
سنعیہ یعقوب / بہاولپور
آٹھ مارچ کادن دنیا بھر میں بنیادی طور پرخواتین کی مہارتوں کوعالمی سطح پر تسلیم کرنے کا دن قراردیا گیا ۔آجکل خواتین کا عالمی دن
معاشرے، سیاست، تعلیمی اور معاشی میدان میں خواتین کی ترقی کو منانے کا دن بن گیا ہے جبکہ اس کا مقصد عورتوں اور مردوں کے درمیان عدم مساوات کے بارے میں بیداری پھیلانا ہے۔عورتوں کے حقوق کے لیے بنی تنظیمیں آج کل احتجاجی مظاہروں اور حقوق نسواں کے نعروں کو بنیاد بنا کر انہیں سڑکوں پہ لے آئی ہیں ۔
اگر ان تنظیموں کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو ان کےمثبت کےساتھ منفی پہلو بھی نظرمیں آتےہیں۔جہاں عورتوں کو تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی دکھانے کا موقع ملا ۔ ان کے لیے گھریلو تشدد سے بچاؤ کے قوانین موجود ہیں ۔ معیشت میں خواتین کی کارکردگی کو ابھارا اور سراہا گیا ۔ طبی سہولیات کو لے کر خواتین کو سہولیات مہیا کی گئیں ،عورتوں کو پارلیمنٹ میں بھی نمائندگی دی گئی ۔ وہیں عورتوں کی صلاحیتوں کی ،عورتوں کے وقار وجود اور کردار کی حق تلفی کی گئی۔ انہیں دی گئی آزادی کا غلط استعمال کیا گیا ۔
نسوانی حقوق دلوانے کے نام پر عورتوں کو بے حجاب اور مدر پدر آزاد ہونے کی شہ دی گئی ،انہیں سڑکوں اور بازاروں میں بےپردہ کروایا گیا ۔انہیں آزادی ، حقوق اور خودمختاریت کے نام پر خاندانی نظام سے علیحدہ کر دیا گیا اور والد ،بھائی، شوہر کے حفاظتی حصار سے نکال دیا گیا ۔ ان کے محرم کو ان کا ذہنی اور جذباتی استحصال کرنے والا بنا کے پیش کیا گیا ۔
عورتوں کو گھر کی محفوظ پناہ گاہ سے نکال کے تعلیمی ، معاشی ، کاروباری، معاشرتی ترقی کےخواب دکھا کرجنسی ہراساں اور ریپ کیا گیا ۔ نہ مدرسوں کو چھوڑا گیا نہ ہی تعلیمی درسگاہوں کو ، بازاروں میں ، کام پر ،سیاست میں حتی کہ گھروں میں بھی اس معاشرے کے حیوانوں نےقانون کے رکھوالوں نے عورتوں کو صرف مال سمجھ کر نوچا بلکہ مال سمجھ کے لوٹا ۔ نہ تو چند ماہ اور کچھ سال کی بچی کو چھوڑا نا بالغ ، شادی شدہ اور بوڑھی کو۔ کل یونیورسٹی کا واقعہ جہاں تین نوجوانوں نے ستائیس سالہ لڑکی کے ساتھ جنسی زیاتی کی لیکن ڈاکٹر نے میڈیکل رپورٹ دینے سے انکار کر دیا اور پولیس نے رپورٹ درج کرنے کے بدلے چند پیسے لیے، اثر ورسوخ والے اور درندہ صفت لوگ معاشرے میں تباہی اور خوف وہراس پھیلا رہے ہیں ۔نہ یہ حجاب میں کسی کو چھوڑتے ہیں نہ دوپٹے میں ۔ گزشتہ سال میں نو بڑے گھریلو تشدد کے کیس سامنے آئے جن کے ملزمان اور قاتل ضمانت پر رہا کئے گئے ۔ طالبہ اور ملازمت پیشہ عورتوں کے قتل اور اغوا کے کتنے کیس بند کر دیئے گئے ۔ اس وقت کوئی تنظیم کسی سرگرمی میں مثبت کردار ادا کرتی کیوں نہیں دکھائی دیتی ۔ یہ صرف پنجاب میں ہونے والے واقعات ہیں ۔
آج مغربی اقوام بھی عورت کی غلام بنام آزادی سے تنگ آچکی ہیں کیونکہ مغربی تمدن میں اس بےجاآزادی کے نتائج ،زنا کاری اور بے حیائی کی شکل میں ظاہر ہورہے ہیں۔ افسو س اس بات کا ہےکہ مسلمان عورت بھی آج اسی آزادی کے حصول کی کوشش میں سرگرداں نظر آتی ہےتو آج کی پڑھی لکھی باشعور عورتوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کےکیسے یہ تنظیمیں ،کیسے یہ عورتوں کے حقوق پربات کرنے والے مغربی ٹاؤٹ کے علاوہ کچھ نہیں ۔نہ تو ان کے بنیادی نظریات اور اصول کوئی بہتری کے لیے ہیں، نہ ہی معاشرے میں ان پر کوئی عمل ہے۔ نہ ہی ان سے عورتوں کو کوئی تحفظ ملا بلکہ خاطر خواہ معاشرے میں عدم استحکام اور جرم کا ارتکاب ہوا ہے۔
اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے راہِ اعتدال کا درس دیا ہے۔ عورت کا نان نفقہ ہر حالت میں مرد کے ذمے ہے۔ اگر بیٹی ہے تو باپ کے ذمے۔ بہن ہے تو بھائی کے ذمے، بیوی ہے تو شوہر پر اس کا نان نفقہ واجب کردیا گیا اور اگر ماں ہے تو اس کے اخراجات اس کے بیٹے کے ذمے ہیں۔عورت کا حقِ مہر ادا کرنا مرد پر لازم قرار دیا گیا ہے۔ اسلام نے وراثت میں عورتوں کا باقاعدہ حصہ دلوایا۔ عورت کا حصہ مرد سے آدھا ہے، اسی طرح وہ باپ سے، شوہر سے، اولاد سے، اور دوسرے قریبی رشتے داروں سے باقاعدہ وراثت کی حق دار ہے۔
اسلام نے عورتوں کے لیے تحفظ،عزت، وقار، برتری اور محرم رشتوں میں سکون اور اخلاق و شریعت کا معاشی اور معاشرتی تعین کیا ۔ ہمیں چاہیے کےہ ہم حقوق نسواں کے لیے تعلیمی شعور کے حصول کے لیے قائم حدود میں رہ کر کوشش کریں ۔ خود کو اتنا مستحکم بنانا ہے کہ بوقت ضرورت اپنے اہلِ خانہ کو مظبوط سہارا دے سکیں ۔ ہمیں خود سے محبت کرنی چاہیے ویسے ہی جیسے ہم اپنے والدین ، بچوں اور بہن بھائیوں سے کرتے ہیں ۔ بے لوث ،خیال کرنے والی ،عزت دینے والے ، آرام دینے والی۔
ہمیں خود کو سنوارنا آ نا چاہیے! اچھا ،دکھنا، ہلکا محسوس کرنا ، پریشانی،دکھ ،دباؤ ،ذہنی تنگی،منفی خیالات سےآزاد ہوکر۔خود کو گروم کرنا ،سکن روٹین بنانا اور اس پہ باقاعدگی سے عمل پیرا ہونا چاہیے ۔سلیقہ سیکھنا ،گھر کو ترتیب دینا اور صاف رکھنا آنا چاہیے۔ کوئی دلچسپی والا مشغلہ ،جیسے تفسیر سمجھنا ، کتابیں پڑھنا ، نئے کھانے بنانے سیکھنا ،یا نئے طرز کے ڈیزائن والے کپڑے بنانے سیکھنا ،کڑھائی سیکھنا ،باغبانی کرنا ،موسمی سبزی اگانا ، آ رٹیفیشل انٹیلیجنس کو سیکھنا اور اپنی زندگی میں لاگو کرنا،کہیں سیر کو جانا یا بزرگوں کی باتیں ،کہانیاں اور تجربے سننا اور ان سے سیکھنا۔کوئی ہنر سیکھنا جس سے بوقت ضرورت پیسے کمائے جاسکیں ۔
ہر فرد اپنے طور پر اپنی ذاتی زندگی میں بہتری لا کر معاشرے میں اجتماعی طور پر معاون ثابت ہو سکتا ہے،جب ہم اپنی ذات میں ،اپنے خاندان کی تعلیمات اور تربیت میں سنوار اور شخصت میں نکھار پیدا کر یں گے تبھی مضبوط خاندان، محفوظ عورت ، مستحکم معاشرہ تکمیل پا سکے گا۔




































