
ضیاء الرحمن غیور
ایک روسی بوڑھا آنکھوں پردونوں ہاتھوں کاچھجا بناکرآسمان کی طرف بے چینی سے دیکھ رہا تھا،نظر کمزور تھی لیکن آسمان پر امنڈتے بادلوں نے اسے
اوپر دیکھنے پر مجبور کردیا تھا۔قریب ہی اس کا پوتا کھڑا تھا، اس نےمعصوم نگاہوں سے بادلوں کو دیکھتے ہوئے اپنے دادا سےپوچھا۔ دادا ہمارے علاقے میں بارش کب برسے گی۔
دادانے مسلسل اوپردیکھتے ہوئے ایک آہ بھر کر کہا۔ میرے بچے کبھی نہیں برسے گی۔پوتا کم باتونی نہیں تھا، فوراً بولا کیوں نہیں برسے گی۔بوڑھے نے اداسی سے سرجھکاتے ہوئے کہا۔ بیٹا میری عمر نوے سال ہے۔بارش کے موسم میں بادل امنڈ امنڈ کرآتے ہیں ۔ ہمارے جسم پر ان کی ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے مگر بارش نہیں برستی۔پھر انہوں نے اپنے پوتے کا منہ پہاڑوں کی طرف کرتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے دکھی انداز سے کہا۔ دیکھو بارش نہ ہونے کی وجہ سے یہ پہاڑ کتنے بنجر او ر ان کی وادیاں کتنی چٹیل ہیں۔پورے علاقے میں صرف ایک کنواں ہے۔ جسے ہم بہت احتیاط سے استعمال کرتے ہیں پھر بھی پورا نہیں پڑتا۔پوتے نے دادا کی اداسی دیکھ کر اپنا منہ پیارسے داداکے منہ پر رکھ کر کہا۔ دادا ہم دوسرا کنواں کیوں نہیں کھود لیتے۔
دادا نے پوتے کی معصومیت پر مسکراتے ہوئے کہا۔ زمین نیچےسےبھی خشک ہے۔سینکڑوں فٹ کھودنے کے باوجود پانی نہیں نکلتا،چٹانیں آجاتی ہیں۔ہماری زندگیاں بھی ان کی طرح بنجر بن چکی ہیں۔ایک بچی دوڑتی آرہی تھی،اس کے پاوٗں سے دھول اڑرہی تھی اوردوپٹہ تیزی سے پیچھے کی طرف ادھر ادھر لہرا رہا تھا۔ بچی قریب آئی تو اس کا سانس بری طرح پھولا ہوا تھا۔ دادا نے آگے بڑھ کر ذکیہ کو گود میں بٹھا لیا تھا یہ ان کی پوتی تھی۔اس نے کہا دادا آپ کا خط آیا ہے۔ بوڑھے نے اس خط کو بوسہ دیا یہ ان بیٹے کا خط تھا۔ جسے روزگار کے سلسلے میں گئے پانچ سال ہو چکے تھے۔وہ نیچے زمین پر بیٹھ گیا،ایک طرف پوتے کو اورایک طرف پوتی کو گود میں بٹھا لیا۔دادا کس کا خط ہے۔تیرے ابا کا خط ہے دادا نے پوتے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
ذکیہ پوتی نے خط کو عجیب اداس نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا میرے ابو کب آئی گے۔انہیں بہت دن ہوگئے ہیں۔میرا دل ان سے ملنے کے لیے بہت بے چین ہے۔پتانہیں وہ ہمیں یہاں اکیلا کیوں چھوڑ کرچلے جاتے ہیں۔ یہ بات سن کر بوڑھے کا دل بھرآیا اس نے آنسو ضبط کرتے ہوئے کہا بیٹا جب تک یہاں بارش نہیں ہو گی، وہ روزگار کے لیے باہر جانے پر مجبور ہیں۔
رات بوڑھا لالٹین کی روشنی میں اپنے دوست کو خط لکھ رہا تھا۔میں تواسلام کونہیں جانتا لیکن تم تواپنےخداکو جانتے ہو۔اس سے ہر چیز مانگتے بھی ہو۔ وہ دیتا بھی ہے۔ میں نے اپنے تمام علاقوں کو دیکھا ہے۔ ان میں اور ہمارے علاقے میں کسی چیز کوئی کمی نہیں۔ اگر کسی چیز کی کوئی کمی ہے تو وہ صرف مسلمان کی ہے۔یہ چیز ہم سب نے بڑے غور و فکر کے بعد سمجھی ہے۔تم میری ملازمتوں کے دور کے ساتھی رہے ہو۔ میں نے اورتم نے دوستی بہت اچھے طریقے سے نبھائی ہے۔ میری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں یہ میری تم سے زندگی کی آخری خواہش ہے کہ تم ہمارے علاقے میں آباد ہوجاوٗ۔ رحمانوف کو جب اپنے دوست کایہ خط ملاتو دوستی اوردوست کی مدد کے خاطر اپنا سب کچھ چھوڑنے کے لیے تیار ہوگیا۔اس نے اپنے گھروالوں کو راضی کیا اورانہیں ساتھ لے کر دوست کے علاقے میں پہنچ گیا۔
پورا علاقہ ان کے استقبال کے لیے امنڈ آیا۔اس نے سب سے پہلے دوست اوراس کے ساتھیوں کی مدد سے مسجد بنائی۔اس علاقے کے لوگ ان کا مکان پہلے ہی تعمیر کرچکے تھے جس میں وہ منتقل ہو گئے۔وہ گورنمنٹ سے ریٹائرڈ تھا اب کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کرنا تھا۔اس نے جب اذان دی اوراپنے بچوں کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کی تو پورا گاوٗں اس کی عبادت کو دیکھ رہا تھا۔اس کے بوڑھے دوست نے اس کے کان میں آکر کہا اب مجھے بھی اپنے مذہب میں شامل کرلو۔رحمانیوف بے ساختہ اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اورسجدے میں گر گیا۔
سجدے شکر سے اٹھ کر اس نے سب سے پہلے اپنے دوست کو مسلمان کیا،رحمانوف نے اپنے دوست سے کہا تم نے نیکی میں بھی میرے ساتھ دوستی نبھائی ہے۔ بوڑھے نے کہا رحمانوف یہ کہو کہ اللہ نے مجھے گمراہ ہوکر مرنے سے بچالیا۔تم نے میرے خاطر جو قربانی دی ہے،وہ آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی۔بوڑھے کے مسلمان ہونے سے پورا علاقہ مسلمان ہوگیا۔رحمانوف کے پورے خاندان نے دین کی تبلیغ کے لیے اپنے آپ کو وقف کردیا۔
برسات کا موسم شروع ہوچکا تھا۔ بوڑھا دینی تعلیمات سے واقف ہوچکا تھا۔ایک بڑے میدان میں بوڑھا امامت کررہا تھا۔ پورے علاقے کے بچے، بوڑھے، عورتیں، جوان نماز استسقاء کے لیے میدان میں جمع تھے اور زاروقطارروتے ہوئے اللہ سے بارش طلب کررہے تھے۔لوگوں کے دیکھتے دیکھتے گھنے بادل امنڈ آئے اورٹوٹ کر برسنے لگے۔لوگ سجدے میں گر گئے۔بوڑھا مارے خوشی کے ہر ایک سے کہہ رہا تھا۔دیکھا میں نہ کہتا تھا ہمارے علاقے میں ایک مسلمان کی کمی ہے۔ جب یہ کمی پوری ہوئی، اللہ کی رحمت برس پڑی۔بوڑھا اوررحمانوف اس دنیا سے جاچکے ہیں لیکن اس سرسبز اورہر دولت سے مالا مال علاقے کے لوگ رحمانوف اور بوڑھے کی دوستی کو نہیں بھولے۔




































