
آج رمضان المبارک کی بابرکت 27ویں شب ہے، جو دنیا بھر کےانسانوں کےلیے ایک عظیم سعادت ہے۔یہ وہ متبرک رات ہے جس میں اللہ رب العزت نے اپنی
ہدایت اور رحمت کے دروازے کھولے، اپنے احکامات نازل فرمائے اور نوعِ انسانی کو آزادی و حریت کی نعمت سے سرفراز کیا۔ اسی رات قرآنِ عظیم جیساابدی ضابطہ حیات مرحمت فرماکر انسانوں کو ذہنی و جسمانی غلامی سے ہمیشہ کے لیے نجات کا راستہ دکھایا۔ فلاحِ انسانیت انسانیت کی اسی مقدس رات میں ربِ کائنات نے مسلمانانِ برصغیر پر بھی اپنا خاص احسان فرمایا اور ہمیں قیام ِ پاکستان کی نعمت عطاکی۔ ہماری کوتاہیوںاور غفلتوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام کے احیا و استحکام کے لیے ایک آزاد ریاست کا تحفہ دیا، تاکہ ہم اپنے دینی ، اخلاقی اور قومی فرائض کو بہتر طور پر انجام دے سکیں۔
27۔رمضان المبارک، جوکہ یومِ نزولِ قرآن بھی ہے،اسی روزپاکستان کاحقیقت بنناکوئی اتفاق نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ازلی اور ابدی رشتہ ہے جو اس مقدس سرزمین اور قرآن کے احکامات کو آپس میں جوڑتا ہے۔ اس دن کو یوم ِ استقلال پاکستان کے طور پر منانا، اللہ کی اس عظیم نعمت کا شکر ادا کرنے کے مترادف ہے۔
بانی ہمدرد پاکستان، شہید حکیم محمد سعید نے اسی حقیقت کو محسوس کرتےہوئےیوم ِاستقلال پاکستان کی تحریک کاآغازکیا۔ جب اُنہوں نےدیکھا کہ قیامِ پاکستان کے اصل مقاصد کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے، تو اُنھوں نے ملت ِ پاکستان کو اس نظریے کی یاددہانی کرانے کے لیے اپنی زندگی وقف کردی۔ اُنھوں نے نہ صرف فکری طور پر اس پیغام کو عام کیا، بلکہ ایک میدان ِ عمل بھی فراہم کیا، جہاں یوم ِ استقلال ِپاکستان کو دینی اور ملّی جذبے کے ساتھ منانے کی تحریک شروع کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہمدرد پاکستان کے تمام دفاتر اور درس گاہوں میں یوم ِ استقلال ِپاکستان کوخصوصی طور پرمنایا جاتا ہےتاکہ نئی نسل کو پاکستان کی اصل شناخت اور اس کے قیام کے مقاصد سے روشناس کرایا جاسکے۔
یہ ہم سب کا قومی اور دینی فریضہ ہے کہ ہم ۲۷۔رمضان کو یوم ِاستقلال کے طور پر منائیں، کیوں کہ یہ حقیقت کےعین مطابق ہےاورہمیں پاکستان کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس دن ہم اپنی نسلوں میں اُس میثاق ِ ازل کی یاد تازہ کرسکتے ہیں، جس کی بنیاد پر یہ پاک سرزمین ہمیں عطا ہوئی۔
آج اجر ِعظیم کی اس رات ہمیں چاہیے کہ اپنی عبادات میں اپنی کوتاہیوں پراللہ سےمغفرت طلب کریں، خاص طورپراُن غلطیوں کی،جن کی وجہ سے ہم قرآنی احکامات اور قیام ِ پاکستان کے اصل مقصد کو بُھلا بیٹھے ہیں۔ ہم نے اپنی اجتماعی قوت کو ضائع کرکے لسانی و علاقائی تعصب کو فروغ دیا، جس کی وجہ سے قوم انتشار کا شکار ہوگئی۔ آج پاکستان کی ترقی و سلامتی کے لیے خصوصی دعائوں کے ساتھ ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اللہ کی عطا کردہ نعمتِ پاکستان کا شکر ادا کریں گے۔ اس کی ترقی اور استحکام کے لیے اپنا کردار اداکریں گے اور اپنی زندگی کو احکام ِ الٰہی کے تابع بنائیں گے۔
اگر ہم اس احساس ذمے داری کے ساتھ آگے بڑھیں ، تو پاکستان وہ مثالی اسلامی ریاست بن سکتا ہے،جس کا خواب قائد اعظم محمد علی جناح ، علامہ محمد اقبال اور شہید حکیم محمد سعید نے دیکھا تھا اور جس کے قیام و استحکام کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے قربانیاں دیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس بابرکت رات کی فیوض و برکات نصیب فرمائیں اورہمیں پاکستان کی حقیقی تعمیر و ترقی میں اپنا کردارادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین!




































