
ام محمد
کیا مومن کو کبھی خوف ہوتا ہے؟ ہاں، کیونکہ مومن بھی انسان ہوتا ہے۔ دل کبھی ہل جاتا ہے، جذبات کبھی ڈگمگا جاتے ہیں اور
حالات کبھی آزمائش بن کر سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ حضرت موسیٰؑ کو بھی خوف محسوس ہوا، تو اللہ نے فرمایا
“لَا تَخَفْ، إِنِّي مَعَكَ” — “ڈر نہیں، میں تیرے ساتھ ہوں۔”
اور جب غارِ ثور میں حضرت ابو بکر صدیقؓ گھبراہٹ میں تھے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا
“لَا تَحْزَنْ، إِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا” — “غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔”
اللہ اسی حقیقت کو قرآن میں ایک عظیم تسلی بنا کر بیان کرتا ہے
“الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا۟ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ”
— سورہ البقرہ، 156
یہ آیت دل کو یہ احساس دلاتی ہے کہ ہم اکیلے نہیں۔ہم اللہ کی امانت ہیں، ہر حال میں اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔مصیبت جب آتی ہے تو وہ دراصل ہمیں اللہ کے قریب کرتی ہے،اور “إِنَّا لِلَّهِ” کہہ کر انسان خود کو اللہ کے سپرد کر دیتا ہے ،پھر خوف آہستہ آہستہ یقین میں بدلنے لگتا ہے۔
جب دل لرز جائے، آنکھ بھر آئے، یا حالات قابو سے باہر دکھائی دیں تو یہی آیت سینے پر ہاتھ رکھ کر سکون دیتی ہے کہ جو دکھ آیا ہے، وہ اللہ کی حکمت ہےاور جو صبر کرے، اللہ اسے کبھی خالی نہیں لوٹاتا۔
مومن کے آنسو، اس کا خوف، اس کی بے بسی—اللہ کے علم میں ہیں اور وہ دل جو اللہ کی طرف رجوع کر کے کہتا ہے "إِنَّا لِلَّهِ"
اس کے لیے اللہ راستے بھی نکالتا ہے اور دل بھی مضبوط بناتا ہے۔




































