
عافیہ عدنان
اجتماع عام میں جاؤں یا نہ جاؤں ؟اتنا دورجانا مشکل بھی تو ہے ،ہر ایک کے لیے ممکن بھی
نہیں ،میرے جانے سے کیا فرق پڑے گا؟یہ تمام سوالات جو ہمارے ذہن میں آرہے ہیں، ضعف ارادے کو ظاہر کر رہے ہیں۔کسی بھی کام کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے پہلا قدم اس کا پختہ ارادہ کرنا ہوتا ہے اور اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ اس کام کے آگے آنے والے مراحل کو آسان بنا دیتا ہے۔
اجتماع عام کی پکار پر لبیک کہنا صرف ایک اجتماع میں شرکت نہیں بلکہ اس مقصد کا حصہ بننا ہے جس کے لیے اس اجتماع کا انعقاد کیا جا رہا ہے،یعنی بدل دو نظام!جی ہاں وہی نظام جس کی زد میں آج غریب ،غریب سے غریب تر اور امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے،جہاں عدل و انصاف ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملتا ،جہاں ہر طرف جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا منظر نظر آتا ہے۔
صحت ،تعلیم اور روزگار ہر جگہ عوام کو پیسا جا رہا ہے،کوئی ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والا نہیں۔آخر کب تک ۔۔۔۔ آخر کب تک عوام ان لٹیروں کے ہاتھوں لٹتے رہیں گے؟ آخر کب تک ۔۔۔۔ان کے کالے کرتوتوں کو اپنی قسمت سمجھتے رہیں گے؟اٹھیں آگے بڑھیں اور اجتماع عام کا حصہ بنیں اور اس پکار کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں کیونکہ نظام بدلے گا تبھی چہرے بدلیں گے ۔لوگ بدلیں گے اورایسے دیانت دار لوگ آئیں گے جو عوام کے درد کو اپنا درد سمجھیں گے۔ ان شاءاللہ




































