
عائشہ عبد الواسع
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سےروایت کرتےہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے جوآپ صلی اللہ علیہ وسلم
کے پاس بیٹھے ہوئے تھے فرمایا: تم لوگ مجھےچھ کام کرنےکی ضمانت دو تو میں تمہیں جنت کی ضمانت دوں۔لوگوں نے پوچھا:وہ چھ کام کیا ہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اپ نے فرمایا وہ یہ ہیں.
نمبر ایک نماز پڑھنا ۔نمبر دو زکوٰۃ دینا۔نمبرتین امانت میں خیانت نہ کرنا۔نمبر چار شرم گاہ کی حفاظت کرنا۔نمبر پانچ زبان کی حفاظت کرنا۔ نمبر چھ پیٹ کی حفاظت نگران کرنا (تر غیب بحوالٔہ طبرانی)
ویسے تو یہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پورے سال عمل کرنےکےلیےہےمگررمضان المبارک کی آمد آمد ہےاور نیکیوں کی سیل لگی ہوئی ہوتی ہے تو انشاءاللہ ان حدیث پر ہم سب عمل کر کے جنت ضرور حاصل کریں گے۔نیکیوں کے موسم بہار میں کوشش کریں کہ ہر نیکی کو انفرادی کے بجائے اجتماعی میں بدل دیں۔
اول وقت میں نماز کااہتمام خشوع وخضوع اوراس کےروح کو سمجھتے ہوئےادا کریں۔سحری سےپہلےتہجد کا ضرور اہتمام کریں۔رمضان المبارک سے اہل نصاب کو زکوۃ ضرور ادا کرنی چاہیے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اپنے مال کی زکوۃ ادا کرو۔
زکوۃ تمہاری روحانی گندگی کو دور کرنے والی شے ہے۔اپنے عزیزو رشتہ داروں سےتعلقات جوڑو ،ان کا حق ادا کرو،سائل، پڑوسی اورمسکین کا حق پہچانو۔(مسند احمد، الترغیب وا لترہیب نمبر1109)
امانت میں خیانت نہ کرنا۔شرمگاہ ،پیٹ اور زبان کی حفاظت و نگرانی کرنا۔ مندرجہ بالا چیزوں پررمضان المبارک جیسےمقدس مہینے میں عمل کرنا بہت آسان ہے۔ اچھی بات کو دوسروں تک پہنچانا، یہ بھی ایک امانت ہےاور اس کی بہترین صورت قرآن سے رابطہ ہے۔دورہ قرآن کا بھرپور اہتمام کرنا چاہیے۔ ایک مخصوص وقت کے لیے سحری سے افطار تک اللہ نے حلال چیز کو بھی کھانے سے منع کیوں کیا ہے تاکہ غریبوں کی تکلیف کو آپ سمجھ سکیں۔
اپنی زبان کو غیر ضروری گفتگو سے پاک رکھیں اور اللہ کے ذکر کو اپنے دل کی گہرائی کےساتھ اپنے زبان پر جاری رکھیں۔ یہ یاد رکھیں ان سب کام کو کرنے کے لیے آپ کے نیتوں میں اخلاص ہونا ضروری ہے۔ اپنی نیتوں کو پاک و صاف رکھیں اور دوسروں کی نیتوں پر شک کرنا چھوڑ دیں۔
یہ بات آپ کو نہیں پتا کہ آپ کی عبادات اللہ تعالی کے یہاں زیادہ قبول کی جاتی ہیں ؟کیا وہ فرد جو کم عبادت اخلاص و نیت کےساتھ کر رہا ہو اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہے۔اپنی زندگی میں کثرت سے توبہ کی عادت ڈالیں۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔"بشارت اس کے لیے ہے جوموت سے پہلے اپنے گناہوں پر نادم ہوکر توبہ کرے اور کلمۂ اسلام پڑھے تو اسے بخش دیا جائے گا۔اللہ تعالی امت مسلمہ کےتمام مسلمانوں کو اس حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرتے ہوئے رمضان المبارک گزارنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے ایمان اور احتساب کے ساتھ تو اس کے وہ سب گناہ معاف کر دیے جائیں گے جو اس سے پہلے سرزد ہوئے تھےاور جس شخص نے رمضان میں قیام کیا (یعنی راتوں کو کھڑے ہو کر عبادت کی) ایمان اور احتساب کے ساتھ،تو معاف کر دیے جائیں گے اس کے وہ قصور جو اس نے پہلے کیے ہوں گےاور جس شخص نے لیلۃ القدر میں قیام کیاایمان اور احتساب کے ساتھ تو معاف کر دیے جائیں گے،اس کے وہ سب گناہ جو اس سے پہلے کیے ہوں گے ۔(متفق علیہ)




































