
ریطہ فرحت
چودہ اگست ہراس دن کی طرح ہے جو روز آتا ہے، روزگزرجاتا ہے،وفا کا چہرہ مگر بوسیدہ رہ جاتا ہے،اصل کردار کو جگہ نہیں ملتی یا کرداروں میں لا الہ الا اللہ کی بانگ نہیں ۔ وہ سینہِ توحید نہیں جس کا
آئینہ ابراہیم علیہ السلام تھے۔
اس خونِ شفق کا کوئی حساب کتاب بھی ہے؟جنہوں نےاپنی رگیں کٹوالیں مگرسرنیچے نہ ہونےدیاغیرکےآگے۔اپنی جبینیں خاک پر بچھانے والے مسلمان نے کہاں گٹھنے ٹیک دیے ۔
سانحات اور حادثات کی گود میں پلنے والی اس ارض نے وہ دن دیکھے،وہ جنگیں لڑی ہیں جس کی مثال زمانے میں نہیں ملتی۔اس کے بعد قوم میں جذبہ مومن شاذونادر نظر آتا ہے جس قوم کے دامن میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے،ایک تابندہ نسخہ سراج المنیرا ہے ،صحابہ کا لشکر ہے،اس خطےکی بنیادمحمد بن قاسم نے اسلام کی روشنی سےرکھی تھی ،اس کی جڑوں میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کی قربت پیوست ہے ،اس تحریک نے طوفانوں سے گزر کر ایک وطن کی صورت اختیارکی ہے۔
اس وطن کے خواب دیکھنے والوں نے اور بے لوث لوگوں نےقربانیاں تودی ہیں مگراس وطن پرمسلط وہ لوگ ہیں جواس کی بوٹیاں نوچ نوچ کرغیروں کےآگےڈال دیتے ہیں،اسے بچانے کے لیے بصیرت کی آنکھ جذبہ ایمانی ،اتحاد اور محنت کی ضرورت ہے ۔
ہر دو ماہ میں ایک خبر ملتی ہے، اس گلشن کی ڈالی ٹوٹتی ہے، کبھی اس میں پیوست کتنے ہی پھول مرجھاجاتےہیں ۔تعلیم سے لے کر ایک ایک اقتصادی و معاشی بحران نے غربت کےڈیرے ڈالے ہیں کہ نوجوان نسل آن لائن ارننگ تک محدود ہوکر رہ گئی ہے ۔تنگ دست لوگ کرپشن سے بدحال ہیں، امیر امیر تر ہوتا جارہا ہے۔ سود کی لعنت پروان چڑھ چکی ہے ،حلال حرام کا فرق مٹ چکا ہے ۔
اس جشن آزادی کے جھنڈے کی قدر و قیمت اسے سجانےتک محدود ہوکررہ گئی ہے۔اسےلوٹ کھسوٹ کادیس بنادیا گیاہےتواب بحیثیت پاکستانی شہری بنام اسلام آج کون کس جگہ کھڑاہے،یہ سوچنا ازحد ضروری ہے ۔ہر فرد اپنا جائزہ لے۔ ہر فرد سوچے کہ اسے اپنا فرض کیسے ادا کرنا ہے۔ ظالم حکمران سے نجات کے لیے کیا سرگرمی اختیار کرنی ہے ،اپنی تربیت ،اپنی اصلاح سے لے کر معاشرے کی عریانی ،فحاشی اوربدحالی سے کیسے نمٹنا ہے ۔اسلام کی بنیاد پر حاصل کیا جانے والا ملک باعمل روحوں کی زینت بنے تو کیسے؟ اس جذبے کو امر ہونا ہے۔
اُٹھ کہ خورشید کا سامانِ سفر تازہ کریں
نفس سوختہ شام و سحر تازہ کریں
نوٹ : ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو)




































