
ام ہانی/ ملتان
رمضان المبارک کی پرسکون صبح تھی، گھرمیں عبادت کا ماحول تھا۔ احمد اورفاطمہ اپنے والدین کے ساتھ سحری کر رہے تھے۔ دونوں بہن بھائی نوعمر
تھے اور روزہ رکھنےکا خاص جوش رکھتے تھے۔ سحری کے بعد سب نے مل کر فجر کی نماز ادا کی۔
نماز کے بعد احمد نے اپنے بابا کا موبائل اٹھایا اور سوشل میڈیا پر مصروف ہو گیا۔ فاطمہ بھی ٹیبلیٹ پر ویڈیوز دیکھنے لگی۔ والدہ نے مسکرا کر کہا۔۔۔ بیٹارمضان میں ہمیں اپنا وقت قیمتی بنانا چاہیے۔
احمد نے حیرت سے پوچھا،ماما! سوشل میڈیااستعمال کرنا غلط ہے؟
والد محترم جو قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے گفتگو میں شامل ہو گئے۔ انہوں نے کہا، بیٹا! سوشل میڈیا بذاتِ خود غلط نہیں لیکن اس کا استعمال کیسے کرتے ہیں یہ اہم ہے۔ رمضان میں تو ہمیں اپنے وقت کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔
فاطمہ نے کہا، بابا! آپ ہمیں بتائیں کہ رمضان میں سوشل میڈیا کا صحیح استعمال کیسےہوسکتا ہے؟
والد صاحب نے ایک حدیث سنائی
رسول کریم ﷺ نے فرمایا :”اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اوردغا بازی کرنا( روزے رکھ کر بھی)نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔“(صحیح بخاری: 1903)۔
انہوں نے وضاحت کی، بیٹا! روزہ صرف بھوک پیاس کا نام نہیں بلکہ ہماری زبان، آنکھوں اور دل کا بھی روزہ ہونا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر جھوٹ، غیبت یا فحش مواد دیکھنے سے روزے کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔
احمد نے سوچتے ہوئے کہا، تو کیا ہمیں سوشل میڈیا بالکل چھوڑ دینا چاہیے؟
والدہ نے نرمی سے کہا، نہیں بیٹا! ہم سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کر سکتے ہیں۔ جیسے قرآن کی تلاوت سننا، دینی لیکچرز دیکھنا یا خیرات کی ترغیب دینے والی پوسٹس شیئر کرنا۔
پھر والد صاحب نے قرآن کی ایک آیت پڑھی
”اے ایمان والو! روزہ تم پرفرض کیا گیا ہےجیساکہ تم سےپہلے لوگوں پرفرض کیا گیا تھا تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔“(البقرہ: 183)
انہوں نے کہا، اس آیت کا مقصد یہی ہے کہ رمضان ہمیں تقویٰ سکھاتا ہے۔ اگر سوشل میڈیا ہمارے تقویٰ میں اضافہ کرے تو یہ فائدہ مند ہے، ورنہ نقصان دہ۔
فاطمہ نے خوش ہو کر کہا، بابا! کل میں نے ایک عالمِ دین کا لیکچردیکھا جس میں رمضان کےفضائل بتائے گئے تھے۔ کیا یہ بھی مثبت استعمال ہے؟
والدہ نے مسکراتےہوئے کہا، بالکل!اس طرح کی چیزیں ہمیں ایمان میں مضبوط کرتی ہیں۔
پھر والد صاحب نےکہا، لیکن یاد رکھو! سوشل میڈیا پر عبادت یا نیک کام دکھاوے کے لیے شیئر نہ کروکیونکہ یہ ریاکاری ہو سکتی ہے۔
فاطمہ نے مزید پوچھا،بابا! اگر ہم سوشل میڈیا پر اپنا وقت ضائع کریں تو اس کا روزے پر کیا اثر پڑتا ہے؟
والد صاحب نے بتایا، بیٹا! رمضان میں ہر نیکی کا ثواب بڑھ جاتا ہے اور وقت کا ضیاع ایک طرح سے اس ثواب کو کھونا ہے۔ سوشل میڈیا پر غیر ضروری وقت گزارنا ہمیں قرآن پڑھنے، دعا کرنے اور اللہ سے قربت حاصل کرنے سے دور کر سکتا ہے۔
احمد نے سوچا،”پاپا! ہم تو روزے کی حالت میں بھوکے پیاسےرہتے ہیں، پھر سوشل میڈیا کا کیا تعلق؟“
والد محترم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان سنایا
’’بعض روزے داروں کو روزے سے بھوک کے سوا کچھ نہیں ملتا اور بعض قیام کرنے والوں کو قیام سے بیداری کے سوا کچھ نہیں ملتا۔‘‘(سنن ابن ماجہ: 1690)
انہوں نے کہا، یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہےکہ اگرہم برے کاموں میں پڑے رہیں،توروزہ اپنی برکت کھو دیتا ہے۔
فاطمہ نے پرجوش ہو کر کہا،”تو ہم سوشل میڈیا پردینی پیغامات، دعائیں اور خیرات کی معلومات شیئر کریں گے“
والدہ نے کہا، بہت اچھا! اور ساتھ ہی یہ عہد کریں کہ ضرورت کے بغیر موبائل استعمال نہیں کریں گے۔
اس گفتگو کے بعد احمد اور فاطمہ نے موبائل ایک طرف رکھ دیےاوروالدین کے ساتھ قرآن کی تلاوت میں مشغول ہو گئے۔ گھر میں سکون اور روحانیت کا ماحول چھا گیا۔




































