
طلعت نفیس
گھنگھور گھٹا نے نیلے بادلوں کو سرمئ چادر نےچھپارکھاتھا۔ہواکی چاپ بھی نہ تھی جس کی وجہ سناٹا بھی گہراہوگیاتھا۔ قحط کی ماری زمین پانی
کے بجائے خون میں تر تھی، فصلیں تو تیار کھڑی تھیں مگر ان کو کاٹنے والے ہاتھ نہ تھے۔بھوک اور افلاس سے تھکے ہارے چہرے آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے مگر رحم کے بادل جیسے اپنی ہی سوچوں میں گم ہوں ،ہرقطرہ برسانے سے گریزاں تھا۔
بادل کے اندر ایک عجیب سا شورتھا۔ہرقطرہ اپنےوجود پرسوال اٹھارہا تھا۔میں کیا کروں گا؟میں کیا کروں گا ؟ایک اکیلا قطرہ ۔ میں بے بس ہوں ہر قطرہ اپنی جگہ یہ ہی سوچ رہا تھا۔سبھی کو اپنی بے بسی کا اندازہ تھامگر ان بھوکے افلاس زدہ چہروں کی نگاہیں منتظر تھیں پھر ایک ننھی بوند سب کو چیرتی ہوئی آگے بڑھی، سب قطرے اس کی جرات اور ولولہ دیکھ کرجاگ اٹھے۔ان میں ایک بزرگ چہرہ تدبر لیےآگےبڑھے۔اگرہم سب یوں ہی سوچتے رہے توزمین کا یہ ٹکڑآ ایسے ہی ترستا رہےگا۔وہ بزرگ قطرہ اس ننھی بوند کے ساتھ نکلتے ہوئےکہنے لگا چاہے میرا وجود ہی ختم کیوں نہ ہو جاۓ میں اس ننھی بوند کا ساتھ دوں گا۔
یہ کہہ کر وہ زمین کی طرف لپکا۔ بجلی چمکی اوراس کےپیچھے چند قطرےاورنکل آئےپھر ایک کےبعدایک یوں قطروں کا قافلہ بنتا گیا اور وہی بادل جو بوجھل تھا موسلا دھار بارش میں ڈھل گیا۔کمھلاۓ چہرے چمک اٹھے،پیاسےدریا گنگنانےلگےاورانسانوں کی آنکھوں میں شکر کے چراغ جل اٹھے۔
یاد رکھوقوم کا حال بھی ایسا ہی ہے،اگرہرفرد خود کو چھوٹااورکمزورسمجھےگاتوکچھ نہ بدلے گا، مگر جب ایک آگےبڑھے گاباقی بھی اس کےپیچھے چلیں گےاور پھر ایک قافلہ نکل کھڑا ہو ہرقوم ونسل مذہب اور دین سےبالاتر ہوکےچوالیس ممالک سے کشتیان نکل چکی ہیں ۔۔۔ قطرے کی ہمت نے سب کو رحمت کی بارش میں بدل دیا ۔




































