
ام حسن
ہمیں کیا ہو گیا ہے؟ہمیں بچوں کی چیخیں سنائی نہیں دیتی، ماؤں کے آنسو دکھائی نہیں دیتے۔اپنےجوان بھائیوں کو صہیونیوں کی ظلم اور قید کا شکار
ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں کچھ نہیں کر پاتے۔اللہ ہمیں ایک امت بنا دے۔ یہ وقت مسلمان امت پر اتنی بے حسی کا طاری ہو چکا ہے کہ نہ کچھ نظر آتا ہے، نہ سنائی دیتا ہے۔عرب اپنی عیاشیوں میں مست ہیں تو عجم پر عجیب بے حسی طاری ہے۔یہ وقت بے حسی کا نہیں جاگنے کا وقت ہے اللہ ہمیں جگا دے۔ ہمیں امت بنا دے۔ تاریخ میں یہ رقم ہوگا کہ اہل غزہ پکارتے رہے، اتنے سے مسلمانوں کی مددکروڑوں مسلمان نہ کر سکے۔
غزہ کے بچے بھی بموں کے شور پر نہیں روئے۔ بندوقوں کی گولیوں پر نہیں روئے۔ زمین سے لے کر آسمان تک کے اڑنے والے دھوئیں پر نہیں روئے جتنا مسلمانوں کی بے حسی پر روئے ہیں۔ وہ ایک ثابت قدم قوم ہے۔ اس وقت بھی ان کا سہارا صرف اللہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ تم میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر رہے گی اور آج ہم اس جماعت کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ وہ غزہ کے لوگ ہیں۔ مجاہدین ہیں۔ جو ڈرے نہیں، جو بکے نہیں، جو جھکے نہیں بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے۔
مسلمانوں تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ دشمن نے تمہاری سلطنت عثمانیہ کو ختم کر کےتمہیں ٹکڑوں میں بانٹ کر حدود کی قید میں مبتلا کردیا ہے۔امت جسم واحد کی طرح تھی، اس سوچ کو قومیت میں بدل دیا ہے۔ آج بھی نہیں جاگو گے تو ایک ایک نوالہ کر کے ان درندوں کے منہ میں جاؤ گے۔ صہیونی ایک وحشی درندہ ہے۔ اسے مسلمانوں کی خون کی پیاس ہے جو بجھنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ اس وحشی درندے کو کب تک کھلا چھوڑو گے۔ اے اللہ مسلمانوں کو ایک امت بنا دے۔ اے اللہ غزہ کے مسلمانوں پر اپنا خصوصی فضل فرما دیں۔ اللہ اہل غزہ کو اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے دے۔ آمین




































