
نائلہ تبسم
جب پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو عالمی طاقتیں فوراً حرکت میں آجاتی ہیں، حتیٰ کہ یونائیٹڈ سٹیٹس بھی سفارتی کوششیں تیز کر دیتا ہے۔
ٹرمپ صاحب کا اتحادی بیان بھی نظر آتا ہے کیونکہ اس خطے کا امن ان کے مفادات سے جڑا ہوتا ہے لیکن جب دو مسلمان ممالک پاکستان اور افغانستان آمنے سامنے ہیں تو پورے عالم اسلام ہی کیا پورے اقوام عالم میں خاموشی طاری ہے۔
یہ صورتحال ہمیں اپنے باہمی انتشار پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے۔دل غم سے بوجھل ہے کہ آج ہر طرف مسلمانوں کی بربادی ٹھنڈے سینوں سے برداشت کی جارہی ہے، رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہے، جمعہ مبارک کا دن ہے پہلے عشرے کی طاق رات ہے اور دو مسلمان ریاستیں ایک نبی کا کلمہ پڑھنے والی افواج آمنے سامنے ہیں۔
یاد رکھیں سرحدی تنازعات اور سیکیورٹی خدشات حقیقی مسائل ہو سکتے ہیں، مگر ان کا حل میدان جنگ نہیں جنگ وقفہ غلبہ تو دے سکتی ہے مگر پائیدار امن ایک میز پر بیٹھ کر سنجیدہ مذاکرات،مکالمے انصاف اور باہمی اعتماد ہی دے سکتا ہے۔دو مسلمان ریاستوں کی جنگ میں فتح کسی کی نہیں ہوتی نقصان مشترک ہوتا ہے اور فائدہ ان قوتوں کو پہنچتا ہے جو مسلمانوں کو تقسیم دیکھنا چاہتی ہیں۔
اے اللہ!ہم تجھ سے اس بابرکت ماہ رمضان کے دنوں میں دعا کرتے ہیں کہ دونوں قوموں کے درمیان محبت ورحمت اور اتفاق و اتحاد پیدا فرما انہیں اسی طرح جوڑ دے جس طرح مہاجرین اور انصار کو جوڑا ان کو اپنے تنازعات خود حکمت اور عدل کے ساتھ حل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ بیرونی سازشوں کو انہی پر الٹ دے اور اس امت کا وقار بحال رکھ(آمین)
نوٹ : ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )




































