتھیار اپنے دفاع کے لیے استعمال کرتے ہیں جس ہتھیار کی تعمیر خلوص اور سچائی سے ہوتی ہے جی ہاں زندگی میں بندگی کا درس نہ ہو تو وہ زندگی کہلانے کے قابل نہیں رہتی ،لہذا اپنی زندگی کا انداز اور اس کی کتاب کی سطروں میں لکھی جانے والی ہر تحریر پر گہری نگاہ ضرور ڈالا کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ سے وابستہ ہر شے اس انتظار میں تڑپ رہی ہو کہ اسے احساس کی منفرد دنیا اور محبت کے رنگوں سے مزین جہان کو آباد کرنا ہے زرا سوچیے! آج آپ ہیں کل نہیں ہوں گے مگر آنے والے کل کی حقیقت سے واقفیت حاصل کرنا آپ کی ترجیح ہے یا نہیں ؟
خود سے سوال کیجیے آپ اپنی زندگی میں کیا چاہتے ہیں "سکون یا بے سکونی "اگر سکون چاہتے ہیں تو خالص ہوکر طالب حق بن جائیے اور سکون کو حاصل کرنے کے لیے سکون کو تقسیم کیجیے ۔
کچھ حاصل کرنے کا سب سے بہترین اصول ہی یہی ہےکہ اس شےکو بانٹنا شروع کردیا جاۓ،خوشی چاہتےہیں تو دوسروں کی خوشیوں کا خیال رکھنا سیکھیں ۔
محبت کی پیاس ہےتو دوسروں کو محبت سے سیراب کرنے میں مصروف ہوجائیے،اگر خلوص چاہتےہیں تو اپنے دل کی گہرائیوں سے دوسروں کے حق میں دعائے خیر کریں ۔انہیں ہر شر سے دور کرکے ان کو نفع پہنچانے کی کوشش میں لگ جائیے ۔
یاد رکھیے مومن کی شان یہی ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے معاملات کو رضائےرب کے حصول کی خاطر طے کرتا ہے ۔۔۔
اب یہ بات آپ پر منحصر ہے کہ آپ کی نگاہوں کا زاویہ خیر کا متلاشی ہے یا شر کے طلسم میں جکڑا ہوا ہے جس کو توڑنے میں آپ کس حد تک سنجیدہ ہیں۔




































