
سارہ گیلانی/ کراچی
کراچی جو پاکستان کاسب سے بڑا اورمصروف ترین شہر ہے،یہ ہرسال طویل اورشدید گرمی کا سامنا کرتا ہے۔اپریل سے ستمبرتک سورج کی تپش شہر کو اپنی لپیٹ میں
لے لیتی ہے اور درجہ حرارت اکثر 40 ڈگری سینٹی گریڈسےتجاوز کر جاتا ہے۔ گرمی کا یہ موسم جہاں ایک طرف مشکلات پیدا کرتا ہے، وہیں کراچی کے عوام کی زندگی، عادات اور ثقافت میں بھی ایک خاص رنگ بھر دیتا ہے۔
کراچی کی گرمی عام طور پر خشک اور نمی سے بھرپور ہوتی ہے چونکہ یہ ایک ساحلی شہر ہے اس لیے نمی کی زیادتی درجہ حرارت کو مزید محسوس کرواتی ہے۔ سمندر سے آنے والی ہوا کبھی کبھار راحت دیتی ہےلیکن حالیہ برسوں میں موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے ہیٹ ویو زیادہ عام ہو گئی ہے جو کہ شہری زندگی کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ بجلی کی بندش، پانی کی کمی، اور گرمی سے ہونے والی بیماریاں خاص طور پر غریب علاقوں میں لوگوں کے لیے بڑا مسئلہ بن جاتی ہیں، جہاں ٹھنڈک کے ذرائع محدود ہوتے ہیں۔
کراچی کے لوگ گرمی سےبچنےکےلیےمختلف طریقےاختیارکرتےہیں۔ ہلکے،کھلے کے کپڑےعام طور پرپہنےجاتے ہیں تاکہ جسم کو ٹھنڈک ملے۔لوگ ٹھنڈا پانی، لیموں پانی، ستّو اور لسی جیسے روایتی مشروبات سے پیاس بجھاتے ہیں۔ سڑکوں پر گولا گنڈا، فالودہ، اور گنے کا رس بیچنے والے ریڑھی بانوں کی رونق بڑھ جاتی ہے۔ دوپہر کے وقت گھروں میں آرام کرنا اور سایہ دار جگہوں کا انتخاب کرنا روزمرہ کا حصہ بن جاتا ہے۔
گرمی کے باوجود کراچی کی زندگی رُکتی نہیں۔ سورج ڈھلتے ہی شہرکی رونق دوبارہ بحال ہوجاتی ہے۔خاندان ساحل سمندر،پارکوں اور کھانےپینےکی جگہوں پر جمع ہوتے ہیں۔ رات کے وقت بازاروں کی چہل پہل بڑھ جاتی ہے۔ رمضان اور عید کے دنوں میں بازاروں کی رونق مزید بڑھ جاتی ہے اور لوگ شام کے وقت خریداری کے لیے نکلتے ہیں۔
طلبہ کے لیے گرمیوں کا مطلب ہوتا ہے امتحانات اورپھرچھٹیاں۔ کچھ لوگ ان دنوں میں شمالی علاقوں کی سیاحت کا منصوبہ بناتے ہیں جبکہ بہت سے لوگ گھروں میں رہ کر گرمی سے بچاؤ کو ترجیح دیتے ہیں۔گرمی کے اختتام پر کراچی میں مون سون کی بارشیں آتی ہیں جو گرمی کی شدت کو کم کرتی ہیں۔ اگرچہ یہ بارشیں ٹھنڈک لاتی ہیں لیکن شہری مسائل جیسے پانی جمع ہونا، ٹریفک کا جام ہو جانا اور بجلی کی بندش بھی ساتھ لاتی ہیں۔ اس کے باوجود اکثر لوگ بارش کو خوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔
کراچی کی گرمی ایک ایسا تجربہ ہےجوآسان نہیں ہوتالیکن اس شہر کے لوگ اپنی محنت، صبر اورعزم کےساتھ ہرموسم کو جیتےہیں۔ چاہے کسی درخت کے نیچے گولا گنڈا کھا رہے ہوں یا سی ویو پر شام کی ہوا سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، کراچی کی گرمی یادگار اور منفرد تجربہ بن جاتی ہے۔




































