
ثمین سجاد
رنگ نو کے تحت مقابلہ مضمون نویسی 2023میں ضلع بہاولپور پنجاب سے اول پوزیشن حاصل کرنے والی تحریر
ہم لائےہیں طوفان سے کشتی نکال کے
اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
قربانی کیا ہوتی ہے؟ اپنی کوئی بہت ہی عزیز چیز کو خودسے دور کر دینا یا آنے والے حالات کو بہت اچھا بنانے کے لئے خود منظر سے نکل جانا؟ ۔ قربانی ایک ایسا لفظ ہے جس کےتاریخ کے اوراق کالے پر گئے ہیں۔ یہ لفظ خود میں سمندر کی سی وسعت رکھتا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ قربانی کے سمندرمیں ڈوبنے والا ہرفرد وہ گوہر بن کے نکلا ہے، جس سے آنے والی نسلوں کی قسمتیں سنور گئیں ۔ ایک ایسی ہی قربانی کی داستان ہمیں قیام پاکستان کے وقت بھی ملتی ہے۔ اگر ہم نسیم حجازی کی تصنیف "خاک اور خون" پڑھیں تو اس میں ایک مکمل منظر تخلیق کر دیا گیا ہے۔ قربانیوں کی ایک داستان رقم کر دی گئی ہے۔
کسی ماں نے بیٹا کھودیا تو کسی بہن نےاپنا بھائی۔کسی بد نصیب بچےنےاپنا پوراخاندان ،اپنا پوراآنگن گنوا دیا۔ عورتوں کی عصمتوں کو سر بازار نیلام کردیا گیا۔ جب پاکستان کی ریاست تخلیق کی تو مشن بہت عظیم تھا۔ مگر وہ عظیم مشن، وہ عظیم مقصد آج خودکش دھماکوں اور بدترین ٹریفک کے دھویں میں کہیں کھو سا گیا ہے۔آج 75 سال گزر گئے،پھر بھی ہم ظلم اورناانصافی کے کنویں کی تہہ میں کہیں پڑے ہیں۔ کسی کا کوئی پرسان حال نہیں۔ اگر ہم آج بھی پاکستان کی طرف ہجرت کر کے آنے والے کسی مہاجر کی داستان سنیں یا پڑھیں تو دکھ کی اتھاگہرائیوں میں ڈوب جاتے ہیں تو سوچیں جن پربیتی وہ کس قدر کرب کا شکار ہوئے ہونگےپر انہوں نے یہ ظلم اور بربریت اس لئے سہا کہ وہ آنے والی نسلوں کی آزادی کے ضامن بن سکیں مگر افسوس!!! ہم نے حالات کو بہتر بنانے کی بجاۓ اور بگاڑ دیا۔ جس دیس کی کورٹ کچہری میں انصاف ٹکوں پہ بک رہا ہو۔ جہاں اشراف کو ان کے ظلم کی سزا نہ ملے اور مظلوم بے قصور ہی پس جاۓ، اس دیس کے ہر لیڈر پہ سوال اٹھانا واجب ہے۔ فکر کی دھوپ میں بیٹھ کے کسی دن یہ سوچیں کہ یہ بہترین سرزمین بنی ہی پھلنے پھولنے کے لئے تھی۔ پھر اس کی خرابی کے ذمے دار ہم کیوں بنتے جارہے ہیں؟ 14 اگست ایک ایسا دروازہ ہے جس کے پار دو دنیائیں ہیں۔ ایک دنیا جہاں بے رحم لوگوں کاراج تھا، دوسری جہاں امن اور انصاف ہونا تھا مگر افسوس اس کو بھی ظلم اور ناانصافی کا گڑھ بنا رہے ہیں۔ خدارا کوئی تو فرق رہنے دیں تاکہ ہم ظلم اور ناانصافی کی اس تنگ گلی سے نکل کے انصاف کے دائرہ کار میں داخل ہو سکیں۔ ہم مغربی تہذیب پر چلتے رہے اور مغرب کے لوگوں نے ہماری تہذیب پر چل کے اپنی دنیا بدل لی۔ ہم سیاستدانوں کے پیچھے پڑے رہے اور انہوں نے ہمیں بیچ کے کھا لیا۔
اصول بیچ کہ مسند خریدنے والو
نگاہ اہل وفا میں بہت حقیر ہو تم
وطن کا پاس نہ تمہیں تھا، نہ ہو سکے گا کبھی
تم اپنی حرس کے بندے ہو، بے ضمیر ہو تم
کبھی بھی قوموں کی زندگی میں کوئی خضر نہیں آتا۔ اپنی محنت آپ کے تحت سب کو کام کرنا پڑتا ہے اور جو قومیں ایسا نہیں کرتیں وہ اپنی سنہری تاریخ کھو کر زوال کے اندھیروں میں ڈوب جاتی ہیں۔




































