
تحریر: سعدیہ مغل
ازل سے ماں کا مقام بلندیوں پر ہی فائز رہا اور اب تک ہے مگر کب تک۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سوال کا جواب بہت سوچ بچار کا حامل ہےاور تاقیامت رہے گا۔
کیوں؟؟؟؟؟
اس لئےکہ اس معاشرے کی بھلائی یابرائی کی اصل ذمہ دار ماں ہی ہےجس کی گودمیں بچہ یابچی اپنی زندگی کا پہلاسبق پڑھتےہیں اورپھرپڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔ ان کی شخصیت کا بڑاحصہ ماں کی تعلیم و تربیت پر منحصر ہوتا ہے اگر ماں بہترین تو اولاد بہترین اگر ماں بدترین تو اولاد بدترین۔ اکثر و بیشتر ماں ایک سانچے کا کام کرتی ہےاپنی اولاد کی تربیت کے لئے۔
اسی لئے نپولین جیسا مفکر بھی یہ کہنے پرمجبورہواکہ "تم مجھے اچھی مائیں دو۔ میں تم کواچھی قوم دوں گا"مگربدقسمتی سے آج ماؤں نے اپنی اس ذمہ داری کو پس پشت ڈال کر فیشن میں ایسی غرق ہوئیں کہ اپنی نسلیں ہی تباہ کر ڈالیں۔
آج لڑکیاں شادی کرتی ہیں مگرخودمختاری کاراگ گاتےہوئے۔آج لڑکےپسند کرتےہیں توفیشن زدہ ذہنی بیماربولڈ نظرآنےوالی لڑکیوں کو۔آج نہ لڑکوں میں" حیا"رہی اورلڑکیوں میں تویہ ایسےغائب ہوئی جیسے ان کا کوئی واسطہ ہی نہی حیا ،لحاظ ،شرم ۔۔۔ سب ختم۔
سسرال بد ترین دشمن نظرآنےلگےاورتواوربربادی ہوان مووی بنانےوالےکیمرہ مینوں کی جو خود پر جہنم کو واجب کرتے جا رہے ہیں۔ وہ وہ بے حیائی کے پوز بنوائے جاتے ہیں دلہا دلہن سے کہ اللہ کی پناہ۔
جیسے یورپ میں انسانیت جانوروں کی طرح پارکس اور بیچز پر ننگی نظر آتی ہے،ہمارا ملک بھی کچھ عرصہ میں وہی نظارے دکھائےگا۔اسی نسل کی اگلی نسلیں سڑکوں پر بازاروں میں مالز میں پارکس میں ننگے پائے جانے ہیں۔ ان ماؤں کی گود میں جن بچوں نے پلنا ہے ،وہ ان سے دس بیس قدم آگے ہی ہوں گے۔
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہر آنےوالا دورپچھلےسےبدترہوگا"
ماؤں سے چادر غائب،سرسےدوپٹےغائب تواگلی نسلوں کےتن سےلباس غائب ہوجائےگا۔اسلام پھرسےاجنبی ہو جائے گا۔ حدیث کے مطابق
یہ سب ہماری ماؤں کی لائی ہوئی آفتیں ہوں گی جن میں ہمارے مرد برابر کا حصہ ڈالتے نظرآرہے ہیں ۔




































