
لائبہ احسن
کسان کس طرح فصل لگانےکےلیے بیج بونےسےقبل زمین نرم کرتا ہے، صفائی کرتا ہے،زمین کو زرخیز کرنےکےلیےاس میں کھاد ڈالتا ہے، اس
کی حفاظت کرتا ہے اور ثمر سمیٹنے کے قابل ہوتا ہے۔اسی طرح اس ماہ رمضان میں اپنےدلوں کی صفائی کرنا ،گناہوں پر ندامت ،ایک دوسرے سے دل صاف کرنا، معافی تلافی کر کے دل کو نرم کرنااس ماہ میں روزے رکھ کر دل میں ایمان و تقوی ٰڈال کر اس کی مٹی کو زرخیز کرنا ضروری ہے تاکہ آپ سال کے گیارہ ماہ گناہوں سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے تگ و دو کریں ۔وہ بیج جب آپ ایمان اورتقویٰ کے ساتھ بو دیں گے تو باقی کے سال اس کے ثمرات آپ کو نظر آئیں گے۔ آپ کا دل گناہ کرتے ہوئے ڈرے گا ،اپ کا دل عبادت میں زیادہ لگے گا بشرطیکہ آپ نے اس بیچ کو بونے سے قبل اس کی تیاری میں وقت صرف کیا ہوگا۔ پورے ماہ اس کی حفاظت کی ہوگی جس طرح کسان فصل تیار ہونے تک اس کی حفاظت کے لیے محنت کرتا ہے۔ اس کو پرندوں اورجانوروں سے بچا کر رکھتا ہے پھر ہم اس اناج کو پورے سال میں کھاتے اور سکون حاصل کرتے ہیں۔
رمضان میں اپنے دل کی دنیا کو بدلنا ہوگا تاکہ اس کے ثمرات سمیٹنے کے وقت خالی نہ رہیں جس طرح ہم گھروں کی جھاڑ پونچھ، راشن کی خریداری سب پہلے کر لیتے ہیں تاکہ عید پر ہم گھر کو صاف ستھرا دیکھیں رمضان میں آرام و سکون سے سحر و افطار کر سکیں ،اسی طرح روزے سے قبل اپنے دل کو اس قابل بنانا کہ اس میں خوف خدا،محبت الہٰی ، نیکی کرنے کا عزم اور شیطان سے دور بھاگنے کا جذبہ ہو تو ہی ہم روزہ رکھ کر اس کے ثمرات سمیٹ سکتے ہیں۔
اے لوگوں جو ایمان لائے ہو تم پر روزے فرض کردیے گئےہیں جس طرح تم سےپہلی امتوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو (سورہ البقرہ) روزے کا مقصد ہی یہ بتا دیا گیا ہے کہ اللہ کا ڈر اور خوف ہمارے دل میں پیدا ہو جب دل میں دنیا اور اس کی محبت ہوگی تو کیسے دل میں رب کی محبت جگہ لے گی ،اس کے لیے تو پہلے اس کو خالی کرنا ہوگا پھر ہی اس میں کچھ اور ڈال سکیں گے اللہ تعالی ہمیں رمضان تک پہنچا دے اور اس سے پہلے اس کی فکر تیاری کرنے والا بنا دیں۔(آمین)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی زندگیوں سے ہمیں یہ پتا چلتا ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان آنےسےپہلےاس کا استقبال کرتے تھے اس کی تیاری میں مصروف ہو جاتے تھے ۔ رمضان سے قبل اس بات کا اعادہ کرناکہ میں اس رمضان کو کس طرح پچھلے رمضان سے بہتر بنا سکتی ہوں ،کس طرح رب کی رحمت اور مغفرت کی طلب اپنے اندر بڑھا سکتی ہوںاور کیسے اپنی مغفرت کی حقدار بن سکتی ہوںکیونکہ حدیث کا مفہوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سیڑھی چڑھی اور کہا آمین تو صحابہ نے دیکھ کر پوچھا کہ آپ صہ نے ایسا کیوں کیا ؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ جبرائیل امین آئے تھے اور انہوں نے تین دعائیں فرمائیں میں نے اس پر آمین کہا اور اس میں ایک دعا رمضان کی تھی کہ "ہلاک ہو وہ شخص جو رمضان کا مہینہ پائے اور اپنی مغفرت نہ کروا سکے ۔"اللہ تعالی سے خوب مناجات اوردعا کریں کہ ہم سب اس رمضان اپنی مغفرت کروا لیں۔
یہ نیکیوں کا موسم بہار ہے جس میں اللہ تعالی مومن بندوں کےلیےسیل لگا دیتےہیں کہ فرض کا درجہ 70 فرض کے برابرسنت کادرجہ فرس کے برابر اور نفل کا درجہ سنت کے برابر ہو جاتا ہے اور اجر و ثواب میں بے انتہائی اضافہ کردیاجاتا ہے تاکہ مومن بندے اس سے فائدہ اٹھا کر زیادہ سے زیادہ اپنے نامہ اعمال کو اچھا کر لیں۔پھر اس میں شیطان کو قید کر دیا جاتا ہے ۔روزے دار کو یہ خوشخبری حاصل ہے کہ جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہو سکتا ہے ۔ایک خاص دروازہ "باب الریان" خاص طور پر روزے دار کے لیے بنایا گیا ہے پھر اللہ تعالی کہتے ہیں کہ روزہ انسان میرے لیے رکھتا ہے اور میں جتنا چاہوں اس کا اجر دوں۔ تو اس سیل سے مومنین کو چاہیےکہ زیادہ سے زیادہ استفادہ حاصل کریں تاکہ جنت مل جائے اور حقیقی خوشی اللہ کے دیدار کی صورت میں حاصل کر سکیں روز محشر ۔
اللہ تعالی سے اپنےاور سب کے لیےخصوصی دعائیں مانگیں گڑگڑائیں رب کومنانےمیں لگ جائیں،راتوں کو اٹھ کراپنےرب کو پکارنےکےلیے، اپنے نام اعمال کو سنوارنے کے لیے کوشاں ہو جائیں۔کیا خبر؟؟کہ اگلا رمضان کس کس کو نصیب ہو ؟؟اللہ تعالی سے دعا اور امید ہے کہ اس رمضان امت مسلمہ کو اس کا کھویا ہوا مقام ومرتبہ واپس لوٹا دے تاکہ ہم اسلام کی بہاریں اپنی انکھوں سے دیکھ سکیں۔ ( آمین)




































