
عائشہ عبد الواسع
ماں ہر دور کی ماں ہوتی ہے۔ قرآن انسٹی یٹوٹ کا دورہ قرآن تھا اوروہ لمحہ میں کبھی نہیں بھول سکتی، جب قرآن کی سورہ بنی اسرائیل کی ایک آیت تھی
۔"پروردگاران پررحم فرما جس طرح انہوں نےرحمت وشفقت کےساتھ مجھےبچپن میں پالا تھا"(آیت نمبر 24)
ایک پیاری اور معصوم سی بچی نے کھڑے ہوکر سوال کیا۔۔۔۔۔ ٹیچر میں ماسٹرز کر رہی ہوں، گھر میں تھک کر آتی ہوں اور جاتے ہی میری دادی آواز دیتی ہیں۔۔۔۔ بیٹا یہ کام کر لو۔۔۔۔ وہ کام کر لو۔۔۔ اب آپ بتائیں کہ میں ماں باپ کے سب کام کروں مگر دادی کے کتنے کام کر سکتی ہوں ۔
میں نے کہا کہ ماں باپ میں ابھی طاقت ہے،ابھی انہیں اتنی خدمت کی ضرورت نہیں ہےمگردادی وہ بھی توماں ہےناظاہرہےان کےبیٹےکےپاس اتنا ٹائم نہیں ، ان کی بہواور بیٹی کے پاس اتنا ٹائم نہیں کہ وہ ان کا خیال رکھ سکیں تو یہ اللہ نے پوتے ،پوتیوں ،نواسے،نواسیوں کی شکل میں دیا ہے کہ یہ اولاد ان کی خدمت کرسکیں، بہرحال میں نےجواب دیا بیٹا مبارک ہو، تمہیں یہ جنت کمانےکا سنہری موقع ہے۔اس کے بعد اس 0پیاری سی بچی سے میری ملاقات عید ملن میں ہوئی تو جب سب لوگ اپنے اپنے تاثرات بیان کر رہے تھے تو اس لڑکی نےیہ بتایا اور اس کے آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ہ بات سن کر کہ جو میری ٹیچر نے بتایا ،میں جا کے اپنے دادی کی خدمت کرنے لگی اور23 رمضان کوجب میری دادی کا انتقال ہوا تو میں نے کہا کہ وہ لفظ بار بار میرے کان میں گونج رہے تھےکہ بیٹا دادی کی خدمت بھی کروتوتم اپنی جنت تیار کر رہی ہو۔
بے شک ماں باپ کے قدموں تلےجنت ہےمگریہ بہت محترم مقدس اوربہت زیادہ اہم رشتہ جو دادا ،دادی نانا،نانی کےروپ میں ہوتا ہے،ان کی بھی قدرکریں کیونکہ آپ جوان ہیں ۔آپ میں قوت مدافعت زیادہ ہے ۔آپ ان کی باتوں کو سہہ سکیں گے ۔آپ ان کی باتوں کو برداشت کریں گے اور اللہ سے آپ امید رکھیں کہ ان لوگوں کی خدمت کرنے پر اللہ تعالیٰ ان شاءاللہ آپ کو بہت بڑا اجر دے گا۔




































