
ڈاکٹر نادیہ
اسسٹنٹ پروفیسر
شعبۂ اُردو،وفاقی جامعہ اُردو کراچی
کسی بھی زبان کا ادب اس کا قومی تشخص ہوتا ہے۔ کسی قوم ومعاشرے میں مروج رسم و رواج، تہذیب،ثقافت، حالات وواقعات،ترقی و تنزلی غرض
معاشرے میں موجود ہر ایک فکرو عنصر کی جھلک ہمیں اس میں تخلیق ہونےوالےادب میں نظرآتی ہے،جس طرح زبانیں دوسری زبانوں کی آبیاری کرتی ہیں، اسی طرح زبانوں کا ادب دوسری زبان کےادب کو پروان چڑھانے میں معاون ہوتے ہیں جس طرح اردو زبان پر دوسری زبانوں کےاثرات ہیں، اسی طرح اردو ادب میں دیگر ادبیات کا رنگ بھی ملتا ہے۔
تہذیبی مراسم میں زبان اردو ملک ترکی سے قریب ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہےکہ ترکوں نے ہندوستان بھر میں اپنی آمدورفت رکھی۔ یہاں کی تہذیب و ثقافت میں خود کو شامل کیا۔ زبان و بیان کے انداز میں تبدیلیاں کیں اور اردو میں ترکی کےالفاظ کا خوبصورت اضافہ کیا۔ ان تمام تر کاوشوں سے محض سلطنت میں وسعت نہیں آئی بلکہ زبان کا ذخیرہ بھی وسیع ہوا۔
مسلمانوں کی آمد کا یہ سلسلہ محض یک طرفہ نہ تھا بلکہ ہندوستان سے بھی مسلمانوں کی بڑی تعداد استنبول جاکر آباد ہوئی ،اس طرح نہ صرف زبان کا سفر بڑھا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ دونوں اطراف زبان فہمی بھی عام ہوئی۔ساتھ ہی صحافت اور ادب کے میدان میں بھی تغیر وقوع پذیر ہونا شروع ہوا۔ ترکی میں اردو صحافت نے زور پکڑا تو ہندوستان میں ترکی ادب کےتراجم سامنے آنا شروع ہوئے۔ ترکی ادب کو تراجم کی صورت میں ہندوستان میں سب سے پہلے سجاد حیدر یلدرم نے متعارف کروایا۔
یلدرم کا دوسرا افسانہ "نشہ کی پہلی ترنگ" دراصل ترکی افسانہ نگار خلیل رشدی کےافسانے کااردو ترجمہ ہے۔ اس کےعلاوہ ترک ناول نگار احمد حکمت کےناول کا ترجمہ ثالث بالخیر کے نام سے کیا۔ اس ناول میں ترک لوگوں کی مغربی طرز زندگی کو بنیاد بنایا ہے۔ یلدرم دراصل ترک زبان کی نفاست، کشش، شیرینی اور خیالات کی رعنائی کو بہت پسند کرتے تھے۔ یہی انداز انہوں نے اپنی نثر میں برتا۔ خالد ضیاء اوشا کلی کےافسانوی مجموعے“بریازنتاریحی”سے ایک افسانہ “سٹن سیوڈا” کا ترجمہ سودائے سنگین کے نام سے کیا۔ یلدرم نےترجمے میں اصل متن سے بہت سی جگہوں کی تبدیلی کی ہے۔ کرداروں اور جگہ کے نام بھی تبدیل کیے ہیں۔ کہیں کہیں واقعات بھی تبدیل کردیئے ہیں۔
خالد ضیاء اوشکائی کے مختلف تراجم "آہنگ" اور "خدمت" اخبار میں شائع ہوتے رہے۔ "ثروت فنون" رسالے میں آپ کا ناول "عشق ممنوع" اور "نیلا اور سیاہ" سلسلہ وار شائع ہوتے رہے۔
غرض اردو زبان کو ترکی ادب سے روشناس کروانے کا سہرا یلدرم کے سرجاتا ہے کہ انہوں نے اپنےتراجم کے ذریعے اردو ادب کو ترکی ادب کی چاشنی سے متعارف کروایالیکن ترکی ادب یہیں پر نہیں رکا بلکہ اس میں بہت سے لکھنے والوں نے لکھا اور دنیا کا بہترین ادب تخلیق کیا،انہی لکھنے والوں میں ایک نام "اورحان پاموک"کا تھا ان کے ناول "بنی آدم کرمزی" کا اردو ترجمہ "سرخ میرا نام" سے کیا گیا جو کہ جمہوری پبلیکیشنز لاہور سے شائع ہوا۔ اس ناول کو نوبل انعام سے نوازا گیا۔ اس ناول میں ناول نگار نے ایک ایسی فضا تشکیل دی ہے جو انسان کی سوچ کو وہاں پہنچاتی ہے جہاں جانے کا انسان نے پہلے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ اس ناول کا سب سے اہم سوال انسان ہے۔ انسان کیا ہے؟ کیوں ہے ؟ کیسے ہے؟ غرض آج کے دور کے سب سے اہم یعنی انسان کی گم شدہ معنویت کی تلاش اس میں ملتی ہے۔ اورحان کا ایک اور ناول "سفید قلعہ" ہے اس ناول میں وجودیت کے مسائل پر طویل بحث ملتی ہے۔ فلسفہ ، سائنس ، عثمانی دور کے ترک ثقافت ، عوامی اور شاہی رویوں کی بحث ملتی ہے اس کے مترجم محمد عمر میمن ہیں۔ اسی طرح ان کے کئی اور ناول جیسا کہ خانہ معصومیت ،کر،جہاں برف رہتی ہے۔۔۔ ہما انور (مترجم)
ترکی کے ایک ہم عصر ادیب خاقان گوندائے ہیں۔ انہوں نےاپنی ادبی تحریروں میں بیان کےایسے طریقے تلاش کیےہیں جس سےفرد اجتماعی سماجی جبر کا سامنا کرتے ہوئے اپنی صلاحیت کا ادراک کرسکے ،ان کی ادبی زبان طاقتور اور اشتعال انگیز ہے۔ وہ اپنی تحریروں سے قاری کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ سماجی ناانصافیوں پر بھرپور توجہ دے اور سوال اُٹھائے اور بظاہر قائم شدہ اصولوں پرشک کرے۔ آپ کےناول
زیاں،داحا اور انسانی تجارت کی روداد ایلف شفق ترکی ایک ایک مشہورکالم نگار اور ناول نویس ہیں۔ انہوں نے کم و بیش نوناول لکھے جن میں سب سے مشہور چالیس چراغ عشق کے اور ناموس ہے۔ ناموس ایک ترکی ناول ہے۔اسکیندر ، ناموس، ہما انوراورحان کمال کا شمار ترکی کے کلاسک ناول نگاروں میں ہوتا ہے، وہ جدید ترک ناول کےرحجان ساز ادیب ہیں۔ 1950ء کےبعد دو عشروں پر نشان ثبت کرنے والی ترکی کی غربت اور طبقاتی عدم مساوات پر حقیقت پسندی پر مبنی ناول لکھے۔ اس عہد کو ترک ادب کا ایک سنہرا دور کہا جاتا ہے۔
اوہا بیدر کا ناول" ارجوان کیپیسی"جس کا انگریزی میں ترجمہ "دی گیٹ آف جداس ٹری"کےنام سے ہوا اور اردو میں بابِ ارغوان کےنام سے ہوا۔ یہ ناول سماجی تبدیلیوں سے بھری ترکی کی حالیہ تاریخ میں گویا ادبی سفر ہے۔ یہ ایک شاندار ناول جو ترکی کے پچھلے تیس سال کے سیاسی و سماجی پیشوراما کو ادبی نقطہ نگاہ سے دیکھتا ہے۔
اسکندر پالا کا ناول مرگ دربابل عشق در استنبول جس کااردو ترجمہ حمزہ رشیدنےکیا۔ ترک ادب کا ایک شاہکار ناول ہےنرمین یلدرم کا ناول “رویالارانلاتیلماز " جس کا انگریزی ترجمہ "سیکرٹ ڈریم ان استنبول"ہے اس کو اردو میں حمزہ ارشید نے استنبول خوابوں کا تصادم کے نام سے ترجمہ کیا۔ اس ناول میں شہر استنبول کے اسرار پوشیدہ ہیں۔ استنبول جو جدید اور قدیم کے تضادات سے بھرپور شہر ہے، یہاں جدیدیت اور روایت کا ٹکراؤ ملتا ہے۔ یہ ناول اسی خواب اور حقیقت کے درمیان کی دھندلاہٹ پر مشتمل ہے۔
احمد حمدی طانپناری نے “حضور” ناول لکھاجس کا اردو ترجمہ نسرین انجم بھٹی نےشہراطمینان کے نام سے لکھا۔خالدہ ادیب خانم کے ناولوں کا اردو ترجمہ ربیعہ اور دختر سمرنا کے نام سے ہوا۔غرض ابتداء سے اب تک بیش ہا ترکی ناول ہیں جن کے تراجم اردو زبان میں کیے جاچکے ہیں۔ غرض تراجم کی صورت میں دوسری زبان کا ادب اپنی زبان میں ڈھالا جاتا ہے۔ اُردو میں بھی یہ کام بہت تیزی سے کیا گیا۔ عالمی ادب کو تیزی سے اردو میں ڈھالا گیا جس سے اردو کے قاری اور لکھاری دونوں سوچ اور فکر کے نئے انداز سامنے آتے ہیں۔ ابتداء میں جو ترکی ادب ترجمہ ہوئے انہیں مختلف تبدیلیوں کے ساتھ برتا گیا لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا رہا تراجم میں بھی تبدیلی آئی اور متنی مفہوم کو ترجمہ کیا گیا اور مترجم ادب کو اور زیادہ کارگر اور فعال بنایا گیا۔ تراجم کے ذریعے ہی نظریات اور رویوں کا تبادلہ ہوا اور تحاریک نے جہاں زبان و ادب میں کئی طرح کی جہات متعارف کروائیں۔ مغرب سے وجودیت کے اثرات ان ہی ناولوں کے تراجم کی بناء پر اُردو ادب میں شامل ہوئے جس سے ہمارے ادیبوں کو نئے اور متفرق موضوعات میسر آئے عالمی موضوعات نے عالمگیر زمینی حقائق کی نقاب کشائی میں اہم کردار ادا کیا۔ جدید دور میں سائنس اور ٹیکنالوجی نے ہر میدان میں تبدیلی کےعمل کو تیز تر کردیا ہے۔ عالمگیریت کے اس دور میں ترسیل و ابلاغ کے حوالے سے نئے نئے مسائل و مباحث سامنے آرہے ہیں اپنی بقا کے لیے ترقی یافتہ قوموں کے ترقی کے راز سے واقف ہونا از حد ضروری ہے اور اس حوالے سے تراجم نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ عہد حاضر میں ترکی زبان کے ناول کے تراجم نےاردو زبان و ادب کے کینوس کو مزید وسیع کردیا ہے ۔ یقینی طور پر تراجم کا یہ سلسلہ معلوماتی، تہذیبی اور جمالیاتی سطح پر اپنے دور رس اثرات مرتب کرتا آیا ہے اور مزید دور رس نتائج متوقع ہیں۔




































