
عامرسعید خان
محترمہ سعدیہ راشدکی ہمہ جہت شخصیت کی ایک اہم جہت اُن میں احساس ِصحافتی اقدارکاہونا ہے۔شہید پاکستان حکیم محمد سعید کی دختر ہونے کے
باوجودآپ نے ہمدرد پاکستان میں بطور پروف ریڈر شمولیت اختیار کی تھی ۔اب بھی آپ اپنی تمام تر ذمے داریوں کے باوجود ہمدرد کے زیر اشاعت مختلف جرائد اورمطبوعات کی مدیر اعلا ہیں اورہمدرد سے جاری ہونے والی تمام ترتشہیری و فکری تحاریر کی نگرانی فرماتی ہیں تاکہ اہل وطن کی فکری آبیاری تسلسل کے ساتھ جاری رہے ۔ آپ سمجھتی ہیں کہ اصولی طور پرقوم کی فکری تربیت ورہنمائی کا کام اہل صحافت کا ہے۔اسی لیے آپ ریاست کے چوتھے ستون ذرائع ابلاغ کی اہمیت سےبخوبی واقف ہیں اور شہید پاکستان حکیم محمدسعید کی خوبصورت روایت کو آج بھی برقرار رکھا ہوا ہے جس میں حکیم صاحب اہل صحافت سے اپنے تعلقات کو استوار رکھنے کے لیے ملک کے مختلف اخبارات کے نمائندوں کو ہمدرد کے دورے کی دعوت دیتے تھے۔ محترمہ سعدیہ راشد بھی صحافیوں کی میزبانی اپنے لیےاعزاز سمجھتی ہیں اور ہر سال اُن کی دعوت پرکراچی سے باہرکے صحافی جامعہ ہمدرد کے جلسہ برائے عطائے اسناد کے موقع پرمدعو کیے جاتے ہیں۔
چنانچہ اس سال بھی ہمدرد یونیورسٹی کے 27ویں جلسہ عطائےاسناد 2025ء کے موقع پر محترمہ سعدیہ راشد کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر سید علی بخاری فیصل آباد، لاہور اور بہاولپور کےسینئر صحافیوں کے ہمراہ کراچی پہنچے۔ اُن کا استقبال راقم السطور اور ہمدرد کے دیگر کارکنان نے کیا۔ صحافیوں کے وفد میں ہمایوں گلزار (مدیر،روزنامہ سیادت بہاولپور)، ایس ایم منیر جیلانی (مدیرمسٔول، ڈیلی پیغام فیصل آباد)، صائمہ نواز چوہدری صاحبہ(نامہ نگار، روزنامہ آوازجنگ گروپ لاہور)، حافظ عدنان طارق (نامہ نگار،ایکسپریس ٹریبیون لاہور) اور عاطف پرویز(نامہ نگار، دنیا نیوز ٹی وی چینل لاہور )شامل تھے۔ کراچی میں پہلے سےموجود روزنامہ کلیم سکھر کے مدیر مسٔول جاوید مہر شمسی نے بھی وفد میں شمولیت اختیار کی۔معزز مہمانوں کی آمد پر اُن کے اعزاز میں معروف جگہ پورٹ گرینڈ میں موجود ریسٹورنٹ میں پرتکلف عشائیہ دیا گیا۔ صحافتی وفد کےشرکاء نے سائبیریا سے آئے مہمان پرندوں کو کھانا ڈالا اور ملک کی گہری بندرگاہ پر کھڑے پاکستانی بحریہ کے جنگی جہازوں کو دیکھ کر بہت مسرت کا اظہار کیا۔ صحافیوں نے بتایا کہ وہ پہلی بار کراچی آئے ہیں ۔بحری دفاعی کشتیوں اور ساز و سامان دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ تمام معزز مہمانوں میں مدینۃ الحکمہ کے اسکالر ز ہاؤس میں ٹھہرایا گیا تھا ۔ہمدرد پاکستان کےکارکنان نے مہمانوں کو بتایا کہ سائبیریا سے آئے پرندوں کے شکار پر پانچ سال سے پابندی ہے۔ اس لیے اب یہ بڑی تعداد میں پاکستان کے گرم ساحلوں پر آنے لگے ہیں۔ عشائیے میں کراچی کے تین صحافی منظر نقوی(مدیر فنانشل ڈیلی)،حمیرا موٹالا(سینئر صحافی) اور مبشر میر (سینئر صحافی)بھی شریک ہوئے۔
اگلےدن 21 فروری کی صبح وفدنےہمدرد کارپوریٹ ہیڈ آفس کادورہ کیاجہاں اُنہوں نےمحترمہ سعدیہ راشد، وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرسیدشبیب الحسن صاحب اور کلینکل سائنسز ڈویژن ہمدرد کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر حکیم عبدالحنان صاحب اور ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کے ڈائریکٹرسید محمد ارسلان صاحب سے ملاقات کی۔
دوران گفتگو کئی موضوعات پر سیرحاصل تبادلہ خیال ہواتاہم چند اہم ترین موضوعات نکات کی شکل میں پیش کیےجارہے ہیں۔

شہید حکیم محمد سعید
محترمہ سعدیہ راشد نے بتایا کہ الحمدللہ شہید حکیم محمدسعید نے پاکستان میں علم کے شہرکاجوخواب دیکھا تھا،اپنی حیات میں اُس کی عملی تعبیر بھی دیکھی۔ بہت کم خوش نصیب ایسے ہوتے ہیں۔ یہ اُن پر اللہ پاک کا خاص کرم تھا کیوں کہ وہ جو کام بھی کرتے تھے نہایت خلوص نیت سے کرتے تھے۔ وہ سخت اور غیر متزلزل قوت ارادی کے حامل تھے۔اُنہوں نے ملک و قوم کے لیے اتنے بڑے ادارے بطور ورثہ چھوڑے ہیں۔ آج آپ سب اُن کے بنائے ادارے کے مہمان ہیں۔اُن کی شہادت قومی سانحہ ہے جس سے ملک کا بہت نقصان ہوا۔ وہ طب یونانی کی ترویج میں مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔
مدینۃ الحکمہ
محترمہ سعدیہ راشد نے بتایا جب مدینۃ الحکمہ بنا تو اُس وقت نہ سڑک تھی نہ پانی کی سپلائی تھی۔ پوراعلاقہ صحرائے لَق و دَق تھا لیکن اُنہیں وہی جگہ عزیز تھی کیوں کہ اس مقام کا ایک تاریخی پس منظر ہے۔محققین کےمطابق مدینۃ الحکمہ جہاں قائم ہے وہاں مسلم جرنیل محمد بن قاسم کی افواج نے دیبل کی طرف بڑھنے سے پہلے قیام کیا تھا۔ادارےان اقدار اور روایتوں کے فروغ، تحفظ اور ترویج کے لیے قائم کیے جاتے ہیں جنہیں معاشرہ اپنے لیے ضروری خیال کرتا ہے۔ مدینۃ الحکمہ وسیع تر تناظر میں علم و حکمت، تعلیم و تعلم اور تحقیق و کاوش کی ان قدروں ان روایتوں کے احیاء کی ایک کوشش کا نام ہے جو ہماری عظیم ثقافتی میراث ہیں۔اس علم کے شہر میں نئے اذہان کو جدید علوم کے ساتھ مشرقی تہذیب و ثقافت سے رغبت بھی سکھائی جاتی ہے۔
ہمدرد کی طبی سہولیات اور سرگرمیاں
سید محمدارسلان نے بتایا ہمدرد کے زیر انتظام ہسپتالوں میں ایلوپیتھی اورطب یونانی دونوں کی او پی ڈی موجود ہیں۔اس کے علاوہ جدید طبی مشینری اور نئی لیب آپریشنل ہیں۔ہمدرد یونی ورسٹی ہسپتال میں جدید ترین گائنی وارڈ بنایا گیا ہے۔ دور دراز کے ایسے گوٹھ اور دیہات جہاں کلینک نہیں ہیں وہاں ہمدرد کی موبائل ڈسپنسری جاتی ہےاور لوگوں کو مفت دوائیں دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ نعمت بیگم ہسپتال ناظم آباد میں وسعت کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
طب یونانی کا مقدمہ
پروفیسر ڈاکٹر حکیم عبدالحنان نےکہا کہ طب یونانی کی الگ وزارت ہونی چاہیے۔دوحہ میں طبی کانفرنس میں بھارتی مندوبین نے شرکت کی۔ بھارت قطر میں اپنی آئیورویدک دواؤں کے لیےمنڈی تلاش کر رہا ہے۔ بھارتی حکومت نے وہاں کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے وزارت قایم کردی ہے۔ کوویڈ ۱۹کی وباء میں بھارتی حکومت نے مقامی آئیورویک ادویہ کو فروخت کے لیے اجازت دی جب کہ ہم جو عرصہ دراز سے نزلہ زکام کے لیے ادویہ بنارہے ہیں، ہمیں حکومتی تعاون و سرپرستی حاصل نہیں ہوئی۔ہندوستان میں جتنی بھی روایتی ادویہ اورمصنوعات تیار کی جارہی ہیں وہ ایکسپورٹ بھی ہوتی ہیں۔ پاکستان طب یونانی کی ایکسپورٹ بڑھانے کی خوبی وصلاحیت رکھتا ہے۔
ملاقات کے بعد پروفیسرڈاکٹر حکیم عبدالحنان نےوفد کا طبی معائنہ کیااوراُنہیں مفت ادویہ بھی دیں۔ مہمان صحافیوں نےہمدرد پاکستان کے آفس کا دورہ کیا اور مختلف ڈائریکٹرز سے ملاقات کی۔اس کے بعد اُنہوں نے قائد اعظم کے مزار پر حاضری دی ، فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر ہمدرد پاکستان کی درخواست پر مزار کے منتظمین نے میوزیم خصوصی طور پر کھولا ،جہاں قائداعظم کے زیر استعمال ذاتی اشیا، گاڑیاں اور دیگر چیزیں موجود تھیں۔دوپہر میں ایک معروف نہاری سینٹر میں اُنہیں پرتکلف ظہرانہ دیا گیاجس میں کراچی سے تعلق رکھنے والے صحافیوں عمران ذاکر(نامہ نگار، فنانشل ڈیلی)، سرور سومرو(نامہ نگار آواز ٹی وی) اورفرحان میمن (مدیر ہفت روزہ سٹی مرر) کو بھی مدعو کیا گیا۔ بعدازاں سید محمد ارسلان کے ہمراہ وفد نے نعمت بیگم ہمدرد یونی ورسٹی کا تعلیمی دورہ کیا ۔معزز مہمان ہسپتال میں دی جانے والی جدید سہولیات، کم چارجزاور پیراپیڈک اسٹاف کی پروفیشنل ازم سے بہت متاثر ہوئے۔کراچی پریس کلب کا دورہ کیا اوروہاں کے عہدیداران سے ملاقات کی ۔سورج ڈھلتے مہمانوں نےساحل سمندر کی سیر کی۔ رات میں لال قلعہ نامی معروف ریسٹورنٹ میں اُنہیں عشائیہ دیا گیاجس کے بعد اُنہیں واپس اسکالر ہاؤس مدینۃ الحکمہ پہنچادیا گیا۔
اگلی صبح وفد نےشہید پاکستان حکیم محمد سعید کےمزارپرحاضری دی۔بوٹنکل گارڈن کا دورہ کیااورادارہ سعید،بیت الحکمہ لائبریری کا مطالعاتی دورہ کیا۔ صحافیوں نے نادرقرآنی نسخوں اورمخطوطات دیکھ کر خوش گوار حیرت کا اظہار کیا۔ شہید حکیم محمد سعید کی گاڑی دیکھ کر سب نے اُداسی اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ شہید پاکستان کی شہادت قومی سانحہ ہے، بعدازاں جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر کی جانب سے ظہرانے میں شرکت کی۔
پروفیسر ڈاکٹرسید شبیب الحسن نے ہمدرد یونی ورسٹی پر بریفنگ دی۔جس کے بعد صحافیوں کےوفد نےہمدرد یونی ورسٹی کی کانوکیشن میں شرکت کی اور پھر خوشی اور مسرت کے ساتھ بذریعہ ہوائی سفر واپس اپنے شہروں کو روانہ ہوگئے۔
صحافیوں کے اس اہم دورے کے تمام انتظامات انفارمیشن ڈپارٹمنٹ نے انجام دئیے۔




































