
ہما عدیل
کچن میں لذیز خوشبوؤں کے ساتھ ہم نے اپنی بنائی ہوئی نرم گرم بنانا بریڈ اورخستہ مزیدار چکن اسٹروڈل کو نفاست کے ساتھ سجایا اور احمر کے آگے
کردیا، اس کی فوٹوگرافی کے لیے۔گورارنگ ،ہمیشہ مدد کے لئے تیار ، چٹکلےاورشگوفےچھوڑتا دبلا پتلا مسکراتا نوجوان ۔احمر ہماری کلاس کا سب سے اچھا فوٹوگرافر تھا۔ اپنی فیملی سے دور کوئٹہ سے آیا ہوا یہ بچہ کراچی کے ایک ہوسٹل میں رہائش پذیر تھا۔ اٹھارہ فروری منگل کے دن کلاسزختم ہونے کے بعد ہماری احمر سے طویل گفتگو ہوئی۔
بلوچستان کی خوبصورتی سے لےکر اس کےمسائل تک، اکبر بگٹی سےلےکر جام کمال تک ۔۔۔اور آگے مستقبل کی پلاننگ گفتگو کا موضوع رہی۔ پھر احمر نے اجازت چاہی اور مسکراہٹ کے ساتھ خدا حافظ کرتے ہوئے ، تازہ تازہ پانی دیے ہوئے پودوں کی کیاریوں سے گزرتے ہوئے کالج کے گیٹ کی طرف بڑھ گیا ۔ہم نے سوچا بھی نہ تھا کہ یہ اس بچے سےآخری ملاقات ہوگی۔
ٹھیک ایک ہفتے بعد پیر کی صبح ہمیں کالج منیجمنٹ سے یہ اطلاع ملی کہ احمر پچھلی رات انتقال کرگیا ہے ۔ یہ خبر ایسی تھی کہ جیسے ہم سب حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہوں۔ منگل کے ہی دن شام میں احمر کراچی کے بے ہنگم ٹریفک اور خستہ حال سڑکوں کا شکار ہوگیا ۔ بظاہر تو ایک فریکچر تھا۔ والدین اسے اپنے ساتھ کوئٹہ لے گئے مگر حالت نہ سنبھلی تو واپس کراچی لائے اور اتوار کی رات وہ اپنی حقیقی منزل کی طرف کوچ کرگیا ۔
بے شک اللہ کی امانت تھی ۔ اللہ نے لے لی ۔ بےشک اس کی آزمائش ختم ہوئی اوروہ ایک حقیقی دائمی،خوبصورت جہاں میں پہنچ چکا ہے ۔۔۔مگر دل بار بار یہ سوال ضرور پوچھ رہا ہے کہ کراچی میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات کی ذمے داری آخر کون لے گا ؟ کب تک لوگ ناگہانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھوتے رہیں گے؟ بے ہنگم ہوتا ٹریفک ، پبلک ٹرانسپورٹ کا ناقص نظام ، خستہ حال سڑکیں اور بروقت سزاؤں کا نہ ملنا۔۔۔۔یہ مسائل کب حل ہونگے؟
پبلک سیفٹی اس شہر کے منتظمین کے لئے کب اول ترجیح بنے گی؟ یہ ٹیس بھی بار بار اٹھتی ہے دل میں کہ جب حق دار، ایماندار ، قابل اور کراچی کی عوام کی حمایت یافتہ قیادت کو، بےایمانی کی عظیم مثالیں قائم کرتے ہوئے شہری حکومت سے باہر رکھا جائے گا اور اس کی جگہ نااہل اور انتہائی غیر سنجیدہ لوگوں کو کراچی کے اوپر زبردستی مسلط کردیا جائے گا تو شہر کے مسائل حل ہونے کے بجائے اس گلتے ہوئے نظام سے صرف تعفن ہی پھیلے گا ۔




































