
ریطہ فرحت
اہل ایمان حضورمآب صلی اللہ عیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھ کرجب کوئی ارشاد سنتےاورسمجھ لیتے تو ہدایتِ الٰہی کے تحت جذبہِ صادق سے پکار اٹھتے
"سَمِعناَ وَاَطَعناَ"ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ان میں سے ایسےلوگ بھی تھےجوسن کر مذاق اڑاتے،جو اطعنا کے بجائےعصینا کہتے،اس رد کرنے کی عادتوں والے لوگ ہر دور میں تھے اور ہیں ۔
آپ جس درجےپرہوں بحیثیت حکمران بحیثیت عوام ۔۔سیدنامحمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کی محبت کا عملی مجموعہ آپ کی ذات کا عکس نہیں تو اس محبت کا آپ کی زندگی سے پھر کوئی سروکار نہیں۔
طائف کے پتھر کھانے والا پیروں کو چھلنی کرنے والا اپنی امت کےلیےراتوں کواشک بہانےوالا نبی جس نے صحابہ کرام کی تربیت بھوک اور نفس کی پاکیزگی سے کی،وہ زندگیاں ایمان کے بلند ترین درجے کی ترجمان ہیں۔
حنین کے معرکہ کے بعد جب مالِ غنیمت تقسیم ہوتا ہے،یہ ان محاذوں کامال ہے جن پر صحابہ کرام نے اپنی جان کے نذرانے پیش کیےمگرپیارے نبی نے وہ مال غنیمت روسائے قریش میں تقسیم فرمایا اور صحابہ کے لیے اپنا اسوہ پیش کیا کیونکہ صحابہ کے لیے محمد کی جان ان کی محبت متاع حیات تھی ان کے نفس دنیا کی محبت سے بے نیاز تھے ۔
لیڈر اپنی ذات میں خود ایک لیڈر ہوتا ہے، عوام کے احساس سےآشنا اس کا دل ایمان کی دولت سےمنورہوتا ہے،دردِانسانی کامرکزہوتاہے۔
انفرادی تبدیلی جب اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر استوار ہو ،انسانی دل میں تدبیر محمد صہ معنویت و مقصدیت رکھتی ہو تو ضرور وہ دل پھر اجتماعی تبدیلی کے لیے طاغوتی نظام کے توڑ نے کے لیے مزاحمت پر مامور ہوتا ہے۔
اس صدی کی حکومت عالیہ لا دین سیاست اورلادین قانون پر چلنے والی وہ کٹھ پتلی ہے جس سے طاغوتی خداؤں کو اپنا ولی بنارکھا ہے جبکہ اسلامی حکومت کے افسر تاریخ میں سعد بن ابی وقاص اتنی بڑی جہادی ڈگری لے کر بھی ذرا سی نا انصافی کرنے پر معزول کردیے گئے۔
دین کو بالائے طاق رکھ کر ریاست مدینہ کےعلمبردار نبی کونین صہ کی اتباع نہ کرنے والوں نےملک کی معیشت تار تار ہی نہیں کی بلکہ سماجی مساوات کی دھجیاں اڑائیں ،اشرافیہ سونے میں نہانے لگی غریب غریب تر ہونے لگا۔ٹیکس حکومتی مراعات سےلےکرصنعت و تجارت جس سودی نظام میں جکڑ چکی اس نے معاشی طور پر انسان کو کمزور کرکے اسکے مقصد زندگی کو اس سے دور کردیا۔
دور حاضر میں اقتصادی اخوت کا نام و نشان مٹ گیا،سود کا نظام رائج ہی نہیں، ہماری نسل نو کی بنیادوں میں پل رہا ہے جبکہ اسی نظام کے لیے قریش کے سرداروں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے برسوں اقتصادی جنگیں لڑیں۔ اپنے اخلاق و تدبیر سے مشرکین و منافقیں کے عزائم سے نبرد آزما ہوئے۔
ہر فرد یہ سوچے کہ وہ کس جگہ کھڑا ہے۔وہ اسلامی نظام جو نماز قائم کرنےکاحکم دیتا ہےجونبی کی اطاعت کو اپنا مشن بنانے کا عزم دیتا ہے وہ کوئی میتھ میٹک کا نا سمجھ آنے والا فارمولا نہیں، جسےایک مشکل ہدف بنادیا گیا اور آسانی کے لیے برائی کا سستا کردیا گیا۔سود، شراب خوری ،زنا اور جھوٹ سے اداروں کو نافذ کرکے مسلمان ذلیل و خوار ہوکررہ گیا،ایمان کی دولت نبی کی سنت ہی تھی،نماز کے حکم میں ہم نے اللہ کی صدا لگائی مگر اللہ کو کسی طرز اسلوب میں بڑا نہ مانا ہم نے محمد کو رہنما کہا شہادت کی انگلی اٹھاکر اللہ کے نبی ہونے کی گواہی دی مگر اطاعت کا عملی قدم نہ بڑھایا۔۔ محبت کے لیے عشق نبی کے نعرے تو لگائے مگر نظام عدل کی ادنیٰ کوشش سے خود کو محروم رکھا، درود شریف میں سلام تو بھیجا، محمد کے دین اور ابراہیم علیہ السلام کے دین کو مگر ہم نے عدلیہ اور قانون سے الگ کردیا،انصاف اپنی ذات سے تو یہ ہوگا کہ جس جگہ جو فرد برائی دیکھے تو اسے ہاتھ سے روکےورنہ زبان سے اور یہ بھی نہ کرسکے تو دل میں برا جانے۔نظام عدل کا فریضہ حاکم وقت سے لے کر عوام پر فرض ہے ظالم کو ظلم کرتا دیکھنا ظالم کے ساتھ کھڑے ہونے کے مترادف ہے اور اگر امت نبوی نے یہ حق ادا نہ کیا تو سمجھو کہ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آنسووں کا ہم نے رائی برابر بھی حق ادا نہ کیا۔
کی محمد سے وفا تو ہم تیرے ہیں




































