
ثروت اقبال
فاطمہ اوراحمد کو چودہ سال بعد اللہ نےاولاد کی نعمت سے نوازا۔
ننھا، معصوم،چمکتی آنکھوں والا معین۔۔۔ ان کی دنیا میں بہار آگئی۔
لیکن معین سست رہنے لگا چہرہ زرد سانسیں پھولی ہوئی۔۔۔
ایک ٹیسٹ نے سب کچھ بدل دیا۔
کیا! تھیلیسیمیا!! وہ زندگی بھرخون کامحتاج رہے گا۔
فاطمہ گود میں بیٹےکولیے بیٹھی تھی،مگر دل میں ایک سوال:"کیا ہم ہرماہ اسےزندگی دےسکیں گے؟کیا لوگ مدد کریں گے؟"
خون مانگنا آسان نہیں ہوتا لیکن پھر وہ نکلی۔۔۔ در درگئی فیس بک، واٹس ایپ پر پیغام لکھامیرابیٹا جینا چاہتا ہے، کیا کوئی خون دے گا۔۔۔
پہلا خون ایک اجنبی نے دیا۔۔
اس دن فاطمہ نے رونا نہیں، مسکرانا سیکھا۔
وہ جان چکی تھی جب کوئی ایک بوتل خون دیتا ہے،وہ صرف خون نہیں دیتا۔ ایک ماں کو امید، باپ کو سہارااور بچے کو بچپن واپس دیتا ہے۔
اس کے ذہن میں کچھ اور ہی چل رہا تھا۔ اس کی سوچیں بدل رہی تھیں۔۔۔۔"اور اب ہم آپ سے ایک سوال کرتے ہیں۔کیا آپ ایک بچے کو مسکراہٹ دینا چاہتے ہیں؟
ایک ماں کو چین کی نینداورایک باپ کو حوصلہ دینا چاہتےہیں؟
تو پھر
آج ہی خون دیں
تھیلیسیمیا مریض کےلیےاس کی اوراس کےوالدین کی زندگی کی سانس اورمسکراہٹ آپ کےدیےہوئےقیمتی خون سے جڑی ہیں۔"یہ سب اس ماں نے ایک بینر پر لکھوایا اور اپنے علاقےمیں آویزاں کر دیا۔ یہ مہم کی ابتدا تھی۔
احمد نےآخری لائن اپنےخون سے لکھی
"خون دیں کیونکہ آپ خون دے سکتے ہیں۔ کہیں کوئی "معین"آپ کا منتظر ہے"۔




































