
روبینہ نزائن
پیارے بیٹے ابوعبیدہ وعلیکم السلام آپ کا پیغام مجھ تک پہنچ گیا، آپ کے زخم ہم اپنے جگر پرمحسوس کرتے ہیں۔ بچوں عورتوں بزرگوں کے کٹے پھٹے
لہولہان بدن ہمیں رات کو سونے نہیں دیتے۔ ہمیں مسلمان ممالک کے بے حس حکمرانوں اور بے غیرت سپہ سالاروں پر بہت غصہ ہے جو امریکی غلامی میں اپنے فرائض سے غافل ہیں۔ ہم اللہ سے شرمندگی کے ساتھ شب وروز آپ کے لئے دعائیں کرتے ہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ خدا نے ہمیں حکم دے رکھا ہے کہ دشمن کےلئے جنگی سامان تیار رکھو ۔
بیٹے میں بہت شرمندگی کے ساتھ بتارہی ہوں ،میرا بس چلے تو اب تک اسرائیل کو ایٹم بم سے اڑا چکی ہوتی ۔مجھے محسوس ہوتا ہے کہ معصوم بچوں کی روحیں ناراضگی سے مجھ سے سوال کرتی ہیں ہم مار دیئے گئے اور تم نے کیا کیا ؟ میں اس امت کو کیسے سمجھاوں کہ دشمن ہمارے گھروں میں گھسا بیٹھا ہے ۔اگر آج مصر میں سیسی کی جگہ مرسی کی حکومت ہوتی تو غزہ والوں کو بھوکا پیاسا تو نہ رہنا پڑتااور پاکستان پر شہباز کی جگہ نعیم الرحمن ٰوزیر اعظم ہوتے تو پھر اسرائیل یہ جرات کرتا؟؟؟میں جب غزہ کے بچوں کوخوراک کیلئے برتن لئے کھڑا دیکھتی ہوں تو نوالہ میرے حلق میں اٹک جاتا ہے۔ ابو عبیدہ آپ ہمارے بچوں کے ہیرو ہو۔ آپ ہمارے گھر کے فرد ہو۔ آپ کے تذکرے صبح شام ہماری محفلوں میں رہتے ہیں۔ ہم آج بھی آپ کے مجرم ہیں۔ ہم آپ کیلئے کچھ نہیں کر رہے ۔روز حشر بھی ہم آپ سے شرمندہ ہوں گے ۔ابو عبیدہ پلیز اپنے بچوں سے کہو رسول اللہ سے ہماری شکایت نہ کریں ۔ہمارے بس میں ہوتا تو تمہیں یوں بھوکا پیاسا نہ رہنے دیتے۔ اتنی چھوٹی عمر میں تمہیں موت کے منہ میں نہ جانے دیتے۔ میرے جوان لیڈر تم حوصلہ نہ ہارنا۔ ہم پاکستان کی سڑکوں پر تمہارے حق میں ریلیاں نکال رہے ہیں۔ ہمارے لیڈر نے کل وزیراعظم سے بات چیت کی ہے اور انہیں ان کی ذمہ داری کا احساس دلایا ہے۔
ہم الخدمت کو فنڈ دے رہےہیں تاکہ وہ آپ کی ضروریات کا خیال رکھیں۔ ہمارے سینٹر مشتاق صاحب نے حکومت سے درخواست کی ہےکہ زخمی بچوں عورتوں کو پاکستان لانے کی اجازت لے دیں،علاج ہم اپنی جیب سے کرائیں گے۔ بیٹا باتیں تو بہت ہیں مگر آپ کے پاس اتنا لمبا پیغام پڑھنے کاوقت ہوگا یا نہیں میں نے تو دل کی باتیں کر لیں اور مائیں بیٹوں سے دل کی باتیں کرکے سکون محسوس کرتی ہیں ۔میرا پیغام آپ تک پہنچے تو اتنا کہ دینا پیغام پہچ گیا ہے، آپ کی ماں روبینہ پاکستانی۔




































