
واسعہ اصغر شیخ
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور بی بی ہاجرہ کا بلند و پاکیزہ کردار اور ان کی آزمائشیں
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے "خلیل اللہ" یعنی "اللہ کا دوست" کا لقب عطا فرمایا۔ یہ مقام انہیں ان کے غیر متزلزل ایمان، خالص توحید اور اطاعتِ الٰہی کی وجہ سے حاصل ہوا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں کئی سخت آزمائشیں آئیں مگر انہوں نے ہر بار اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھا۔ ان کی بیوی بی بی ہاجرہ بھی صبر، یقین اور قربانی کاپیکر تھیں۔ان دونوں ہستیوں کی زندگیاں ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نےحکم دیا کہ وہ اپنی بیوی ہاجرہ اورنومولود بیٹےحضرت اسماعیل علیہ السلام کوبےآب وگیاہ وادی(مکہ) میں چھوڑ آئیں۔ انہوں نے اللہ کے حکم پر لبیک کہا اور اپنی بیوی اور بچے کو وہاں چھوڑ دیا۔ جب حضرت ہاجرہ نے دریافت کیاکہ وہ انہیں اس سنسان جگہ کیوں چھوڑ کر جا رہے ہیں اور انہیں معلوم ہوا کہ یہ اللہ کا حکم ہےتو انہوں نے بے مثال صبر و یقین کامظاہرہ کیا اور فرمایا
"اگریہ اللہ کاحکم ہےتو پھر وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔"
بی بی ہاجرہ کی سب سے مشہور آزمائش صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان دوڑنےکی ہے۔ جب ان کےشیرخواربیٹےکوپیاس لگی اورپانی میسرنہ تھا، تو وہ بار بار صفا اور مروہ کے درمیان دوڑتی رہیں کہ شاید کہیں پانی نظر آئے۔ ان کی اس تگ و دو کو اللہ تعالیٰ نے اتنی عظمت بخشی کہ قیامت تک آنے والے مسلمان حج اور عمرہ کے دوران "سعی" کی صورت میں اس عمل کی یاد تازہ کرتے رہیں گے۔ادھر اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیاس بجھانے کے لیے زمین سے زمزم کا پانی جاری فرمایا جو آج تک جاری ہے اورلاکھوں حاجی و زائرین اس سے فیض یاب ہوتے ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک اورعظیم آزمائش اس وقت پیش آئی جب اللہ تعالیٰ نے خواب میں اپنے بیٹے کو قربان کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے بلا جھجھک اللہ کا حکم مانااور بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی اطاعت کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کو قربان کرنے کے لیے چھری چلائی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل کو بچا کر ان کی جگہ ایک دنبہ بھیج دیا۔ اس واقعے کی یاد میں ہر سال عید الاضحٰی کی صورت میں منائی جاتی ہے۔
یہ تمام واقعات ہمیں سکھاتے ہیں کہ اللہ پرمکمل بھروسا کامیابی کی کنجی ہے،قربانی، صبراوراطاعتِ الہٰی سےانسان عظمت حاصل کرتا ہے۔عورت بھی دین کی راہ میں اعلیٰ کردار ادا کر سکتی ہے جیسا کہ بی بی ہاجرہ نے کیا۔




































