
ادینہ سہیل
قسط نمبر دو
سب خاموشی سے کھانا کھا رہے تھے مگر رافعہ کو کہاں سکون تھا لہٰذا وہ بولی "دادا جان کہاں ہیں؟ کھانا نہیں کھائیں گے کیا؟"
"نہیں بیٹا آپ لوگ کھانا کھا لو ان کی طبیعت ذرا ٹھیک نہیں ہے" تائی جان نے دونوں کو آنکھیں دکھائیں-
دونوں نے خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی اور کھانا کھانے کے بعد جب وہ دونوں اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگیں تو انہوں نے کسی کالے کوٹ والے آدمی کو دادا جان کے کمرے میں جاتے دیکھا۔
"یہ کون ہے؟" رافعہ نے عدن کے کان میں سرگوشی کی
"جادوگر ہے! کرتب دکھائے گا، دادا جان کو ہنسانے کے لیے" عدن نے طنز کیا-
"مگر اس عمر میں دادا جان کرتب سے خوش ہوں گے؟" رافعہ بھی اپنی جگہ پر ڈٹ گئی-
ارے یار، ذرا سا پڑھ لیا ہوتا نا تو آج پہچان لیتی کہ کالے کوٹ اور پینٹ میں ملبوس بندے کو وکیل کہتے ہیں- 'اگر جادوگر ہوتا تو کالا کوٹ کیوں پہنتا'؟؟ عدن نے چڑ کر کہا -
"ہو سکتا ہے کالا جادو دکھاتا ہو" رافعہ نے ہنس کر کہا-
بہن تم ٹھیک میں غلط!! اب خوش، عدن نے ہار مان لی-
ویسےیہ وکیل کیا کر رہے ہیں ادھر۔۔۔ عدن سوچنے لگی۔
ارے،،اتنا پریشان کیوں ہو رہی ہو، ہو سکتا ہےدادا کے کوئی دوست ہوں رافعہ نے عدن کو پریشان دیکھ کر کہا-
عدن: نہیں یار میں دادا کے ہر دوست کو جانتی ہوں۔ دادا جان کےصرف ایک ہی دوست تھے ،سلیمان انکل ان کی بھی پانچ سال پہلے وفات ہو گئی- مجھے تو ڈر لگ رہا ہے کیونکہ ڈاکٹر صاحب اور وکیل جب ایک دفعہ پیچھے پڑ جائیں نا تو کبھی پیچھا نہیں چھوڑتے۔
"ارے دادی اماں!! بندکر دو اپنی دور اندیش باتیں... فضول میں تم اتنا پریشان ہو رہی ہو۔ رافعہ نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا-
اور پھر عدن کے ذہن سے مکمل طور پر یہ بات نکلنے ہی والی تھی کہ ایک دن عدن نے دوبارہ دادا جان کو اپنے بابا یعنی صدیق صاحب سے اسی لہجے میں بات کرتے سنا وہ شاید ان کو کسی بات پر ڈانٹ رہے تھے ۔عدن نے کھڑے ہو کر مزید باتیں سننا مناسب نا سمجھا لہٰذا وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔
۔۔۔۔۔"مجھے سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے!! بس جو کہاہے وہ کرو" ہلال پاشا شدید غصے سے بولےـ
فراز کو ہلال پاشا کے غصے پر نہ تعجب ہوا اور نہ ہی وہ ان سے غصہ کرنےکی وجہ پوچھنا چاہتا تھا- وہ فراز تھا اپنی دھن میں مگن رہنے والا ،لیکن وہ شروع سے بے حس نہیں تھا۔ شاید یہ بے حسی ہلال پاشاہ سے اس میں منتقل ہوئی تھی۔ اپنے باپ سے واحد چیز جو اس کو ورثے کے طور پر ملی وہ ضد تھی- وہ بے انتہا ضدی تھا ،جب کسی چیز کو حاصل کرنے کی سوچتا تو اس کو پیار یا غصے سے چھین کر دم لیتا تھا،شایدیہ ضدی پن بچپن میں اس کی ہر ضرورت پوری کر دینے کی وجہ سے تھا ۔وہ اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا، نہایت لاڈلا۔۔ پیدائش پر ہلال پاشا اور اس کی ماں مطہرہ نہایت خوش تھے- فراز نے اپنا سارا بچپن پھولوں میں گزارا ۔وہ کانٹوں کا مطلب بھی نہیں جانتا تھا لیکن اس واقعے نے اس کی زندگی کو کانٹوں سے اس قدر بھر دیا کہ اب اسے خوشیوں سے ڈر لگتا تھا ،خوشیوں کے موقع پر وہ ظاہری طور پر تو مسکرا دیتا لیکن وہ خوشی اسے طوفان کی آمد کا امکان لگتی تھی ۔ وہ دل سے مسکرانا بھول گیا تھا، اس نے اپنے بچپن کے بعد زندگی کو کبھی خوش گوار محسوس نہیں کیا۔ اس کے درد کی انتہا یہ تھی کہ وہ رونا بھی بھول گیا ۔وہ رونا چاہتا تھا ،سب کو بتانا چاہتا تھا اپنی روداد مگر وہ اتنی سی عمر میں یہ بات سمجھ گیا تھا کہ غموں کی نمائش سے غم کم نہیں ہوتے بلکہ یہ صرف ڈھنڈورا پیٹنا ہوتا ہے اور وہ اپنی زندگی کو، خود کو اتنا کمزور دکھا کر اپنا مذاق نہیں بنوانا چاہتا تھا ،شاید یہی غم اس کو اندر سے کھاتا جا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔
"بیٹا اٹھو ناشتہ کر لو" سیف کی امی عابدہ بیگم نے سیف کے کمرے کے پردے ہٹا کر پیار سے کہا- سورج کی تیز شعائیں سیف کے چہرے کو چمکا رہی تھیں جس کی وجہ سے مغرب کی کالک بھی چھپ گئی تھی۔ "امی آرہا ہوں" سیف نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا-
سیف کالی ٹی شرٹ کے ساتھ نیلی پینٹ میں کسی جزیرے کا شہزادہ لگ رہا تھا۔ اس کے ہاتھوں کی ہری نسیں صاف نمایاں ہو رہی تھیں جو روزانہ جم کرنے کا پھل تھیں- اس کے حلقے گرے بال اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہے تھے۔ وہ یقیناً حسن و جمال میں اپنے دوست سے بھی دو ہاتھ آگے تھااور وہ یہ بات خود بھی جانتا تھا۔
سیف ٹیبل پر بیٹھتے ہی ادھر ادھر نظر دوڑانے لگا،جیسےوہ کسی کو ڈھونڈرہا ہو۔"داؤجی کہاں ہیں؟" سیف نےبرابر کرسی پر بیٹھی عابدہ بیگم سے سوال کیا۔
وہ اپنے کمرے میں آرام کر رہے ہیں۔ ان کو میں نےکمرے میں ہی ناشتہ دے دیا ہے ۔عابدہ بیگم بولیں۔
'ہائیں!!! کیا اتنا کچھ بدل گیا میرے جانے کے بعد، مطلب وہ لوگ جنہیں کمرے میں کھانے سے نفرت تھی کہ جن کے خیال میں انگریزی زبان کا یہ فقرہ کسی بہترین لکھاری نے لکھا تھا کہ" اگر اپ کو کھانا بستر پر چاہیےتو جائیں اور کچن میں سو جائیں"۔
وہ آج خود اپنا بنایا ہوا اصول کیسے توڑ سکتے ہیں؟ داؤجی اپنے اصولوں سے بہت محبت کرتے تھے۔ داؤ جی کے خیال میں ان کے اصولوں کو توڑنے کی سزا موت ہے صرف لیکن کبھی کبھی انسان کو سمجھوتا کرنا ہی پڑتا ہے- سیف نے دل میں سوچا- "بیٹا بس سر میں درد ہے، رات کو ٹھیک سے سوئے نہیں اس لیے میں نے عابدہ بیگم سے کہا کہ ناشتہ دے کر دوائی دے دیں تاکہ ان کی نیند پوری ہو جائے"۔
سیف کے والد سرمد صاحب نے سیف کو خیالوں میں گم دیکھ کر تسلی دی-
جی، جی ٹھیک ہے۔ سیف نے جوس کا کلاس ہونٹوں سے لگایا۔
"مجھے لگتا ہے میں نے آپ کو دیکھا ہے کہیں" اس دن یونیورسٹی میں۔۔۔ ایک اجنبی لڑکے نے کہا۔
جی ؟جی، عدن اس شخص کی طرف مڑی اور اس سے پہلے کہ وہ عدن کو پہچان پاتا عدن جلدی سے ہڑبڑاتے ہوئے ادھر سے بھاگ گئی-
کیا عجیب لڑکی تھی یار۔۔۔۔ مطلب واہ۔۔۔۔۔ تمہیں دیکھتے ہی بھاگ گئی۔ اس کے پاس والے لڑکے نے مزاحیہ انداز میں کہا حالانکہ وہ شخص نہ سمجھی میں سارے منظر کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔( جاری ہے)




































