
محمد عزرم بٹ / کراچی
پاک چین اقتصادی راہداری پاکستان اور چین کے درمیان ایک عظیم الشان اقتصادی منصوبہ ہے،جسے بلاشبہ ۲۱ویں صدی کا ایک انقلابی منصوبہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ
منصوبہ نہ صرف دونوں ممالک کےدرمیان معاشی تعاون کا مظہر ہےبلکہ یہ پاکستان کی معیشت، توانائی، تجارت، اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے بھی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ راہداری چین کےمغربی علاقےسنکیانگ کو پاکستان کی بندرگاہ گوادرسےملاتی ہے۔اس منصوبے کے تحت ہزاروں کلومیٹر طویل شاہراہیں، موٹرویز، ریلوے لائنیں، اور توانائی کے متعدد منصوبے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ ابتدا میں اس منصوبے کی مالیت تقریباً ۴۶ ارب ڈالر مقرر کی گئی تھی جو وقت کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔
سی پیک کے سب سے بڑے فوائد میں سےایک یہ ہےکہ اس سےپاکستان کے بنیادی ڈھانچےمیں بہتری آئی ہے۔ملک بھر میں سڑکوں اورموٹرویز کاجال بچھایاجارہاہےجس سے دور دراز علاقوں کو مرکزی شہروں سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ توانائی کے متعدد منصوبوں کی بدولت ملک میں بجلی کی قلت پر قابو پانے میں مدد ملی ہے۔ کوئلے، پانی، سورج اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پاکستان کو توانائی کے میدان میں خود کفیل بنانے کی جانب گامزن ہیں۔
گوادربندرگاہ سی پیک کا دل تصور کی جاتی ہے۔اس بندرگاہ کو جدید تقاضوں کےمطابق تعمیرکیاجارہاہےتاکہ یہ عالمی تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بن سکے۔ اس کے ذریعے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔
پاک چین اقتصادی راہداری سےصرف بڑے شہروں کو ہی نہیں،بلکہ ملک کے پسماندہ علاقوں کو بھی ترقی کے مواقع فراہم کیے جا رہےہیں۔خصوصی اقتصادی زونز(ایس ای زیس) کے قیام سے مقامی صنعت کو فروغ ملے گا اور روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے۔ اس طرح یہ منصوبہ سماجی اور اقتصادی ترقی کا ضامن بن رہا ہے۔
تاہم،سی پیک کو کچھ مسائل کا بھی سامنا ہے۔سب سےاہم مسئلہ سیکیورٹی کاہے،خاص طور پر بلوچستان اور گوادر کے علاقوں میں۔ اس کےعلاوہ، شفافیت، مقامی آبادی کو منصوبے کے فوائد میں شامل کرنےاور قرضوں کی واپسی جیسے معاملات پر بھی خدشات موجود ہیں۔ اگر ان مسائل کو مناسب انداز میں حل کیا جائے تو سی پیک ایک مثالی ترقیاتی ماڈل بن سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ پاک چین اقتصادی راہداری پاکستان کی ترقی اورخوشحالی کا سنگ میل ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ منصوبہ صرف ایک اقتصادی راہداری نہیں بلکہ ایک وژن ہے جو پاکستان کو علاقائی و عالمی سطح پر نمایاں مقام دلا سکتا ہے۔ اگراس منصوبے کو درست حکمتِ عملی، شفافیت اورقومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے مکمل کیا جائے، تو یہ پاکستان کے لیے ایک روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔




































