
عریشہ اقبال
اعتبار اور اعتماد دونوں ہی الف سے لکھے جانے والے لفظ ہیں،اسی طرح اللہ اوراطاعت بھی ایک ہی حرف سےشروع ہونے والے الفاظ ہیں مگر بات خواہ لفظ کی ہو یا ان
لفظوں سے پروئے جانےوالے جملوں کی دونوں ہی یا تو بدل جاتے ہیں یا تبدیل کردیے جاتے ہیں ۔
کبھی وعدے نبھائےجاتے ہیں اور کبھی توڑ دئیے جاتے ہیں
کبھی مسکراہٹ بانٹی جاتی ہے اور کبھی چھین لینے کی آگ بھڑکائی جاتی ہے
کبھی محبت کا اظہار کیا جاتا ہے اور کبھی وہی محبت بیچ راہ میں اپنی کشش کھو دیتی ہے
کیونکہ جملوں کو ادا کرنے میں فرق اسی وقت رونما ہوتا ہے۔جب جذبات کی ترجمانی دوسرارخ اختیار کرلے،جب رویےنرمی سےکنارہ کرکےسختی سےاپنا تعلق قائم کرلیں اور جب دلوں میں موجود اخلاص کھوٹ کی جگہ لے ، حتی کہ ظاہر اور باطن کی دنیا ایک دوسرے سے یکسر مختلف محسوس ہونے لگتی ہے اور یہی وہ مقام ہوتا ہے جب انسان انسانیت کے درجے سے گر کر حیوانیت کا انتخاب کرتا ہے ۔
خداسےبےخوف اورمخلوق سےخوف کھانےلگتا ہے۔خدا کی نظروں میں اپنےمقام کی حیثیت کو فراموش اورمخلوق کےساتھ خواہشات نفس کی تسکین میں خود کوتھکا دیتا ہے ۔ جب کوئی شخص بارگاہِ خداوندی میں عرضیاں کرنے سے جی چراتا ہے ، فکر آخرت کو چھوڑ کر فکر دنیا میں اپنی ذات کو مصروف کرلیتا ہے تو پھر اس کے لیے محسوسات اہمیت نہیں رکھتے اور جہاں کسی چیز کی اہمیت نہ رہے وہاں وہ شے اپنی اہمیت کےساتھ اپنی قدر بھی کھوتی چلی جاتی ہے ۔
اسی سبب ایک انسان گناہ نہیں کرتا،نافرمانی نہیں کرتاجب تک وہ حالت ایمان میں ہوتا ہےاورجس وقت یہ حالت اس کے وجود کاحصہ نہیں رہتی اس کے لیے گناہ کا راستہ اختیار کرنا آسان ہوجاتا ہے کیونکہ وہ انتخاب ، اعتبار ،اعتماد اور اطاعت کے ساتھ اللہ کی ذات کو منسلک کرنے میں خود کو کھپانا چھوڑ دیتا ہے۔
بالکل اسی طرح زبان سےادا کیا جانے والا ہر لفظ اوراسی وجود کا ایک اورحصہ یعنی اس کاعمل ہی گویائی سےکبھی محروم کردیا ہےاورکبھی گویائی کوراستی کی سمت لے جاکر زندگی میں عطاؤں سے اپنے دامن کو بھر لیتا ہے ۔ میں سوچتی ہوں عطاؤں کا حق سمجھنے کے لیے خطاؤں کا علم ہونا بھی ناگزیر ہے کیونکہ عطا کو متوجہ کرنے کے لیے دو ہی راستے ہیں بلکہ فلسفہ حیات کو سمجھنے کے لیے ہی دو راستے ہیں ایک توخطاؤں سے درگزر اور دوسرا خطاؤں پر شرمساری ان دو راہوں کا ایک دوسرے سے اتنا گہرا ربط ہے کہ اسی ربط میں فلسفہ حیات کا راز پوشیدہ ہے مگر بات تو ساری اس فلسفےکو اپنا کر اس کے اصولوں کو اپنی زندگی میں شامل کرنے پر ٹھہر جاتی ہے، لہذا آپ بھی اپنی زندگی کا بغور جائزہ ضرور لیں اور اپنے دل کو ٹٹول کر دیکھیں اسے پرکھنے کی کوشش کریں کہ کہیں وہ بھی اس انتخاب میں غلطی تو نہیں کررہا جو انتخاب آپ کی توانائیوں ، آپ کے جذبات ، آپ کے احساسات میں موجود گویائی کے راز تک لے جانے کا واحد ذریعہ ہے ۔
یاد رکھیں آج سوال کرنےکی ہمت ہوگی تو جواب کی امید پیداہوسکےگی،بصورت دیگر جن کےحوصلوں میں کمی ہوانہیں خوابوں کی تعبیر بھی نہیں ملا کرتی۔ اپنےاور اپنے رب کے درمیان جو خلا ہے اسےپرکیجیے کیونکہ اسے پر نہ کرنے کی صورت میں آپ ہی کا خسارہ ہے اور یہ وہ غلطی ہے جس کا ازالہ روز آخرت ممکن نہیں ہوسکےگا ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کے ایمان و یقین کی حفاظت فرمائیں آمین یا رب العالمین




































