
قسط نمبر 3
ادینہ سہیل
امی مجھے کراچی جانا ہے۔۔۔ دوپہر میں امی کو کاموں میں مگن دیکھ کر سیف نے کہا- کیوں؟؟ سیف اگرتمہیں فراز سے ملنے جانا ہے تو میری طرف سے
صاف انکار ہے- عابدہ بیگم نے سوال کر کے خود ہی جواب دے دیا- سیف سمجھ گیا کہ سچ بولنے سے اسے کبھی اجازت نہیں ملے گی لہٰذا اس نے کچھ کتابیں لینے کا بہانہ کیا-
" ایسی کون سی کتابیں ہیں جو حیدرآباد میں نہیں؟" عابدہ بیگم نے اسے گھورا- امی ہیں کچھ کتابیں اور مجھے جس مصنف کی چاہئیں اس کی کتاب موجود ہے کراچی کے کتب خانے میں- سیف نے بات گھمائی- اچھا ٹھیک ہے مگر ڈرائیور تمہارے ساتھ جائے گا اور تم صرف دن میں وہاں جاؤ گے اور واپس آجاؤ گے رات بسر نہیں کرو گے- امی نے حتمی فیصلہ سنایا-
جی ٹھیک ہے، سیف نے حامی بھری۔
رافعہ ذرا عدن کو تو لے آؤ کمرے سے، جب سےآئی ہے کمرے میں بند ہے- فریحہ تائی نے کہا-
ایک تو میڈم کبھی کبھی یونیورسٹی جاتی ہیں اور پھرآکر کمرے میں بند ہو جاتی ہیں اور کھانا تو ایسے کھاتی ہیں جیسے ہماری نسلوں پر احسان کر رہی ہوں۔ رافعہ بڑبڑاتے ہوئے عدن کے کمرے میں چلی گئی۔
"کھولو بھی میڈم!! کیا قیامت کا انتظار کر رہی ہو؟ رافعہ نے زور سے دروازہ بجا کر کہا-
"کیا مصیبت ہے؟" عدن نے دروازہ کھولا-
یقیناً کہانی میں لیلہ نے مجنوں کو دھوکادے دیا ہوگا جبھی تو اس قدر غصے سے لال ہو رہی ہو۔ رافعہ نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا- عورت ذات جب سچی محبت کرتی ہے تو دھوکہ نہیں دیتی۔ وہ صرف اپنے باپ کو دیکھ کر چھوڑنے کا کڑوا گھونٹ پیتی ہے،صرف باپ کی عزت کے لیےمگر یہ لڑکے یہ تو مذاق بنا دیتے ہیں محبت کا۔ان کے لیے یہ سب صرف ایک مشغلے کی مانند ہے۔ سمجھی تم!!! عدن بولی-
"جی بی اماں سمجھ گئی" اب کھانا کھا لیں پھر مجھےایک ضروری کام ہے رافعہ شوخی سے بولی-
جانتی ہوں تمہارا ضروری کام یقیناً سوشل میڈیا پر نئی ویڈیو ڈالنی ہوگی، عدن نے طنز کیا-
ہاں صحیح سمجھیں آپ۔۔۔۔ اب چلیں -
"دور رہو اس سب سے، یہ سوشل میڈیا فتنہ ہے،یہاں جتنی خوبصورت چیزیں نظر آتی ہیں، ان کی حقیقت اتنی ہی خوفناک ہوتی ہے" عدن نے اسے تنبیہ کی- میں جا رہی ہوں بھوک لگے تو آجانا رافعہ اس کے بات سنی ان سنی کرتے ہوئے نیچے چلی گئی۔
"بیٹا آج یونیورسٹی میں دن کیسا گزرا "؟امی کے سوال پراسے وہ صبح والاشخص یاد آگیا- اس نے ہڑبڑاتےہوئےکہا:جی امی صحیح گیا، میں نے کھانا کھا لیا ہے، اب آرام کروں گی- تھک گئی ہوں وہ اپنے کمرے میں چلی گئیـ
"اسے کیا ہو گیا؟" فریحہ بیگم نے رافعہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا- 'پتا نہیں، آپ کھائیں میں دیکھ لوں گی۔رافعہ نے اپنی تائی کو تسلی دیـ
آئی ایم سوری
ہم آپ کی بیگم کو نہیں بچا پائے"سامنےکھڑے شخص کویہ خوفناک خبردی گئی- سامنےکھڑےاس شخص کو لگا کہ جیسے وہ زندہ لاش بن گیا ہو، جیسے اس کی دنیا ختم ہو گئی ہو اور اس کو مٹی ڈال کر دفنایا جا رہا ہو- ویسے بھی پسندیدہ شخص کی جدائی انسان کو اندر سے ختم کر دیتی ہے ،پھر اسے بولنے سے زیادہ خاموشی بہتر لگنے لگتی ہےکیونکہ اس کےخیال میں اب کوئی اسے سننےاورسمجھنے والا نہیں- پتا نہیں اس خبر کے بعد وہ کتنی ہی دیر بے حس و حرکت اپنی جگہ پر کھڑا رہا۔
" آپ ڈیڈ باڈی لے جا سکتے ہیں" نرس نے اس سے کہا- وہ اپنی آنکھوں میں نمی لیے اپنی بیوی کی لاش کے پاس پہنچا-
بابا یہ کون لوگ ہیں؟ یہ سفید کپڑے میں کس کوہمارے گھر لا رہے ہیں؟
بابا: "بیٹا اپ اندر جاؤ، اس کے باپ نے اس کو پیار سے کہا"۔
نہیں!!! مجھے مما کے پاس جانا ہے، ابھی لے کر چلیں مجھے مما کے پاس، بچہ ضد کرنے لگا -
"جاؤں اندر سمجھ نہیں آئی" باپ نے غصے میں اس بچے کو پیچھے دھکیلا- اس کی نوکرانی سے کھینچ کر کمرے میں لے جانے لگے اور وہ بچہ معصومیت سے مما مما کہتا رہا۔
"تم ٹینشن مت لو میں کراچی آرہا ہوں" سیف نے فون پر فراز کو تسلی دی- میں بھلا کیوں کسی چیز کی ٹینشن لوں گا- فراز نے لاپروائی سے کہا-
" چلو ٹھیک ہے پھر میں دوبارہ انگلینڈ چلا جاؤں؟" سیف نے پوچھا-
"مرضی ہے، پاکستان میرے باپ کا ملک تھوڑی ہے کہ جہاں سے میں تمہیں نکالوں گا" فراز نے مزید لاپروائی کا مظاہرہ کیا-
"ٹھیک ہے، میں کل جا رہا ہوں" فراز نے گویا حتمی فیصلہ سنایا-
ارے یار، میں مذاق کر رہا تھا، تم تو سیریس ہی ہو گئے- فراز بولا- سیف: بھائی کمون میں کون سا سیریس تھا!!! کل آرہا ہوں تمہارے پاس
فراز: چلو ٹھیک ہے-
سیف: اور ہاں ایک بات سنو یہ لاپروابننے کی اداکاری کسی اور کے سامنے کیا کرو میں تمہاری رگ رگ سے واقف ہوں سمجھے تم!!!
"ہمم" ،فراز نے مسکراتے ہوئے فون بند کر دیا۔ (جاری ہے )




































