
اسد احمد
پاکستان کی پہلی لاہور میٹرو27 کلومیٹر طویل ہے اور یہ صرف 11ماہ میں مکمل ہوئی ۔۔
23 کلومیٹر طویل اسلام آباد میٹرو پر 13ماہ میں بسیں چل پڑيں ۔۔
ملتان میٹرو 18.5 کلومیٹر طویل ہے اور یہ 20 ماہ میں مکمل ہوئي ۔۔
26 کلوميٹر طويل پاکستان کي مہنگي ترين پشاور میٹرو پر تمام تر تاخیر کے باوجود 2سال 10مہینے میں بسیں رواں ہوگئيں ۔۔
آبادي کے اعتبار سے 3 کروڑ سے زائد نفوس پر مشتمل کراچی کے سامنے پنڈی، ملتان یا پشاور جیسے چھوٹے چھوٹے شہروں کا کیا مقام ۔۔
پاکستان میں اگر کہیں سب سے پہلےماس ٹرانزٹ منصوبہ مکمل ہونا چاہیےتھا تو وہ کراچی تھا مگر ستم دیکھيے جس شہر سے آخری 2 سالوں میں 49 کھرب 60ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا وہاں اب 6سال مکمل ہونے کو ہيں مگر سرجانی ٹاؤن سے ٹاور تک جانے والی گرین لائن نامکمل ہے ۔۔۔ کیوں؟ آخر کیوں ۔۔ ؟
گرین لائن بس پراجيکٹ کا آغاز فروری 2016 میں نواز شریف حکومت نے اس اعلان کے ساتھ کیا تھا کہ اسے 14ماہ ميں مکمل کرليا جائے گا ۔۔ يقيناً پہلے ایک سال بہت تیزی سے کام ہوا، مگر ڈیڈلائن گزر گئی اور پراجيکٹ مکمل نہ ہوسکا ۔۔ مئی 2018میں ن لیگ کی حکومت ختم ہوئی تو سرجانی ٹاؤن سے گرومندر تک کام تقريباً مکمل ہوچکا تھا ۔۔۔
اگست 2018 میں مرکز ميں کراچی سے 14سیٹیں جیتنے والي پی ٹی آئی کی حکومت بنی ۔۔ پی ٹی آئی کو صرف زیر تعمیر گرومندر سے نمائش کے درميان انڈر پاس مکمل کرنا تھا جو حد سے حد 6ماہ کا کام تھا ، مگر آج پی ٹی آئی کو 3سال سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے مگر گرین لائن بس نامکمل ہے ۔۔ صرف 40 بسيں بھي منگوانے ميں بھي 3سال کا عرصہ لگ گيا ۔۔
فروري 2016ميں جب گرین لائن پراجيکٹ پر کام شروع ہوا تو اسی وقت یہ اعلان بھی کردیا گیا تھا کہ معمار موڑ سے ٹاور تک بلیو لائن پراجيکٹ پر کام شروع نہیں ہوسکا اس لیے گرین لائن بس ہی ٹاور تک جائے گي ورنہ منصوبے کی افادیت ختم ہوجائے گی ۔۔ يوں منصوبے کي لاگت 16ارب سے بڑھ کر 24 ارب تک پہنچ گئی ۔۔
آج 6 سال بعد ٹاور جانا تو درکنار نمائش تک بھي کام نامکمل ہے ۔۔ کراچي کے عوام سے کھربوں روپے ٹیکس وصول کرنے والي وفاقي حکومت یہ جواب دینے کو تیار نہیں کہ 6 سال بعد بھی یہ منصوبہ ٹاور تک کیوں نہیں پہنچ سکا ۔۔ ؟؟ اب خبر گرم ہے کہ گرین لائن ٹاور نہیں بلکہ جامع کلاتھ تک ہي جاسکے گی ۔۔
یہ تو کراچی سے کھربوں روپے وصول کرنے والی ن لیگ اور پی ٹی آئی کي حکومتوں کا کارنامہ ہے دوسري طرف سندھ حکومت کا عالم یہ ہے کہ وہ اس عرصے میں فقط چار کلومیٹر طويل اورنج لائن بھي اب تک مکمل نہیں کرسکی ۔۔
بلاشبہ کراچی کو دھوکا دینے کے معاملے ن لیگ ، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی میں سخت مقابلہ ہے ۔۔۔ یقین نہیں آتا تو کراچی سرکلر ریلوے کا حال ہي دیکھ لیں ۔۔
پہلے عارف علوي نے لوکل ٹرين کا افتتاح کيا ، پھر شيخ رشيد نے کراچي سرکلر ريلوے کا باقاعدہ افتتاح کيا ۔۔ مگر اب وزيراعظم جلد منصوبے کا سنگ بنياد رکھنے آرہے ہیں ۔۔




































