
ہماعدیل
کھڑکی کے باہر ہمیشہ بدلتے مناظر ، جیسےفطرت اورزندگی کی چلتی پھرتی ایک فلم، ایک لمحےافق تک پھیلے سرسبزوشاداب میدان یا بلوچستان کے
آسمان کو چھوتے سنگلاخ پہاڑ۔۔۔مسافر اپنی اپنی منزل پر پہنچنے کے منتظر۔۔۔۔بس ایساہی سفرشروع ہوا ہوگا۔ جعفر ایکسپریس کامگرمشکف ٹنل پر ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جو پاکستان کے ارباب اقتدار کی پالیسی و سنجیدگی پر کئی سوالات اٹھاتا ہے۔ زرا سوچیں تو یہ جعفر ایکسپریس جو شاید ملک کی یکجہتی کا استعارہ بن سکتی تھی جو چاروں صوبوں سے گزر کر اپنی منزل تک پہنچتی ہے۔دنیا کے سامنے ملکی یکجہتی پر ایک سوال بن بن گیا ،قوم کالعدم تنظیم بی ایل ایل کے ظلم کا نشانہ بنی ۔ہمیشہ کی طرح کئی سوالات کہ ہمیشہ ہمارے پاس صرف سوال ہی ہوتے ہیں ۔
کیسےبی ایل اےاس حد تک طاقتورہوگئی کہ جدید آٹومیٹک ہتھیاروں اورراکٹ لانچرزکےساتھ ٹرین ہائی جیک کرلی؟۔ہمیشہ اس کالعدم تنظیم بی ایل اے کو بھارت کی سپورٹ حاصل ہونے کی خبر سنی مگر اس بار بھارت سے زیادہ افغانستان سے شکوے شکایت ہیں ۔سوچئے اس بات کی طرف کہ کیسے یہ کالعدم تنظیم پڑھے لکھے بلوچ نوجوانوں کی حمایت حاصل کررہی ہے؟۔آخر یہ میسنگ پرسنز کا مسئلہ کیسے حل ہوگا۔ایف سی کے لوگ، آرمی کے جوان ، چینی انجینئرز اور عام عوام سب نشانے پر ہیں تو حکومت کیوں انہیں روک نہیں پارہی ،کیوں لوگوں کو تحفظ نہیں دیا جارہا ۔
بلوچوں کا احساس محرومی اور سی پیک پراعتراضات کیسےختم ہوں گے؟ بلوچ عوام کی دوریاں کیسےختم ہوںگی،ان نمائندگان سےجوایوانوں میں بیٹھے ہیں۔یہ بھی ایکسوال ہے کہ جن بلوچ نمائندوں کو فنڈز ملتے ہیں تو اس کا ثمر عام بلوچ عوام تک کیوں نہیں پہنچتا ۔ایسا کیوں ہے کہ اتنے نقصانات اٹھانے کے باوجود آج پھر دہشت گردی کسی اژدھے کی طرح سر اُٹھائے کھڑی ہے ؟۔
جب حقیقی سیاسی عمل کاراستہ روکا جائےگااورجب پرامن احتجاج کودبانےکی کوشش کی جائےگی لوگوں میں مایوسی بڑھےگی۔ ناجانے کب ہماری حکومتیں اور اربابِ اختیارسیاسی کھیل کے بجائےسنجیدگی کے ساتھ ملکی یکجہتی اور استحکام کے لئے کوئی مربوط حکمت عملی بنائیں گی۔
نوٹ : ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )




































