
عائشہ بی
قائداعظم محمد علی جناح صرف پاکستان کے بانی ہی نہیں بلکہ ایک بااصول اور صاحبِ بصیرت رہنما تھے جنہوں نے ہر
معاملے میں انصاف، حق اور مسلم اُمت کے مفاد کو مقدم رکھتے تھے۔ 1948ء میں جب فلسطین پر ناجائز قبضے کے نتیجے میں اسرائیل کے قیام کا اعلان ہوا تو دنیا کے کئی طاقتور ممالک نے جلد ہی اسے تسلیم کر لیا لیکن پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہا کہ “پاکستان کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔”
یہ فیصلہ محض ایک سیاسی اعلان نہیں تھا،اصل میں فلسطین انبیاء کی سرزمین اور مسلمانوں کا قبلہ اول ہے بلکہ امتِ مسلمہ سے محبت، انصاف پسندی اور مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا مظہر تھا۔ قائداعظمؒ نے ہمیشہ فلسطینی عوام کی حمایت کی اور فرمایا کہ فلسطین کے مسلمانوں پر ڈھایا جانے والا ظلم انسانیت کے خلاف جرم ہے ۔ " قائد اعظم کے نزدیک اسرائیل ایک ناجائز ریاست تھی جو طاقت کے بل بوتے پر وجود میں لائی گئی، اور جس نے ہزاروں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بےدخل کیا۔" یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد آج تک اسی اصول پر قائم ہے۔
“جب تک فلسطینی اپنے جائز حقوق حاصل نہیں کر لیتے، پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔” قائداعظمؒ کا یہ مؤقف آج بھی زندہ ہے اور پاکستانی قوم اس عزم پر قائم ہے کہ ہم مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ ہیں اور ظالم کے ساتھ کبھی نہیں ہوں گے. اسرائیل کو قبول کرنا بانی پاکستان کے موقف سے غداری کے مترادف ہے ۔اس لیے ملک کے حکمران طبقے کا فرض ہے کہ وہ اس معاملے میں قائد اعظم محمد علی جناح کے اصولوں کے مطابق فیصلہ کرے ۔




































