
آزادینہ سہیل
وہ کہنیوں کےبل بیڈ پرلیٹےاپنا ناول پڑھنےمیں مصروف تھی- کھلی کھڑکی سےجھانکتا ہواچاند اوراندرآتی ہوئی ٹھنڈی اور خوش گوارہوااسےسکون دے
رہی تھی- شانوں پر بال بکھیرے وہ ناول کے کسی کردار کو پڑھنے میں اس قدر مستغرق تھی کہ اسےدروازےپرہونےوالی دستک کا اندازہ ہی نہ ہوا- اس باردستک ذرا زورسےکی گئی- دستک کی آوازکانوں میں پڑھتےہی وہ ہڑبڑاکراٹھی اوراپنے بالوں کاجوڑا باندھ کر دروازے کا لاک کھولنےلگی-
رافعہ :"گڈمارننگ، صبح ہوگئی میڈم کی "
"دروازے کھٹکھٹانے کی بھی کوئی تمیزہوتی ہے-کیا سارے مینرزبھول گئی ہو؟عدن نےرافعہ کےطنزکاجواب ذراغصےسے دیا-رافعہ :'ہاں بھئی میں ابھی ناشتہ بنوارہی تھی ،امی کے ساتھ تو لگتا ہے وہیں سارے مینرز بھول گئی ہوں- اب ہر جگہ ساتھ لے کر پھربھی تو نہیں سکتی ناتمہاری طرح۔۔
عدن :بہت اڑ رہی ہو نا ابھی چچی جان سے شکایت کرتی ہوں کہ پر کانٹے تمہارے- بڑوں سے بات کرنے کی تمیز بھول گئی ہو-
رافعہ: اچھا نہ، اب لیکچر دینا شروع مت ہوجانا ویسے بھی مجھے تمہاری خالص اردوسمجھ نہیں آتی کیسے بول لیتی ہوں اتنے مشکل الفاظ؟۔
عدن: اگرتم فضول ٹک ٹاکرفیس بک وغیرہ کوچھوڑ دونا تو تمہیں بھی یہ سب کچھ اتنا مشکل نہ لگے۔
رافعہ: توبہ کرو،میں سوشل میڈیا کبھی نہیں چھوڑسکتی اس کی ہی وجہ سےمیں دنیا سےمنسلک ہوں- مجھے پتا ہوتاہےکہ دنیا میں کیا ہورہا ہے، کون سا فیشن چل رہا ہےوغیرہ اوراب میں تمہاری طرح ایک کمرے میں بیٹھ کر کتابیں پھیلا کران کا مطالعہ کرکے کتابی کیڑانہیں بن سکتی- میں دنیا کےشانہ بشانہ چلتی ہوں نہ کہ تمہاری طرح اس دنیا سےسو قدم پیچھے- ایک اپنی دنیا میں مگن ۔۔۔ اب باتیں ختم ہوگئی ہوں تو ناشتہ کرنےچلیں سب انتظارکررہے ہوں گے۔ عدن نے چبھتی ہوئی نظروں سےرافعہ کو دیکھا-
عدن رافعہ سےعمر میں بڑی تھی مگردونوں کا تعلق دوستانہ تھا-عدن ایک خوبصورت لڑکی،تھی سرخ وسفید رنگت نرم و ملائم چہرہ اوربڑی بڑی مغلئی آنکھیں، اس کی شخصیت کو مزید پرکشش بنادیتی تھیں- اس کی میڈیکل کی تعلیم مکمل ہونےمیں ابھی ایک سال باقی تھامگر وہ پھر بھی یونیورسٹی بہت کم جاتی تھی- اس کا خیال تھا کہ یونیورسٹی میں پڑھائی اب ختم ہوچکی ہے اور اب صرف وقت ضائع ہوتا ہے۔ اس لیےوہ گھر میں ہی تیاری کرتی تھی،وہ ایک میچور لڑکی تھی مگراپنی کزن رافعہ کے ساتھ رہ کروہ اب تھوڑی شوخ ہو گئی تھی-
رافعہ کی کالج کی تعلیم ابھی مکمل ہوئی تھی اوراب اس کا یونیورسٹی میں ایڈمیشن کا کوئی ارادہ نہ تھا-وہ پڑھائی کو انتہائی فضول چیز سمجھتی تھی مگر اس کے ماں باپ اور دادا یعنی صدیق صاحب بھی اس کو آگے پڑھانے پر بضد تھے- وہ بھی بہت خوبصورت اورچلبلی لڑکی تھی- دوسروں کو تنگ کرتی تھی مگر وہ دل کی بہت اچھی تھی- اس کے دادا نے اپنے اکیلے پن کی وجہ سےاپنےدونوں بیٹوں کواپنے ساتھ ہی رکھا ہوا تھا-بڑے بیٹے احمد کی اکلوتی بیٹی عدن تھی ـ دادی کی وفات کے بعد عدن کی پیدائش ہی نانا کی بےحد خوشی کا باعث بنی تھی-عدن نے دادا اور سارے گھر والوں کو نانی کی وفات کا دکھ اورغم بھی بھلا دیا تھا-یہی وجہ تھی کہ دادا کو عدن سے بہت محبت تھی-چھوٹے بیٹےعلی کی ایک بیٹی رافعہ تھی جوگھر کی سب سے چھوٹی بیٹی تھی اوراپنے امی ابواورتائی کی بےحد لاڈلی تھی- جب عدن کی امی کو کچن میں ہاتھ بٹانے کے لیے اپنی بیٹی کی کمی محسوس ہوتی اورعدن کوئی کتاب پڑھنے میں مصروف ہوتی تو رافعہ ان کی کام میں بھرپور مدد کرتی- یہ کہہ کر کہ میں بھی آپ ہی کی بیٹی ہوں۔
--------
ان دونوں کو ٹہل کر ارام سے آتے دیکھ کر علی چاچو تو جیسے بھڑک اٹھے
" ہم دونوں کوآفس بھی جانا ہوتا ہے،آپ دونوں کی طرح فارغ نہیں ہیں ہم اورآئندہ جونوبجےناشتے کی میز پر نہیں پہنچے گا اس کو ناشتہ نہیں ملے گا۔علی چاچونے دادا کا قانون توڑکرحتمی فیصلہ سنادیا ۔
دادا جان کا قانون توڑنےکی جرات کسی نےآج تک نہیں کی،ورنہ اس کوسخت سزادی جاتی مگر خلاف توقع داداجان نے آج علی چاچوکوکچھ نہیں کہا کیونکہ شاید دادا کوبھی علی چاچو کی بات سےاتفاق تھا۔
'امی میں آج باہر جا سکتی ہوں'؟
مردوں کے آفس چلے جانے کے بعد عدن کہ اس سوال نے خاموشی توڑ دی-
'کہاں؟' یہ سوال امی کے بجائے صدیق صاحب نے کیا تھا- لو بھئ یہ بھی کوئی پوچھنے والا سوال ہےـ جیسے ملا کی دوڑ مسجد تک ، ویسے ہی ان کی لائبریری تک- رافعہ نے ہمیشہ کی طرح بیچ میں ٹانگ اڑانا مناسب سمجھی- عدن: جی لائبریری سے کچھ کتابیں لانی ہیں
صدیق صاحب:اچھا رافعہ کو بھی لےجانا اسی بہانےیہ زندگی میں ایک دفعہ تولائبریری کی شکل دیکھ ہی لے گی-جی ٹھیک ہے چلی جاؤں گی رافعہ نےبرا سا منہ بنایا-
"ائس کریم کھائیں؟"رافعہ نےلائبریری سےنکلتے ہی آئس کریم کی فرمائش کی-چلوتم سے توبس کھانا کھلوانے کی باتیں کروا لو- عدن نےہاتھ میں لی ہوئی کتابوں پرایک نظرڈال کرچڑھتے ہوئے کہا- آئس کریم کا کپ پکڑے دونوں کی نظر اس جگہ پرپڑی جہاں ان کی گاڑی کھڑی تھی مگراب وہاں نہ گاڑی تھی اور نہ ہی ڈرائیور- "یہ ڈرائیور کہاں مرگیا ہے؟" عدن نےسختی سے کہا مگر رافعہ تو کہیں اور ہی گم تھی- وہ اس کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئےسامنےوالے منظرکوغورسےبغیر کسی حرکت کے دیکھ رہی تھی-"کہاں دیکھ رہی ہو؟"عدن رافیہ کی نگاہوں کی طرف دیکھتےہوئے اس منظر کی طرف دیکھنےلگی کیا-
"کیا بے ہودگی اوربدتمیزی ہورہی ہے یہ؟" گاڑی میں بیٹھےایک امیر زادےکوایک کمسن تولیےبیچنے والی لڑکی سےشرارت کرتے دیکھ کراس نے لڑکے کوکوستے ہوئے کہا- تمہیں ذراسا خدا کا خوف ہے،ایک لڑکی کا ایسے بھرے بازار میں مذاق بناتے ہو-رافعہ نے لڑکے کے پاس جا کرکہا عدن اس منظر کودیکھ کرذرا سارک گئی اس منظر میں رافعہ۔۔۔
وہ بڑبڑاتےہوئے برابرکھڑی رافعہ کودیکھنے لگی مگراب وہ ادھرموجودنہیں تھی۔رافعہ ادھرکب گئی؟؟ یہ پاگل لڑکی مجھے بھی مروائے گی۔۔۔ عدن بڑبڑاتے ہوئے اس کی طرف چل دی۔
تمہیں اپنی دولت پر اتنا غرور ہے،تم یہ سمجھتےہو کہ یہ تمہارے پاس ہمیشہ رہےگی توایسا ہرگزنہیں ہےاور نہ ہی تم اپنی دولت کی وجہ سے کسی بھی راہ چلتی کی بےعزتی کرنے کا حق رکھتے ہو۔۔ سمجھے تم۔ رافعہ آگ بگولا ہو کر بولی۔
" اس معمولی سی لڑکی کے لیےتم مجھ سے لڑ رہی ہو،جانتی بھی ہو میں کون ہوں؟؟؟ اور ان جیسے چھوٹی ذات کے لوگوں کو اللہ نے عزت نہیں دی تو میں کون ہوں انہیں عزت دینے والا۔۔۔ وہ چھوٹی شرٹ میں ملبوس سرخ و سفید رنگت والا لڑکا آنکھیں چھوٹی کرکے رافعہ کی طرف دیکھتے ہوئے چیخ کر بولا۔
اتنی اکڑ!! وہ لڑکی تم سے بھیک نہیں مانگ رہی تھی۔ تولیے بیچ رہی تھی، نہیں لینا تھا تو منع کر دیتےمگر اس کو ذلیل کرنے کا حق تم نہیں رکھتے۔۔ اللہ نے اس دنیا میں سب کو یکساں بنا کر نہیں بھیجا بلکہ کسی کو امیر کسی کوغریب بنایا تاکہ وہ ان کا امتحان لےاوردیکھے کہ ان کے دل میں ایک دوسرے کے لیے ہمدردی کے جذبات پائےجاتے بھی ہیں یا نہیں۔۔۔ اور تمہیں اتنا غرور کس بات کا ہے۔اپنی دولت کا مگر تم جیسے عیاش لوگوں کے پاس یہ نعمت بھی زیادہ دیرنہیں رہتی اور تم نے اس لڑکی کا دل زخمی کیا ہے۔۔
دل عرض پر ٹوٹتے ہیں مگرآہیں عرش کو چیز دیتی ہیں یاد رکھنا میری یہ بات اچھا ، مجھے آپ کی فضول باتوں کو یاد رکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں-یہ کہتے ہی وہ لڑکا تیزی سے گاڑی بھی کو وہاں سے لے گیا۔
" یہ رکھ لو" رافعہ نے اس کمزور بچی کی طرف چند نوٹ بڑھاتے ہوئے کہا-
"بہت شکریہ آپی میری مدد کرنے کے لیے" لڑکی بولی-
کوئی بات نہیں یہ تومیرا فرض تھا-اس نے لڑکی سے ہاتھ ملایا اورگردن موڑ کر پیچھے کھڑی ہےعدن کو دیکھا۔
"تمہیں ہرکسی کے معاملے میں کودنے کی بہت عادت ہے؟" گاڑی کا پوراسفر خاموشی سے طے کرنے کے بعد آخر عدن بول پڑی-۔۔۔۔ ہاں تمہیں جوسمجھنا ہے سمجھو۔ مجھے یہ بتاؤ کہ یہ ڈرائیورکہاں چلا گیا تھا۔ رافعہ نے لاپروائی سےجواب دینے کے بعد ڈرائیور کا پوچھا۔
وہ گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا تھا اس لیےہمارے آنے سے پہلے پیٹرول بھروانےگیا تھا۔ عدن نے رافعہ کا جواب دیا اور باقی سارا سفر خاموشی سے گزرا۔
۔"تم مجھ پر الزام لگا رہے ہو، اپنی حد میں رہو آخر اتنے سالوں بعد گڑے مردے کیوں اکھاڑ رہے ہو۔
رافعہ اورعدن نے گھر میں داخل ہوتےہوئے صدیق صاحب کی چلانے کی آوازسنی- صدیق صاحب فون پہ مسلسل کسی پرچیخ رہے تھے- آج سے پہلے صدیق صاحب کبھی ایسے نہیں چلائےبلکہ ان دونوں پوتیوں نے تودادا جان کا غصہ بھی نہیں دیکھا تھا- وہ دونوں دوڑکر ٹی وی لاؤنج میں آکر دادا کے پاس کھڑی ہو گئیں-
"میں بھی عدالت جاؤں گاتم جیسےدھوکے باز بھائی سےاچھا تھا کہ میرا کوئی بھائی ہی نہ ہوتا" صدیق صاحب ابھی بھی مسلسل کسی کووارن کررہے تھے۔
"بھائی۔۔۔۔۔ کیا کہاں دادا جان نے۔ دادا جان اپنے بھائی سے بات کر رہے ہیں"۔ دونوں ایک ساتھ بولی۔"نہیں ایسا نہیں ہوسکتا بھلا ہمارے اتنے پیارے دادا جان اپنے بھائی سے ایسے بات کریں گے، امپاسیبل"رافع بڑبڑائی۔
عدن: ہاں بالکل اور دادا جان نے کبھی اپنے بہن کے علاوہ کسی بھائی کا ذکرنہیں کیا- رافعہ: کیا ان کے بھائی ابھی گوگل سے ڈاؤن لوڈ تونہیں ہوئے؟
عدن: فضول باتیں مت کرو، آؤ دادا جان سے پوچھیں۔
' دادا جان اپنے کمرے میں جا رہے ہیں ابھی فلحال ان سے کوئی بات نہ کریں'۔
عدن کی امی نے دونوں کی باتیں سن کر کہا-
" تم دونوں بھی اپنے کمرے میں جاؤ" رافعہ کے امی میں دونوں کو کمرے میں جانے کا اشارہ کیا-
"وہ معمولی سی لڑکی اب میرے اگے بولے گی۔۔۔۔ کون تھی وہ۔۔۔۔ شاید جانتی نہیں مجھےکہ میں ہلال پاشا کا بیٹا ہوں- ایک اور بار ملے تو دماغ ٹھکانے لگا دوں گا اس کا-"فراز اپنی سوچوں میں گم تھا۔
' ارے بھائی کیا ہو گیا ہے؟ کیا سوچ رہے ہو؟ ایک سال بعد تم سےملنے آیا ہوں اورتم سوچو میں گم ہو'سیف اپنے دوست کو کسی سوچوں میں گم دیکھ کر بولا- یارکچھ نہیں!! اس نےاس لڑکی کا خیال دماغ سے جھٹک کر کہا۔ پھر دو دوست اپنی پرانی یادوں میں کھو گئے۔
"امی کھانا لگا دیں بہت بھوک لگ رہی ہے"-سیف نے گھر میں داخل ہوتے ہی آواز لگائی
"بیٹا ٹائم دیکھو گھر آنے کا!!! یہ کوئی انگلینڈ تھوڑی ہے جہاں راتیں چوری اورڈکیتی سے پاک ہوں گی"
یہ پاکستان ہے پاکستان۔۔۔
جی امی میں جانتا ہوں آخرسارابچپن یہاں گزاراہے- اصل میں فرازسے باتوں میں وقت کا پتا ہی نہ چلا۔
امی: 'بیٹا سومرتبہ سمجھایا ہےکہ وہ اچھا لڑکا نہیں،دوررہو اس سے!! میں نے سوچا تھا کہ انگلینڈ جا کرتم بھول جاؤگےاسے مگر تم تو۔۔۔۔
"امی دوستیاں نزدیکی اوردوری کی محتاج تھوڑی ہوتی ہیں"اورآپ یہ غلط فہمی ختم کر دیں کہ میں انگلینڈ جا کراسے بھول جاؤں گا، آپ سب سے زیادہ وہ قریب تھا-وہاں ہوتے ہوئے بھی۔ میرے پل پل کی خبر ہوتی ہے اس کو- میری امی حضور آپ مہربانی فرما کر کھانا دے دیں گی۔۔
ہاں بھئی لا رہی ہوں اورجو مرضی میں آئے کرو۔ میری ویسے بھی سنتا کون ہے؟ اور اب توتم بڑے ہوگئے ہونا، اپنے فیصلے کرنے کے قابل۔۔۔۔۔ یہ کہتے ہی امی کچن کی طرف بڑھ گئیں-سیف نے زیادہ بحث کرنا مناسب نہ سمجھا کیونکہ وہ اپنے یہ چند مہینے پاکستان میں سکون سے گزارنا چاہتا تھا-صاحب کواندرآتے دیکھ کرگارڈز نے فوراً دروازہ کھولا- گاڑی سے اتر کر وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھنے ہی لگا کہ ہلال پاشا کی آواز نے اسے روک دیا
'کہاں سے آرہے ہو؟' ہلال پاشا نے سوال کیا
فراز :گاڑی سے
ہلال پاشا: وہ مجھے بھی پتہ ہے، کل رات کہاں گئے تھے؟
فراز: کراچی
ہلال پاشا: کیوں؟ فراز: ملنا تھا -
ہلال پاشا: کس سے؟
فراز:لڑکی سے۔۔ بابا کیسی باتیں کررہے ہیں آپ- سیف سے ملنے گیا تھا- ہلال: اچھا چلو کھانا کھانے آجاؤ-
فراز: بھوک نہیں- وہ مختصر جواب دے کر کمرے میں چلا گیا-وہ واقعی بہت تھک گیا تھا کیونکہ دونوں دفعہ اس نے خود ڈرائیونگ کی تھی اورکراچی میں رات بھی اس نے اپنی گاڑی میں گزاری تھی اس لیےوہ سو بھی نہ پایا تھا- سیف نے اسے اپنے گھر رکنے کی دعوت دی تھی مگراس نے منع کر دیاکیونکہ وہ جانتا تھا کہ سیف کے گھروالے اس کو پسند نہیں کرتے ہیں اور فراز کا ویسے بھی ماننا تھا کہ جہاں عزت ملے وہاں انسان رکے( جاری ہے)




































