
محمد عامر صدیقی
مفلسی تلخ حقیقت ہے ۔عید آتی ہے توخوشیاں لاتی ہے مگر ساتھ ہی وہ مفلس اور غریب کے لیے آزمائش بن کر آتی ہے کیونکہ جب ایک مفلس شخص عید
کو منانے کے بارے میں سوچتا ہے تو اسے محرومی کا احساس بوجھل کر دیتا ہے۔پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 50 فیصد سے زائد لوگ خط غربت سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں ۔
عید پر جہاں یک طرف لوگ نئے کپڑے، مزیدار کھانے اور تحائف سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں وہیں بہت سے ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو غربت و مفلسی کے باعث ان خوشیوں میں شریک نہیں ہو پاتے ۔عید درحقیقت خوشیوں، محبت اور بھائی چارے کا تہوار ہے مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو عید بس ایک عام دن سے بھی زیادہ کٹھن محسوس ہوتا ہے اور جب یہ خوشیاں وسائل اور دولت سے جڑی ہوں تو غریب اور مفلس افراد کے لیے عید کا دن خوشی کے بجائے احساس محرومی اور اداسی کا باعث بنتا ہے۔ وسائل کی کمی کی وجہ سے غریب کی خواہشات پوری نہیں ہوپاتیں ۔ کپڑے اور جوتے خریدنا تو دور کی بات یہ بعض اوقات دو وقت کی روٹی کے لیے بھی پریشان ہوتے ہیں۔
غربت و مفلسی کا یہ پہلو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عید صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی ہوتی ہے اصل خوشی تب ہے جب ہم کسی غریب خاندان کو عید کے نئے کپڑے یاکچھ دیگر ضروری سامان خرید کر دیں۔ کسی کے دسترخوان پر کھانے کا اہتمام کریں یا کسی کو ایسا احساس دلائیں کہ وہ بھی اس خوشی کا حصہ ہے ۔عید کا پیغام صرف ظاہری خوشی نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے اور احساس بانٹنے کا ہے، اگر ہم اپنی عید کی خوشیوں میں غریب کو بھی شامل کر لیں تو یہ تہوار حقیقت میں عید کہلائے گا۔




































