
ریطہ
آج تیرا دن ہے۔۔۔۔ تیری فتح ہےتونےاپنےجسم اور روح کا حصہ دےکرجو مجھ پر احسان کیا تاقیامت میں یہ احسان نہی اتارسکتا ۔ نیم شب کی تاریکیاں
میرے لیے کچھ بھی نہیں تو نے مجھے پال کرمشقت سے اس معراج پرپہنچایا کہ وطن کی حفاظت میں رات کی تاریکیوں میں کرسکوں۔
تیرا باب تو کبھی ختم نہیں ہوسکتا تاقیامت تیرے احساس کی تپش میری روح میں بسیرا کرے گی۔جب جب افتادہ فلک پرمیں اپنے میزائل دشمن پر برسائے تیرے خون نے میرے بدن کو اتنا ہی گرم رکھا۔تیرے جگر کی آمیزش نے مجھے ہارنے نہیں دیا کوئی سودا نہیں کرنے دیا۔تیرے بھرم نے مجھے وہ مان دیا کہ وطن کی آبرو میرا مقصد حیات بن گئی ۔اے ماں تیرے یہ جانباز فولادی جسم بچے اپنی جوانی کے دوش پر وطن کا قیمتی سرمایہ بنے۔۔۔۔ اس تیری عظمت کو سلام




































