
بنتِ سحر / بہاولپور
بارش ہورہی ہے۔میں چائے چولہےپررکھےحسب عادت بارش پھوار کےساتھ ماضی کاسفرطےکررہی ہوں۔
بچپن میں بارش کا مطلب بس کھیل کود، بھیگنا، پھسل پھسل کرگرنا، ایک دوسرے پرہنسنا،کاغذ کی کشتیاں چلانا،بارش کےبعد پکوڑے،یامیٹھاپراٹھااچارکے ساتھ کھانا ہوا کرتا تھا۔
بڑے برستی بارش کو دیکھ کرہم سےکہتے:"دعائیں مانگ لو۔۔بارش میں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔" ــــــــــــ ہم لاپروائی سےاچھلتےکودتےسوچتے:"ہنہہ!انہیں بارش کی خوشی نہیں بس مانگنےکی پڑی ہے۔ بھلا کیا مانگیں؟ سب کچھ تو ہے"!۔
سوچتی ہوں اب تو بارش ہوتی ہےتوپہلا خیال ناتمام آرزوؤں اورانتظار میں ٹھہری دعاؤں ہی کاآتاہے۔پھر تب کیا تھا؟ کیا ہمارے پاس سب کچھ تھا؟ یا غناء تھا، قناعت تھی یا جو نہیں تھا اس کا ادراک نہیں تھا؟۔
بارش ہوتی چلی جارہی ہے۔ چائے بن چکی ہے۔ میں نے چکھ کر دیکھی تو ہاسٹل کی چائے جیسا ذائقہ لگا۔ اپنی ہاسٹل میں مستقل روم میٹ اور عزیز از جان دوست یاد آگئی۔ پنڈی میں بارش ہوتے ہی ہم شمالی اور جنوبی پنجاب کی بارشوں کا موازنہ کیا کرتے تھے۔
دوست سےاوربھی کچھ یاد آگیا
وہ ایک ترانہ تھاجس کا ایک مصرعہ تھا
تو کیا اپنے بستر پہ ہی جان دو گے؟
پہلے کے کچھ اشعار یوں تھے ۔۔۔
جوانو! فقط تم سے یہ پوچھتا ہوں
تم اپنے نبی ص سے عہد توڑ دو گے
نہ صدقے کرو گے نہ جنگیں لڑو گے
مقاصد کو اعلیٰ نہ ارفع کرو گے
جو سیکھی ہے تم نے رمی، چھوڑ دو گے
تو کیا اپنے بستر پہ ہی جان دو گے؟
ہم دونوں ہاسٹل سے باہر نکل کر گھومنے پھرنے کو ممنوع سمجھنےوالے آدم بیزار لوگ تھے۔ لہٰذا زیادہ تر چھٹی کا دن کمرے میں گزارتے تھےاور اسی بات پر وہ ہنس کر کہا کرتی تھی ترانے کا یہ آخری بول ہمارے لیے ہے۔۔۔
کبھی ہم اس پر ہنس دیتے۔ کبھی ایک دوسرے کو تسلی دیتے کہ ہم بھی جمعیت میں اللہ کے راستے میں مقدور بھر کام کر رہے ہیں۔
اللہ کے راستے کی بات ہو رہی ہے، کچھ یاد آگیا
سنا ہے وہ جنہیں بہت لوگ شہزادے کہتے ہیں ۔اور اگر پوری زمین کوئی سلطنت ہے تو واقعی وہ قدس کے محافظ اس کے شہزادے ہیں۔۔۔)۔
"سنا ہے انہوں نے آپریشن لانچ کیا ہے۔۔ "عصائے موسیٰ"
مودودی رحمہ اللہ کہتے تھے
"ایک وقت وہ آئےگاجب کمیونزم خود ماسکو میں اپنےبچاؤکےلیےپریشان ہوگا ــــــ سرمایہ دارانہ ڈیمو کریسی خودواشنگٹن اورنیو یارک میں اپنےتحفّظ کے لیے لرزہ بَر اندام ہو گی ــــــــمادہ پرستانہ اِلحادخود لندن اورپیرس کی یونیورسٹیوں میں جگہ پانےسےعاجزہوگاـــــــــ نسل پرستی اورقوم پرستی خود برہمنوں اور جرمنوں میں اپنے معتقد نہ پا سکے گی ـــــــــــاور یہ آج کا دَور صرف تاریخ میں ایک داستانِ عبرت کی حیثیت سے باقی رہ جائے گا کہ اسلام جیسی عالمگیر و جہاں کُشا طاقت کے نام لیوا کبھی اتنے بے وقوف ہو گئے تھے کہ عصائےموسیٰ بغل میں تھا اور لاٹھیوں اور رسّیوں کو دیکھ دیکھ کر کانپ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔" (شہادتِ حق)
اس پیشین گوئی کا کچھ حصہ مکمل ہوچکا ہے، کچھ ہوجائے گا ان شاءاللہ!
بستروں پر تو ہم بھی جان نہیں دیں گے۔یقیناًجومقدوربھرکرسکتےہیں کرلیں گے۔ہمارے قلم،قدم، دل اورذہن اسی راہ کےلیےوقف ہیں جسےجہــادکہاجاتا ہے اور جس کا مفہوم ہم نے تب سمجھا تھا جب دوسرے بچے اپنے رشتوں کے نام ہی سمجھ پاتے تھے۔ ہم نے گمنام مجــاہدین سے اس وقت محبت کی جب ہم محبت کے مفہوم سے آشنا ہوئے بھی نہیں تھے۔عصائےموسیٰ آپریشن آج جنہوں نے شروع کیا ہے، خدا انہی کے ہاتھوں وقت کے فرعون کو نیل بُرد کرے گا ان شاءاللہ۔
ہمارے رب! ہم ان کے ساتھ اگلی صفوں میں نہ بھی لڑ سکے تو بیانیےکی جنگ کےساتھی کہلائیں، تاریک شبوں میں اپنی گمنام بھیگی دعائیں ان کے نام کرنے والے کہلائیں، ان کی خبروں کے لیے بے سکون رہنے والے ان کے دوست کہلائیں،ان کو بغیر دیکھے ان کے ناموں، ان کے نقابوں میں چھپے چہروں کے، ان کی سچی کہانیوں کے شیدائی کہلائیں۔
تیری رحمت وسیع ہے، ہماری کمزوری کو معاف کر پروردگار !
ہم قدس پہنچ کر ان کے برابر نہ لڑ سکے تو بھی ان کے گمنام ساتھی کہلائیں۔
ہمارے لیے یہی سعادت بہت ہوگی۔




































