
عائشہ بی
جب 1993 میں پہلی بار جماعت اسلامی کے سالانہ اجتماع عام میں شرکت کا ارادہ کیا تو کچھ گھبراہٹ تھی کہ کیسے میں اپنے
بیٹے اور بیٹی کے ساتھ جاؤں ،ہم صرف تین ہیں لیکن جب ارادہ کیا تو جماعت کی خواتین نے ہمت بندھائی اور کہا ضروری سامان ساتھ رکھنا ،ساری رہنمائی کی، ٹرین میں بہت سی خواتین مزید ملیں ،کبھی کوئی ڈسکشن ہوتی، کسی موضوع پر ،کبھی بیت بازی۔ کوئی پچھلے اجتماعِ عام کی بات بتاتا ،سب نے مل کر کھانا بھی کھایا۔ ایک دن اور رات کا سفرتھا ،پتا ہی نہیں چلا کب لاہور پہنچ گئے۔ اسٹیشن پر یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کی کچھ لوگوں نے جماعت کے پرچم لیے نعرہ تکبیر کی گونج میں ہمیں خوش آمدید کہا پھرہمارا سامان اٹھاکر مدد کر رہے تھے ، ہمیں ایک بس میں مع سامان بٹھا دیا گیا ،بس سے مینار پاکستان پہنچے تو وہاں استقبالیہ پراندراج ہوا کیمپ کہاں ہے رہنمائی کی گئی ۔رضاکاروں نے سامان کیمپ تک پہنچایا جہاں کچھ بہنوں نے استقبال کیا۔
ایسا مثالی مثالی نظم وضبط دیکھ کر حیران رہ گئی، پھر اس کے بعد تمام ہی اجتماعات میں مع اہل خانہ شریک ہوتی رہی۔ میں نے ان اجتماعات میں شرکت سے یہ جانا اور سیکھا کہ یہ اجتماعِ عام دراصل ایک ایسا روحانی اور سماجی موقع ہوتا ہے جہاں ملک بھر سے یکساں سوچ کے مالک لوگ ایک دوسرے سے بے غرض صرف دین کے رشتے سے ملتے ہیں اور محبت، بھائی چارے، اصلاحِ نفس کا بہترین مظہر ہوتے ہیں۔ یہ انتظامات جماعت اسلامی کی قوت ،نظم و ضبط دین سے وابستگی کی گواہی دیتے ہیں ۔ اس اجتماع کا مقصد ملک بھر سے ہم خیال لوگوں کو محض چندروز کے لیے اکٹھا کرنا نہیں ہوتا بلکہ یہ دلوں کو جوڑنےاور ایمان کو تازہ کرنے اور نیکی کا حکم دینے اور برائیوں سے روکنے کی دعوت کو تقویت دینے کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔
اجتماع میں شریک ہونے والا ہر فرد اپنے دل میں سکون، اپنی روح میں تازگی اور اپنی سوچ میں ایک مثبت تبدیلی محسوس کرتا ہے۔ وہاں ایک اسلامی ماحول،درس قرآن، تقاریر ،مذاکرے، سیمینار دعائیں، اور اجتماعی مطالعے، نماز با جماعت اور یکساں سادہ اجتماعی کھانوں کے ذریعے انسان کو یہ احساس دلاتی ہیں کہ ہم سب ایک اللہ اور ہی نبی حضرت محمد ﷺ کی امت ہیں اور ہمارا مقصد ایک ہے. ہمارا جینا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے ۔ صرف اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اجتماع میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے اور شرکت کی جاتی ہے۔
اجتماع میں شرکت سے ہماری ایمانی قوت بڑھ جاتی ہے .۔ ملک بھر میں ہم خیال افراد سے رابطے استوار ہوتے ہیں،نیکی کی طرف رغبت بڑھتی ہے۔
مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ میں نے1993 کے بعد سے ہر اجتماع عام میں شرکت کی چار یا پانچ مرتبہ مینار پاکستان میں، ایک ایک بار ۔ شاہ فیصل مسجد ، قرطبہ چکری انٹر چینج، اضاخیل نوشہرہ ، شام کی بھٹیاں لاہور، تقریبا آٹھ یا نو اجتماع عام میں شرکت کی ہے۔کبھی کبھار صفائی اور بیت الخلا کے لیے بھی ڈیوٹی کی ،بعد میں اکثر میں بھتیجی عائشہ یاسمین مرحومہ کے ساتھ گوشہ اطفال کے کیمپ ڈیوٹی میں دیا کرتی تھی۔اس اجتماع میں عائشہ ہم میں نہیں ۔ ہم بچوں کے ساتھ بہت اچھا وقت گزارتے تھے ،بہت ساری سرگرمیاں کرواتے تھے ،اس کے لیے پوری ٹیم ہمارے ساتھ ہوتی تھی ۔
اس بار شاید کمزوری اور صحت کے مسائل کے باعث شرکت نہ کرسکوں لیکن دل سے دعاگو ہوں کہ اس بار جماعت اسلامی یہ سالانہ اجتماع "بدل دو نظام" ارض وطن میں نظام کی تبدیلی کی جدو جہد میں اہم سنگ میل ثابت ہو ،اللہ اسے بہترین و مثالی بنائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین
اجتماع عام میں شرکت سے ہمیں نہ صرف ایک روحانی و جسمانی ترغیب و تحریک ملتی ہے کہ جس کا ماحول ہمارے دلوں کو جھنجھوڑتا ہے، اصلاح کی ترغیب دیتا ہے، اور زندگی میں مثبت تبدیلی کی جانب متوجہ کرتا ہے۔یہ اجتماع ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم سب کو مل جل کر نیکی کی راہ پر چلنا ہے کو اصل کامیابی ہے،بے شک اجتماعیت اور اتحاد ہی میں برکت ہے۔




































