
اسماء عمیر/ کراچی
مئی کی ایک گرم سہ پہرسورج بھی اچھی طرح مزاج پوچھ رہا تھا،ایسے میں قلم کی کچھ شیدائی بہنیں علاقہ اجمیر نگری ضلع شمالی نارتھ کراچی میں اپنی
ایک بہن کے گھرمدعو تھیں، قلم کی محبت کہہ لیں یافرض شناسی جورب کی طرف سےانہیں سونپی گئی تھی،یہ بخوشی موسم کی پرواکیےبغیراداکرنےکو تیار تھیں۔جیسے ہمیں ان پر پیار آیا کیا رب کو نا آیا ہوگا۔۔
یہ ادبی محفل، پیاری سی علاقہ ناظمہ عائشہ بیگ کےگھررکھی گئی تھی۔ہم وقت پران کےگھرپہنچ گئےتاکہ دیگرشرکاء سےعلیک سلیک کرسکیں ۔کچھ دیر بعد تلاوت قرآن سے باقاعدہ محفل کا آغاز ہوا۔ سابقہ صدر ادبی کمیٹی اور موجودہ ضلعی ٹیم کی ممبر توقیر عائشہ بھی بہ نفسِ نفیس موجود تھیں۔ نگراں ضلع شمالی نشر و اشاعت غوثیہ طارق اپنی مصروفیت سے وقت نکال کر آئیں تھیں ۔معروف رائٹر نگہت یاسمین،شہلا خرم، نگراں نشر واشاعت اجمیر نگری اسماء عمیر اور دیگر نئےمیدان قلم کےشہسواربھی محفل میں موجود تھے۔۔
پہلی باری تھی صاعقہ پروین کی جو اپنی تحریر کےساتھ نشست پرموجود تھیں،دوسری تحریرشہلا خرم نےپیش کی۔ شہلا مضامین اوربلاگزلکھتی رہی ہیں ۔اگلی تحریر اسماء عمیر نے پیش کی اور اپنی پہلی تحریر پر داد بھی وصول کی سعدیہ ارشاد بھی اپنی تحریر کے ساتھ موجود تھیں۔
سینئر رائٹرز نےہرتحریرپراپنا بیش بہا تبصرہ پیش کیاجونئی لکھاریوں کےلیےیقیناّ مفید تھا،بعد ازاں اسماء عمیرنےدیگر شرکاء کوسوشل میڈیا کی افادیت بتاتے ہوئےانہیں اس کا استعمال سکھایا، محفل کا اختتام پرتواضع اوردعا کے ساتھ ہوا اور تمام شرکاء مطمئن دل کے ساتھ اپنے گھروں کو ہو لیے۔




































