
محمد عامر صدیقی
ہوا میں پیدا مسلم اس دھرتی پہ
دنیا کی رنگینیوں نےمُجھے کافربنا دیا
دوستو۔۔۔ انسان رب العزت کی بنائی گئی ایک ایسی مخلوق ہے جو شعور وعقل اورجذبات رکھنےکےساتھ ساتھ ایک سماجی حیوان بھی تصور کی جاتی ہے جو سیکھنے' سمجھنے' سوچنے اور خیالات کا اظہار اپنے عمل یا لفظوں سے کرنے کی بہترین صلاحیت خاص رکھتا ہے. کئی مذاہب اور نظریات کے مطابق انسان کو ایک خاص مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور اس کی زندگی بھی ایک معنی ہے۔
اور اگر جذباتی اور سماجی پہلوؤں کو دیکھیں تو انسان محبت' دوستی' نفرت' رحم اورانصاف جیسے احساسات کا حامل ہوتا ہے وہ تعلقات بناتا ہے معاشرتی نظام تشکیل دیتا ہے اور ثقافت و تہذیب کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔
انسانیت
دوستو۔۔۔۔- کسی بھی رنگ ونسل مذہب' زبان' قوم و ملک سےتعلق رکھنےوالےانسان کو دوسرے انسان کی جان و مال عزت و آبرو کا تحفظ یقینی بنانا انسانیت ہے اسی وجہ سے اس کائنات میں ہر انسان کو عزت و فضیلت کا مرتبہ و مقام حاصل ہے۔
یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کے کام ائے دنیا میں انساں کے انساں
انسان کوئی اور نہیں اس نبی کا امتی ہےجو روح العالمین ہیں جس کےعمل انسانیت کی داستانیں اس دنیا کی تاریخوں میں بھری پڑی ہیں ۔ آخرآج انسان اپنے عمل پر شرمندہ کیوں نہیں شاید آج کا انسان دولت کو خوش نصیبی سمجھتا ہے اور یہی اس کی بدنصیبی کا ثبوت ہے۔دوسروں کو گرانے کےچکر میں خود گر گیا ہےاپنی نظروں میں بھی اور انسانیت سے بھی۔ آج انسان کو اخلاقیات کی تمام حدیں پار کرتے اور اپنے عمل کی بدولت قیامت سےقبل میدان حشر سجاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اج ہم انسان کو دودھ میں لاش کولگانے والے کیمیکل کی ملاوٹ کرتے بھی دیکھتے ہیں اور کہیں مہنگائی، بدامنی، لاقانونیت، فرقہ واریت،ہم جنس پرستی، زنا اس کا مشغلہ بن گیا ہے۔اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہماری اور ہماری نسلوں کا مقدر کیا ایسا ہی تھا یا بنا دیا گیا ہے۔
کیا خوب کسی نے کہا ہے
جب سوچ حد سے گزر جاتی ہے تو خوف جکڑ لیتا ہے
کیا ہمارے ارباب واختیاراپنی اخلاقی واسلامی تعلیمات جونبی(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کےہدایت وعمل کےذریعےہم تک پہنچائیں گئیں انہیں بھلا کر کسی گناہ کے مرتکب تو نہیں ہو رہے یا یہ ہمارے گناہوں کی کوئی سزا ہے۔
وہ کہتے ہیں نا جیسے لوگ ویسےہی حکمراں یا جیسی روح ویسے ہی فرشتےتوپھرکیوں نہ ہمارے سرشرمندگی وندامت سےجھک جائیں۔
جب آج ڈاکٹر مسیحا نہیں قصائی کا روپ دھار کرچند روپوں کےلالچ میں مریضوں کوجانوروں کی طرح حلال کرنےلگیں۔جب میڈیکل اسٹوروں پرجالی دوائیاں کھلے عام بکنے لگیں۔ جب ذخیرہ اندوزی سے اناج کے یہ اپنے گودام بھرنے لگیں۔جب کھیل کے میدان میں کھلاڑی ملک کا سودا کر کے اپنی بولیاں لگانے لگیں ۔جب سود کو حلال بنا کر ہم تک پہنچانے کے نئے نئے طریقے اپنائےجانے لگیں۔جب ہماری جان ومال عزتوں کے محافظ ہی ہمارا سودا کر کے اپنی تجوریاں بھرنے لگیں۔ جب ہمارے علماء دین پر کم سیاست پرعمل زیادہ کرنے لگے۔جب نیکی چھپ کر اور گناہ سرعام کیا جانے لگے تو ہم کس طرح سے خود کو اچھا سچا ملسمان اور انسان قراردیں ؟؟؟
آخر ہم کس چیز پر فخر کریں ہم کس حیثیت سے بحیثیت انسان سر اٹھائیں۔ کیا آج کا انسان معاشرے کے بدترین لوگوں میں نہیں جو کمزور کی غلطی پر شور مچاتے ہیں اور طاقتور کی غلطی پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرتے ہیں۔
اچھا انسان ریاضی کے (زیرو) یعنی صفر کی طرح ہوتا ہےجس کی اپنی قیمت کوئی نہیں ہوتی مگر وہ جس کے ساتھ جڑ جائے اس کے قیمت دس گنا بڑھ جاتی ہے۔اب آپ سوچیے کسی کے ساتھ جڑ کر مثال بنناچاہتے ہیں یا اپنی زندگی تنہا گزارنا کر۔




































