
صبا احمد
مسلم معاشرے کی عورت بہادری،قربانی و ایثارکی علامت ہے۔نبی کریم صہ نےاسے" نازک آبگینے" کہا۔یہ ماں ،بیٹی بہو ،بہن اور بیوی ہر
حیثیت سے بہادر ،ایماندار،وفاداری اور وفا کی پیکر ہے ۔حضرت خدیجہ رضہ تجارت کےپیشے منسلک تھیں ،محمد صہ سے نکاح کے بعدانہوں نے اپنی دولت دین اسلام کی اشاعت و ترویج کیلئے خرچ کی ۔نبوت ملنے کے بعد آپ صہ کا حوصلہ ہمیشہ بلند کیا ۔
حضرت فاطمہ الزہرا جنت کی شہزادی ہر مشکل میں حضرت علی کرم وجہہ کا ساتھ دیا ۔ چکی میں آٹاپییس پیس کر ہاتھ زخمی ہوگئے تھے ۔گھر کا سارا کام خود کرتیں ،معرکہ فتح مکہ اور مدینہ میں اسلامی نظام کے قیام تک خواتین نے قربانیاں دیں ۔
آج فلسطینی مائیں اور بیٹیاں کفاراوریہودسےاپنے مردوں کے شانہ بشانہ لڑرہی ہیں، افزائش نسل کا اہم فریضہ بھی ادا کر رہی ہیں ۔ فلسطینی بیٹیوں نے پندرہ ماں جنگ کی انبیاء کی سرزمین قبلہ اول کی حفاظت کے لیے کیونکہ اسلام ان کی پہچان وزندگی ہے ۔عافیہ صدیقی جس نے یہ عزم کیا تھا کے ان یہود و نصاری ٰکو مسلمان بنا کر رہوں گی ۔اس کی پاداش میں سال ہا سال امریکہ میں85 سال کی عمر قید کی سزا کاٹ رہی ہے ، وہ رہائی کاعزم لیےجیتی ہے ،تشدد برداشت کرتی ہے ۔ غزہ کی بیٹیاں وہ بے مثال قربانیاں دے رہی ہیں جن کی کی مثال نہیں ۔
فلسطین نے دنیا کی دو بڑی سپر پاورز کی بد ترین نیوکلیئر بمباری کا سامنا کیااورحماس نےمزاحمت کی ایمان اورتھوڑے سےجنگی سامان و ہتھیار اور پتھروں کے ساتھ ،جنگ بدر کا معرکہ یاد کرایا کہ ایمان اور حوصلےسےکیسے دشمن کو زیر کیا جاتا ہے ۔
پشت پر ان کی عورتیں تھیں جنہوں نے اپنےجوان بیٹوں مردوں کو اس عظیم مقصد کےلیےجنم دیا۔ان کی تعلیم و تربیت قرآن وسنت کے مطابق اور قرآن کو ان کے دلوں کا سکون اورآنکھوں کا نور بنایا ۔ اسےان کے دلوں دماغ میں محفوظ کیا ۔
اسلام کے یہ سپوت دنیا کے عیش و آرام کے لیےنہیں بلکہ دین اسلام کی سربلندی کے لیےپیدا ہوئےہیں ۔ان کی گودیں جنگ میں بھی علم کا گہوارہ بنی رہیں ۔بچوں کو دلوں کو قرآن کی تلاوت سے گرماتی رہیں کہ تم نوجوان حفاظت کے لیے پیدا ہوئے ہیں اور تمہاری منزل شہادت ہے ۔ان بہادر بیٹیوں نے شیر خوار نوجوانوں کے لاشے اٹھائے ہیں ۔ہجرت کی بھوک پیاس سہی مگر اس سرزمین انبیاء کو تنہا نہ چھوڑا ۔زمین کا زرہ زرہ ان کی شہادتوں کے لہو سے تر ہے۔ ہوائیں شہادتوں سے معطر ہےمگر ان کی امید کہ حسبناللہ نعیم الوکیل اور اللہ اکبر سے روشن رہی ۔
مسلم دنیا کو فخر ہے اور سلام پیش کرتے ہیں بنت غزہ کی جرات اوراستقامت کو کہ انہوں مسلم عورت کےاندرجذبہ شہادت کی تمنا کو زندہ کیا ۔ عورتیں ایمان کی سر بلندی کے لیے کتنی قربانیاں دے سکتی ہیں اور دیتی آئیں ہیں۔ حضور صہ کے دور کی یاد تازہ ہوتی ہے کہ ا یک خاتون ام خلاد کابیٹا جنگ میں شہید ہوگیا ۔تو وہ اس کے متعلق حضور صہ سے پوچھنے آئی اس حال میں کے چہرے پر نقاب پڑا تھا بعض صحابہ رضہ نے حیرت سے کہا ایسی حالت میں بھی جب کہ ماں کو کسی چیز کی خبر نہیں رہتی۔ جواب دیا" میں نے بیٹا کھویا ہے حیا نہیں" ۔
تو فلسطین کی عورت نے مثال قائم کی کہ گھر بار شوہر بچے کھونےکے باوجود جبکہ پورا غزہ ملبےکاڈھیر بن گیا مگرملبے کے اندر نکلی توفوراً حجاب لیا ۔سر اور جسم ڈھانپا، حیا کا پیکر بنی رہیں ۔
غزہ کی عورت قابل تقلیدت،قابل عظیم ہے اوریہ جہان آباد تم سے ہے۔ تم نےجان ومال اولاد کی قربانی دی ۔سر زمین انبیاء کی حفاظت کے لیے ۔ تمہاری تقلید ہر امت کی بیٹی پر واجب ہے ۔تم امت مسلمہ کا فخر اور ان کے سر کا تاج ہو ۔
بقول اقبال
غلامی میں کام آتی نہ تدبیر نہ شمشیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
جو غزہ کی بیٹی نے سچ ثابت کر دکھایا۔




































