
فرحت شاہ
آج میں اپنی پرانی ڈائری دیکھ رہی تھی، اس میں خرم مراد مرحوم کی کتاب " کارکن اورقیادت سے تحریک کےتقاضے،"میں سورہ البقرہ سے ایک چھوٹا
سا واقعہ بیان کیا گیا ہے، جس میں امتوں کی تقدیر اور ان کے عروج وزوال کی طرف بڑا گہرا اشارہ ہےجو قومیں اور امتیں جہاد کی زندگی گزارنے اور جدوجہد کرنے کے لئے تیار ہوں، گھروں سے نکلنے اور قربانی دینے کے لئے تیار ہوں،وہی قومیں دنیا میں غلبہ حاصل کرتی ہیں لیکن جو قومیں جنگل میں جگالی کرتی رہیں ،گھاس پھوس کھاتی رہیں ،وہ شیر کا تر نوالہ بن جاتی ہیں۔
لہسن،پیاز اور دالیں وہ چیزیں نہیں ہیں جن کی طلب پراللہ تعالیٰ ناراض ہو جائےبلکہ وہ ناراض اس بات پرہوا کہ صحرائے سینا میں، جہاد کی زندگی میں جو من و سلویٰ مل رہا تھا،اسے ترک کرکے بنی اسرائیل وہ زندگی چاہتے تھےجو جہاد کی زندگی نہ ہوبلکہ ایسی زندگی جس میں آرام و سکون ہو۔
آج اس امت نے بھی جہاد ترک کردیا اور تہذیبی زندگی پرقانع ہوگئی تو اس کا زوال شروع ہوگیا۔اس نےپہلی امت کے کیے ہوئے کام کا پھل ایک ہزار سال تک کھایا۔۔۔غور طلب بات۔۔۔جہاد کے نتیجے میں درخت پر جو پھل لگا،مسلمان ایک ہزار سال تک کھاتے رہے لیکن کب تک۔۔؟
بینک میں رکھا ہوا سرمایہ بھی ایک روز ختم ہو کر رہتا ہےاورپھرمقروض ہونےکی نسبت آجاتی ہے۔مسلمان مقروض ہوتے چلے گئے اور بالآخر دنیا کی قوموں کے سامنے گروی ہوتے چلے گئے۔دو سو سال کے عرصے میں وہ مسلمان جن کا دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ڈنکا بجتا تھا ،ان کی کوئی حیثیت نہ رہی۔دنیا کے نقشے پر ان کا کوئی مقام نہیں تھا ۔ہر مسلمان ملک دوسروں کے لئے تر نوالہ بن چکا تھا۔اس لئے کہ انہوں نے جہاد کی زندگی کو ترک کردیا تھا۔
حکیم الامت علامہ اقبال نے اس مرض کے علاج کی طرف اشارہ کیا تھا
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر
بلاشبہ یہ آیاتِ قرآنی کی تفسیر ہے ،اللہ تعالیٰ اس امت کو جلد عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین




































