
حبیبہ اسماعیل
جی ہاں رمضان کی تو رونق ہی قرآن پڑھنے سے ہے اور اللہ پاک نے تو قرآن اتارا ہی رمضان کی ستائیسویں شب میں ہے ، رمضان میں خاص طور پر قرآن کو
پڑھنا ، ماہ مقدس میں خود کو چار چاند لگانے کے برابر ہوتا ہے اور اسے ہر روز پڑھنے سے دلوں کو سکون ملتا ہے اور گھروں میں رونق ہوتی ہے ،وہ ماہ رمضان میں مزید باغ و بہار بن کے ہر طرف سایہ فگن نظر آتا ہے اور قرآن ہمارے دلوں کی بہار کیوں نہیں بنے گا، جسے نبئ پاک نے خود پر نازل ہونے کے بعد بھی رمضان المبارک کے مہینے میں حضرت جبرئیل امین سے خود سنا تو ہم بھی رمضان میں خاص اجتماعیت کے ساتھ اگر پڑھتے اور اس کی دعوت دیتے ہیں تو ہم نبئ پاک ص کی سنت کو زندہ کرتے ہیں کہ اکیلا پڑھنے سے بہتر دو لوگ یا اس سے زیادہ لوگ جب مل کر ایک جگہ پڑھتے ہیں تو جو دلی سکون اور رحمتوں کا نزول اس جگہ یا گھر پراور وہاں بیٹھنے والوں پر ہوتا ہے ۔
رمضان روزہ کھانا پینا ترک کرنے اور نفسانی خواہشات سے دور رہنے کے ساتھ تمام اخلاقی برائیوں سے بچنے کی تربیت کرتا ہے اور یہ مہینہ قرآن کی تلاوت کرنے کی ترغیب دیتا ہے کہ تلاوت قرآن کے بغیر تو روزہ ایسا ہے جیسے پانی کے بغیر گلاس ،بینائی کے بغیر آنکھیں جو لوگ قرآن نہیں بھی پڑھے ہوۓ ہوتے وہ بھی قرآن کو سننے کی آرزو کرتے ہیں ،چاہے تروایح پڑھ کر سنیں یا قرآن کی محفل میں جاکر سننے کی کوشش کریں اور اللہ اس کی کی ہدایت بھی انہیں ہی دیتا ہے جو ہدایت مانگتے ہیں۔ ۔
تو رمضان کی خاصیت بھی یہ ہی ہے کہ چاند نظر آتے ہی رمضان کا مہینہ ہر طرف قرآن کی تلاوت سے معمور نظر آنے لگتا ہے ،ہر گھر ہر مسجد اور گلی بازار میں بھی تلاوت کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔
خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جو اپنی ساری مصروفیات کو ترتیب دے کر قرآن کو اکیلے پڑھنے کے بجاۓ اجتماعیت سے مل بیٹھ کر پڑھنے کی پوری کوشش کرتے ہیں اور جو سب کے ساتھ ایک جگہ پڑھنے سے دینی علمیت میں اضافہ ہوتا ہے ،وہ اکیلے پڑھنے سے کبھی نہیں ہوسکتا تو اللہ کرے ہر فرد اس بات کو سمجھ لے کہ رمضان میں روزے رکھنے کی فضیلت میں اضافہ قرآن سے جڑنے کی وجہ سے ہوتا ہے ۔




































