
میمونہ عالیہ/ اسلام آباد
تدبر القرآن و عمل
(سورہ الشعراء: 128 تا 131 )
قومِ عاد دنیا کی مضبوط ترین اور قوی ترین قوم تھی، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے
ٱلَّتِى لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِى ٱلْبِلَـٰدِ (الفجر)۔
"اس جیسی قوم پیدا ہی نہیں کی گئی۔"
یعنی جو قوت، شدت اور جبروت میں اس جیسی ہو۔
اسی لیےقومِ عاد کہا کرتی تھی
مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً
"کون ہے جو قوت میں ہم سے زیادہ ہو؟"
انہوں نے پہاڑوں، کنوؤں اور غاروں میں بڑی بڑی مضبوط عمارتیں بنا رکھی تھیں اورانہیں اپنی انہی عمارتوں پر بہت ناز تھا لیکن ان کا مقصد ان میں رہنا نہیں تھا بلکہ صرف کھیل کود تھا۔
ہود علیہ السلام منع فرما رہے ہیں کہ تم جو یہ سب کچھ کرتےہو،یہ وقت اوروسائل کا ضیاع ہے۔اس سےدین ودنیا کا کوئی فائدہ وابستہ نہیں بلکہ یہ محض بے کار اور لاحاصل مشغلہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت سی صلاحیتوں سے نوازا تھا، جن میں سے ایک فنِ تعمیر بھی تھی۔ ان کے اندر اپنی باقی رہ جانے والی ناموری اور نمود و نمائش کی خواہش بہت شدت سے موجود تھی۔ اسی کےپیچھےوہ یادگاریں اوربڑے بڑے رہائشی محلات تعمیر کرتے۔
یہ کس قدر حیرت انگیز بات ہےکہ قومِ عاد ہربلندمقام پرایک یادگار کھڑی کردیتی حالانکہ نہ اس میں رہنا مقصود ہوتا،نہ کوئی اورمقصد۔اللہ تعالیٰ نے انہیں بے شمار وسائل، جسمانی طاقت، عقل و شعور اور فہم و فراست عطا فرمائےتھے۔ کیا ان تمام خوبیوں کے ساتھ انصاف یہی تھا کہ وہ صرف یادگاریں اور محل تعمیر کرتے اور کوئی ایسا کام نہ کرتے جس سے عوام کی بھلائی ہو اور اللہ کی رضا حاصل ہو؟۔
وہ جس لگن اور محبت سے عمارتیں بناتے،وہ ان کے کام میں نظرآتی۔ ان کی عمارات مہارت، نفاست اور اعلیٰ معیار کی بہترین مثالیں تھیں لیکن فکر کی بات یہ تھی کہ اس سارے کام اور محنت کا مقصد کیا تھا؟
ہود علیہ السلام اپنی قوم کوبےمقصد کاموں سےمنع کررہےہیں اورزندگی کا اصل مقصدان کےسامنےرکھ رہےہیں۔ ان کا سوالیہ انداز گفتگوقوم کےلیےتذکیرو نصیحت ہے، اور ان کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے ہے،لہٰذا وہ مختلف انداز میں بات کر رہے ہیں۔ہود علیہ السلام ان پر تنقید نہیں کر رہے بلکہ ایک محسن کے طور پر ان کے سامنے ان کی زندگی کا اصل مقصد واضح کررہے ہیں اوراس زندگی کی بات کر رہے ہیں جو ابھی ان کی آنکھوں کے سامنے نہیں اور دوسری اہم بات جو انتہائی قابلِ فکر ہے،یہ تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ مضبوط عمارتیں انہیں موت سے بچا لیں گی۔
یہ بات تو ہود علیہ السلام کی تبلیغ کےسراسرخلاف تھی۔ موت اور حساب کا دن ایک بڑی حقیقت ہے۔ اس پرایمان کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا۔شاید کہ تم یہاں ہمیشہ رہو گے؟۔ یہ زندگی عارضی ہے۔ موت نے آنا ہے۔ آخرت کے دن پر ایمان رکھنا ایمان کا بنیادی حصہ ہے۔
اے قومِ عاد! کیا تم نے ہمیشہ یہیں رہنا ہے؟۔
شاید کہ تم ہمیشہ یہیں رہو گے، اسی لیے مضبوطی کےپیچھے پڑے ہو،آخرت کا سوچتےہی نہیں،یہاں سےروانگی تمہارے منصوبے میں شامل ہی نہیں۔
کیوں ایسا کر رہے ہو؟
یہ تو بہت ناپائیدار دیار ہے
یہ کوئی رہنے کی جگہ ہے؟
سوچتے کیوں نہیں؟
فکر کیوں نہیں کرتے؟
کیا واقعی اللہ کو بھلا بیٹھے ہو؟
اور جب تم پکڑتے ہو تو جباروں کی طرح پکڑتے ہو
قومِ عاد کی دوسری بڑی خرابی ظلم و تشدد اور طاقت کا بے رحم استعمال تھا۔انہوں نے اللہ کے پیغمبر کے لائے ہوئے احکام اور نصیحتوں کو جھٹلا دیا تھا۔تکبر اور غرور میں مبتلا ہو کر خود کو بہت بڑی چیز سمجھنے لگے تھے۔ ان کا معاشرہ طبقاتی تقسیم کا شکار تھا، ایک طبقہ بااثر دوسرا کمزور۔ان کا رہن سہن، طور طریقے اور طاقت کا بے دریغ استعمال قابلِ مذمت تھا۔دنیا میں انہماک، ظلم اور سرکشی ان کے قبیح اوصاف تھےلیکن اس کے باوجود اللہ کے پیغمبر نے انہیں تقویٰ اور اطاعت کی طرف دوبارہ بلایا۔
ذرا غور کریں
جب سب کچھ اللہ کا ہے، تو تکبر اور غرور کیسا؟
اصل طاقت تو تقویٰ ہے
تقویٰ کی عدم موجودگی ہر برائی کو جنم دیتی ہے
اور جب انسان عبد بن جائے، تو برائیاں ختم ہو جاتی ہیں
صرف اللہ ہی اکبر ہے
یہ صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے
انسان کو چاہیےکہ خود کوبندہ سمجھےتاکہ اسے دوسرے بھی بندے ہی نظر آئیں
ان آیات کی روشنی میں ہم کیا کریں؟
بے مقصد کاموں سے بچیں، کیونکہ بیکار کام کے پیچھے کوئی اعلیٰ مقصد نہیں ہوتا
فخر، غرور اور تکبر سے بچیں
کسی بھی کام کے پیچھے نیت اور مقصد کو درست رکھیں
دنیا سے واہ واہ کی امید رکھنا خطرناک ہے
کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے یہ سوچیں کہ اس کا حساب بھی دینا ہے
جو بھی عمل کریں، سوچیں کہ وہ آخرت میں کتنا فائدہ دے گا
بگڑے ہوئے افراد اور حالات کی اصلاح کے لیے حکمت اور دعا سے کام لیں
حکمت قرآن سےحاصل ہوگی
یہ صرف دنیا کی زندگی نہیں، آخرت کی بھی ایک زندگی ہے،اس کی تیاری اپنی صلاحیتوں سے کریں
وقت اور وسائل ضائع نہ کریں
خرچ کرنے سے پہلےضرورت مندوں کوذہن میں رکھیں
فضول خرچی سے پرہیز کریں
عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کریں
معاشرے کی بقا اسی میں ہے کہ ظلم و تشدد سے بچا جائے
رحم دلی اور معاف کرنے کو شعار بنائیں
بےگناہ اور بے قصور کو سزا نہ دیں
اجر کی امید صرف اور صرف اللہ تعالیٰ سے رکھیں
بلا ضرورت اشیاء جمع نہ کریں
اپنی ذات کو منوانے کی کوشش نہ کریں
کسی کی گرفت اس کےجرم کے مطابق ہو
عمر بڑھنے کےساتھ ساتھ اپنا بوجھ کم کریں۔




































