“آدم زاد”انسانی ذات کے حقیقی زاویوں کی کہانی

 اظہارِ خیال/ ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

پروفیسر خیال آفاقی کی یہ شہرہ آفاق ناول ہمارے بیسویں اور اکیسویں صدی کے سنگم پر پیدا ہونے والے اس سماجی تجربے اور

انسانی خدمت والے جذبے کو سامنے لاتا ہے جس نے ہمارے معاشرے میں نئی اخلاقی اور فلاحی معنویت پیدا کی۔ خیال آفاقی نے اسے روایتی ڈرامائی سسپنس کی جگہ انسانی تعمیر اور کردار سازی پر کھڑا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میاں راحیل کی تحریر اس ناول کے تعارف کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں علامہ اقبال کے شعر کا حوالہ محض ادبی اضافہ ہی نہیں بلکہ اس ناول کے بنیادی روحانی جملے کے طور پر بھی سامنے آتا ہے کہ انسان وہی بڑا ہے جو دوسرے انسانوں کیلئے جیتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں:

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے

آتے ہیں جو کام دوسروں کے

پروفیسر خیال آفاقی ناول کا آغاز ان الفاظ میں کرتے ہیں:

"قدرت کے بے شمار مظاہر میں سے ایک بہت بڑی نشانی اور اس پر اسرار کائنات کا عجیب و غریب حصہ سمندر کہ، اس کی تاحد نظر پھیلی ہوئی نیلگوں سطح کو دیکھ کر عقل انسان حیران و ششدر ہے۔ اس کی تیز رفتار اور پر شور موجیں جب ساحل کی طرف یلغار کرتی ہیں تو دیکھنے والوں کے دل و دماغ سہم کر رہ جاتے ہیں۔ وقت کی نبضیں ڈوبنے لگتی ہیں لیکن یہ سرکش اور منہ زور موجیں مقررہ حد سے ایک قدم آگے بڑھے بغیر اسی تیزی سے واپس ہو جاتی ہیں تو کائنات کے خالق و مدیر کی حمد و ثنا کرنے پر دل مجبور ہو جاتا ہے، اور دماغ سوچنے لگتا ہے کہ اگر یہ بپھری ہوئی موجیں اسی رفتار سے آگے بڑھتی چلی جائیں ، اور واپس نہ ہوں تو زمین کے خطہ خشک پر آباد زندگی پلک جھپکتے ہی غرق آب ہو کر فنا کا عنوان بن جائے ۔ لیکن، ایسا ہوتا نہیں! سمندر جیو اور جینے دو کے اصول پر عمل پیرا ہے۔ ہزاروں سال سے خود بھی قائم ہے اور اپنے ساحل پر بسنے والی مخلوق اور دوسری نشانیوں کو بھی زندہ و سلامت دیکھتا چلا آ رہا ہے، بلکہ صدیوں کی طرح آج بھی اس کے ہم سائے ، روز و شب اس سے فیضیاب ہوتے رہتے ہیں، اور انسان اس کلام الہی کے آگے لب بستہ و سر خمیدہ ہے کہ :

"اے گروہ جن وانس، تم اس کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ لاریب اس کی نعمتوں کا نہ شمار مکن ہے اور نہ ہی حق سپاس ادا کرنے کی کسی میں طاقت ہے"۔

ناول آدم زاد کا آغاز سمندر کے منظر سے ہوتا ہے۔ سمندر یہاں محض منظر ہی نہیں بلکہ علامتی موازنہ بھی ہے۔ سمندر کی سرکش موجیں حدود میں رہ کر جینے کا پیغام دیتی ہیں۔ پھر کہانی آگے چل کر ایک نکاح کی تقریب سے دوسرے باب پر منتقل ہوتی ہے۔ یہ تقریب بعد میں آنے والی ساری سماجی بساط کا مرکزی نقطہ بنتی ہے۔ وقت گزرتا ہے۔ موسم بدلتے ہیں۔ تعلقات غیر مانوس سے مانوس بنتے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کی ذمہ داری بن جاتے ہیں۔ پھر ایک وقت آتا ہے جہاں جدائی اور موت کا پہر ہے۔ ڈاکٹر کی گفتگو میں انسانی خدمت کا سب سے اونچا پہلو سامنے آتا ہے۔ اختتام میں ایک فلاحی ادارہ ہے جو چل پڑا ہے۔ انسانیت کی خدمت تسلسل میں جاری ہے۔ آدم اب صرف ایک فرد ہی نہیں بلکہ وہ ایک کار خیر کی علامت بن گیا ہے۔

پروفیسر خیال آفاقی لکھتے ہیں

"چاروں طرف سنہری دھوپ پھیلی ہوئی ہے، جس نے سردی میں بڑی حد تک کمی کر دی ہے۔ پنڈال کے پاس، ڈاکٹر بنفس نفیس برات کی منتظر ہے۔ خوش آمدید خو آمدید۔ اس نے سر اور کمر کو ہلکا ساخم دے کر دوکھا اور مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔

شکریہ نوازش! جواب میں امام صاحب نے اظہار تشکر کیا۔

منتظمیں نے دولھا اور دولھا کے خاص دوستوں کو امام صاحب -پڑے ہوئے ب کے ساتھ لان میں دے دیا، جبکہ دوسرے مہمانوں کو کرسیاں پیش کی گئیں۔ ڈاکٹر کرستان خواتیں کو لے کر اندر چلی گئیں۔ وہاں پہنچ کر بلال کی بیوی اپنے ساتھ لائے ہوئے ٹوکری میں سے پھولوں کا زیور نکال کر بڑے سلیقے سے دلہن کو پنانے تھی۔ ہانوں کی لے کر کوئی سے تواضع کی کی پھرکچھ دیر کے بعدوہ گھڑی آن پہنچی جب ایک نامحرم عورت اور مرد ایجاب و قبول کر کے میاں بیوی کے رشتے سے منسلک ہو جاتے ہیں۔ دو بول، بول کرنا آشنا مرد و زن آشنا بن جاتے ہیں، غیریت کی دیوار گر جاتی ہے اور اپنائیت کا آنگن مہک اٹھتا ہے۔ درمیان سے تکلف کے حجابات اٹھ جاتے ہیں اور بے تکلفی کا چہرہ مسکرانے لگتا ہے، دو اجنبی مسافر ایک دوسرے کے ہاتھ مضبوطی سے تھام کر زندگی کے طویل سفر پر چل پڑتے ہیں۔ ایک اچھا اتفاق یہ ہوا کہ ڈاکٹر کرسٹان کے دست راست ڈاکٹر برگنس جو ایک عالمی سمینار میں شرکت کرنے امریکہ گئے تھے صبح کی فلائٹ سے واپس آگئے اور اس وقت وہ بھی اس خوشگوار ماحول میں خوش نظر آ رہے ہیں۔ لڑکی ڈاکٹر کرسٹان کی اجازت ملتے ہی، امام صاحب نے نکاح کا خطبہ شروع کر دیا۔ کے ولی اور وکیل کے فرائض ڈاکٹر کرسٹان انجام دے رہی ہیں، جبکہ لڑکے کی سر پرستی خود امام صاحب کے ذمہ ہے"۔

ناول آدم زاد کا مرکزی موضوع بے لوث انسان دوستی ہے۔ آفاقی صاحب نے بتائے بغیر ثابت کیا ہے کہ اصل آدم زاد وہ ہے جس کے اندر حسن اخلاق اور ہمدردی کا نور ہو۔ ناول میں مصنف یہ سوال کھڑا نہیں کرتا کے انسان کیسے پیدا ہوتا ہے۔ ناول نگار یہ دکھاتا ہے کہ انسان “یہ کیسے بنتا ہے۔”

اس ناول کی ساخت روایتی پلاٹ کی پابند نہیں۔ یہ فوٹوگرافک فکشن اسٹریم بھی نہیں۔ یہ سادہ بیانیہ ہے۔ سورج، سمندر، موسم، نکاح، موت اور پھر ادارے کی تعمیر۔ اس کا بیانی سفر زندگی کے دو بڑے دائروں کو سامنے رکھتا ہے۔ ایک دائرہ “زندگی کا آنا” اور دوسرا دائرہ “زندگی کا چلے جانا۔” ان دونوں دائروں کی درمیانی پگڈنڈی خدمت ہے۔

ناول میں کائناتی منظر نگاری بھی ہے جیسے سمندر کا استعارہ، موسموں کا استعمال،مرد عورت کے تعلق کا انسانی احترام، موت کی شدید حقیقت کو نرم انسانی لہجے میں بیان کرنا شامل ہے۔ ان سب کے بیچ نہ کوئی مصنوعی جذباتی ڈرامہ ہے نہ کوئی خطابت۔ یہ کم از کم لفظوں میں زیادہ سے زیادہ احساس جگانے کی ادبی تکنیک ہے۔

خیال آفاقی رقمطراز ہیں:

"سردیاں گئیں، بہار کا موسم آیا۔ گرمیوں نے آگ برسائی اور برسات نے پانی، اور اس طرح روز و شب گذرتے چلے گئے ۔ سال بھر ایسے بیت گیا جیسے مہینہ۔ وقت کا پیہ گھومتا ہوا پھر اسی جگہ پر آ گیا۔ اب پھر را میں خنک ہونے لگیں۔ باہر کھلی فضا اور صاف ہوا میں سونے والے پھر اندر کمروں میں گھس کر گرم بستروں میں راتیں گذرار نے لگے۔ بادل اب برآمدے کے فرش پر خاکی کمبل میں سکڑا راتیں نہیں کا شتاء اور نہ ہی پرانے اسٹور کے سامنے کے آہنی جالدار پلنگ پر تنہا لٹیا کروٹیں بدلتا ہے۔ اب اسے یہ شکایت نہیں کہ مٹیاری اور اسے دونوں کو ایک ہی کمرے کا کوارٹر کیوں دیا گیا ہے۔ اور نہ ہی اب اسے مٹیاری پر غصہ آتا ہے کہ خود تو کمرے میں مزے سے پڑ کر سو جاتی ہے اور اس کا ذرا سا بھی خیال نہیں کرتی۔ بلکہ اب تو وہ خود بھی بلا تکلف، کوارٹر کے گرم ماحول میں سردی کی راتیں گزارتا ہے۔ شیاری کو بھی اب اس کی موجودگی کا اور نہ ہی دوسرے لوگوں کو اس بات پر کوئی اعتراض ہے۔ اب وہ دونوں نا محرم نہیں رہے۔ رفیق حیات اور ایک دوسرے کا لباس، حجاب بن جاتے ہیں"۔

خیال آفاقی کا ناول “آدم زاد” ہمارے سماجی ادب کی اس روایت کو آگے بڑھاتا ہے جو قرۃ العین کے ناولوں میں قضا و قدر کے درمیان انسان کے اخلاقی کردار کو دیکھتی ہے۔ یہ ناول ماضی میں خیراتی اداروں یا سماجی تنظیموں کو ادب میں صرف موضوع کے طور پر لانے تک محدود نہیں رہتا۔ یہ ناول انسان کو ایک اخلاقی پروجیکٹ کے طور پر دیکھتا ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آفاقی صاحب نے یہ ناول لکھتے ہوئے کسی سماجی ٹیبل پر بیٹھ کر ڈرامائی کردار نہیں گھڑے۔ انہوں نے زندگی کی خام حقیقت کو صفحے پر منتقل کیا۔ اس لئے اس ناول میں خدمت کی عملیت ہے۔ جذبات کا روایتی تصنع نہیں۔

خیال آفاقی لکھتے ہیں

"اس وفا کے روشن مینار کو رات ہونے سے پہلے پہلے، جیسے ہی مطلع صاف ہوا، سر شام ہی اس کے محبوب کے پہلو میں سلا دیا گیا۔ مہربان بزرگ تمام رسومات ادا کرنے کے بعد واپس ہسپتال ڈاکٹر کے پاس آئے تو سوگوار ماحول میں جو بڑی دیر سے خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔ ان کی غم سے بوجھل آواز نے ہلچل سی پیدا کر دی۔ سلام کے بعد وہ براہ راست ڈاکٹر سے مخاطب ہوئے۔آپ کی تعمیر نو کردہ عمارت کو زمین کے حوالے کر آئے ہیں۔ اچھا ہو گیا۔۔۔ بہت اچھا ہو گیا ڈاکٹر نہایت اطمینان سے بولی۔ ” وہ اپنا ساتھی کا پاس چلا گیا ، نہیں تو ہم کدھر سے اس کو بتاتے کہ اس کا بچہ کا کیا ہوا؟ کون اس کا بچہ کو لے گیا۔۔؟“

ناول کے شروع میں سمندر ہے۔ آخر میں ایک فلاحی ادارہ ہے۔ درمیان میں انسان کی نفسی تعمیر ہے۔ یہی اسے دیگر ناولوں سے الگ کرتا ہے۔

یہ ناول ہمارے اس دور میں ایک اخلاقی بیان ہے کہ انسان کو آدم زاد بننے کے لئے ضروری ہے کہ وہ خود تک محدود نہ رہے۔ انسانیت دو حرف کا لفظ نہیں بلکہ یہ ذمہ داری ہے۔ یہ عمل ہے۔ یہ مسلسل خیر کے میدان میں رہنے کا نام ہے۔

 

اس لئے ناول “آدم زاد” ادب کے لیے بھی اہم ہے اور سماج کیلئے بھی۔ یہ ناول پڑھنے والے کو خاموشی میں ڈال دیتا ہے۔ اور خاموشی کے بعد انسان خود سے پوچھتا ہے۔ میں خود اپنے اندر کا آدم کب تک زندہ رکھوں گا اور میری خدمت کا دائرہ کہاں تک جاتا ہے۔ میں ناول آدم زاد کے ذریعے انسانی ذات کے حقیقی زاویوں کو نمایاں کرنے پر اور کتاب کی اشاعت پر مصنف کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

 

 

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق خیبرپختونخوا چترال سے ہے آپ حالات حاضرہ، علم ادب، لسانیات اور تحقیق و تنقیدی ۔موضوعات پر لکھتے ہیں ان سے اس ای میل   اور واٹس ایپ نمبر 03365114595  پر ٓرابطہ کیا جاسکتا ہے.

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it. 

شہر شہر کی خبریں

ممتاز ادیبہ محترمہ عائشہ بی کی بچوں کی پہلی کتاب " ننھی کلیوں سے باتیں "شائع ہوگئی

کراچی ( نمائندہ رنگ نو ) ممتاز ادیبہ محترمہ عائشہ بی کی بچوں کی پہلی کتاب " ننھی کلیوں سے باتیں "شائع ہوگئی ہے ۔160

... مزید پڑھیے

ٹرانسپورٹ کے شعبے کو سیاست سے دور رکھا جائے،حاجی جان عالم محسود

کراچی ( ویب ڈیسک ) ڈمپرز ایسوسی ایشن کے صدر حاجی جان عالم محسود نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے

... مزید پڑھیے

یوم اقبال: ہمدرد نونہال اسمبلی کے تحت محترمہ سعدیہ راشد  کی زیرصدارت تقریب

 کراچی ( نمائندہ رنگ نو ) شاعر مشرق اور مصور پاکستان علامہ اقبال کو خراج عقیدت پیش کرنے اور اُن کے پیغام کا اعادہ کرنے

... مزید پڑھیے

تعلیم

پنجاب میں موسمِ سرما کی تعطیلات کا باضابطہ اعلان کردیا گیا (تعلیم)

لاہور ( ویب ڈیسک )پنجاب کے اسکولوں میں موسمِ سرما کی تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

... مزید پڑھیے

سندھ کے اسکولوں میں بچوں کو مخصوص رنگ کے سوئٹر پہننے پرمجبور نہ کرنے کی ہدایت (تعلیم)

کراچی( تعلیم ڈیسک ) محکمۂ تعلیم سندھ نے موسمِ سرما کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے نجی اسکولوں کو ہدایت جاری

... مزید پڑھیے

ایم ڈی کیٹ 2025ء کے حتمی نتائج کا اعلان کردیا گیا (تعلیم)

سکھر (تعلیم ٖڈیسک) آئی بی اے سکھر یونیورسٹی نے ایم ڈی کیٹ 2025ء کے حتمی نتائج جاری کر دیے۔ وائس چانسلر ڈاکٹر

... مزید پڑھیے

کھیل

پی ایس ایل کا لندن میں بڑا اعلان: پی سی بی کا لارڈز میں شاندار روڈ شو کا فیصلہ

لاہور( اسپورٹس ڈیسک )پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان سپر لیگ کو بین الاقوامی سطح پر مزید فروغ دینے کے لیے لندن میں

... مزید پڑھیے

اعصام الحق کا بین الاقوامی ٹینس سرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

پاکستان کے نامور ٹینس اسٹار اعصام الحق قریشی نے اے ٹی پی چیلنجرز کپ کے اختتام پر بین الاقوامی ٹینس سرکٹ سے

... مزید پڑھیے

لاہور قلندرز کا سفر: شاہین آفریدی کی نظر میں کامیابی، محنت اور ٹیلنٹ کی تلاش

لاہور( اسپورٹس ڈیسک )پاکستان سپر لیگ کی ٹیم لاہور قلندرز کے کپتان شاہین آفریدی کا کہنا ہے کہ فرنچائز کا دس

... مزید پڑھیے

تجارت

اکتوبر 2025 کے دوران مہنگائی کی شرح ماہانہ بنیاد پر 1.83 فیصد بڑھ گئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک،خبر ایجنسی)اکتوبر 2025 میں مہنگائی کی شرح ماہانہ بنیاد پر 1.83 فیصد بڑھ گئی۔ادارہ شماریات نے ماہانہ

... مزید پڑھیے

آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ مضبوط معاشی کارکردگی کا اعتراف ہے:رپورٹ

اسلام آباد(ویب ڈیسک،خبر ایجنسی)وزارت خزانہ کی جانب سے ماہانہ معاشی آؤٹ لک رپورٹ جاری کردی گئی ہے جس میں کہا گیا

... مزید پڑھیے

بجلی کی قیمتوں میں 3 سال کیلئے 14 روپے فی یونٹ تک کمی کا امکان :ریلیف پیکیج تیار

اسلام آباد(ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی)پاورڈویژن نےزرعی اورصنعتی صارفین کے لیے تین سالہ ریلیف پیکج تیار کر

... مزید پڑھیے

دنیا بھرسے

پاکستانیوں نے 2025 میں کیا سرچ کیا ،گوگل نے صاف صاف بتا دیا

گوگل نے سال 2025 میں پاکستان میں سب سے زیادہ تلاش کیے جانے والے موضوعات کی تفریح، خبروں اور ٹیکنالوجی سے

... مزید پڑھیے

بھارتی دھمکی: افغان علاقائی سلامتی کیلئے بھارت پرعزم ہے، بھارتی وزارت خارجہ

نئی دہلی(ویب ڈیسک،خبرایجنسی،فوٹو فائل) بھارت نے افغانستان کے حوالے سےپاکستان کو کھلی دھمکی دے دی ہے۔ انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر

... مزید پڑھیے

غزہ امن معاہدہ مکمل،دستخط کرنے والوں میں امریکا،مصر،ترکیہ اورقطر شامل

شرم الشیخ(ویب ڈیسک،خبر ایجنسی) مصرکے سیاحتی شہر شرم الشیخ میں غزہ امن معاہدے پردستخط کردئیے گئے، امریکا، مصر، ترکیہ کے صدور

... مزید پڑھیے

فن و فنکار

آج تک نہیں جانتا مجھے کن بنیادوں پر جیل بھیجا گیا: سنجے دت کا انکشاف

نئی دہلی ( فن وفنکار ڈٖیسک )معروف بھارتی اداکار سنجے دت نے ایک نئے انٹرویو میں اپنی زندگی کے اُس سخت ترین دور پر کھل

... مزید پڑھیے

مشی خان کا طلحہٰ انجم پر بھارتی پرچم لہرانے پر سخت ردِعمل

کراچی ( شوبز ڈیسک ،فوٹو فائل )اداکارہ اور ٹی وی میزبان مشی خان نے گلوکار و ریپر طلحٰہ انجم کو نیپال میں بھارتی پرچم

... مزید پڑھیے

علیزے شاہ اور منسا ملک کے درمیان تنازع شدید ہوگیا ،قانونی نوٹس جاری

لاہور/ شوبز ڈیسک )اداکارہ علیزے شاہ اورمنسا ملک کے درمیان جاری تنازع اب قانونی موڑاختیار کر چکا ہے۔ منسا ملک نے علیزے شاہ کو ہتکِ عزت کا نوٹس بھجوا دیا ہے جس

... مزید پڑھیے

دسترخوان

کریسپی چکن رولز

یاسمین شوکت

 

اجزاء

چکن بون لیس،اُبلااورریشہ کیاہوا،ایک کپ
اُبلےآلو،دوعدد،مسلےہوئے
ہری مرچ،دوعدد،باریک کٹی ہوئی
ہرا دھنیا، دو کھانے کے چمچ
چیڈر چیز، آدھا کپ

... مزید پڑھیے

کریمی اسٹفڈ چکن بالز

یاسمین شوکت

 

اجزاء

چکن کاقیمہ
ایک درمیانی پیاز،باریک کٹی ہوئی

دو سے تین ہری مرچیں، باریک کٹی ہوئی
ایک انڈہ

... مزید پڑھیے

چیز بھرے خستہ مرغی کے پراٹھے

 

اجزاء

مرغی کا مصالحہ بنانےکےلیے

بغیر ہڈی کاباریک کٹاہواچکن۲۵۰ گرام
ادرک لہسن کاپیسٹ ایک کھانےکاچمچ
پسی ہوئی لال مرچ ایک چائے کا چمچ

... مزید پڑھیے

بلاگ

بیداری نسواں (روزینہ خورشید)

  روزینہ خورشید

نیپولین نے کہا تھا "تم مجھے بہترین( پڑھی لکھی )مائیں دو میں تمہیں بہترین قوم دوں گا ۔یہ

... مزید پڑھیے

جتماع عام ۔۔۔۔ بدلو نظام (صبااحمد/ کراچی)

صبا احمد

اجتماعیت میں برکت ہے، جہاں دین کی بات ہوقران کا درس ہو اور سنت و شریعت کی پیروی کا ذکر ہو تو وہاں اللہ تعالیٰ کے لا تعداد

... مزید پڑھیے

ڈوب مرو (غیوراحمدخان)

غیوراحمد خان

تم گٹروں میں بچوں کوڈوبتا دیکھ کرمطمئن ہولیکن پورا پاکستان اورشہر کراچی نوحہ کناں

... مزید پڑھیے